رات کے سناٹے میں اسرائیلی بمباری، خواتین، بچوں سمیت73 فلسطینی شہید
غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے:چین، 20 لاکھ فلسطینی بھوک سے مرنے کے قریب : عالمی ادارہ صحت، امن کی امیدیں ختم :قطر، انسانی صورتحال ناقابل قبول :یورپی یونین
غزہ:(ویب ڈیسک) رات کے سناٹے میں اسرائیلی بمباری کے باعث خواتین اور بچوں سمیت73 فلسطینی شہید ہو گئے ، شہدا میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی پناہ گاہ پر حملہ کیا ، اسرائیلی بمباری میں رہائشی گھروں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں اور فاقہ زدہ عوام کو کھانا فراہم کرنے والےمراکز کو بھی نشانہ بنایا۔
ان حملوں میں 73 بچے اور خواتین شہید ہوئیں، جو ایک منظم اور مکمل نسل کشی کا واضح ثبوت ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے ایک سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور یہ فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے۔ فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرنا ناقابل قبول ہے اور چین اس جبری قبضے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
سعودی عرب نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقے کے بڑے حصے پر قبضے میں توسیع قرار دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مسلسل جنگ اور خوراک کی ترسیل کی گئی اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں بیس لاکھ فلسطینیوں کو بھوک سے مرنے کا خطرہ لاحق ہے۔
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے امن کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں جو گزشتہ ہفتے اسرائیلی نژاد امریکی یرغمالی ایڈان الیگزینڈر کی رہائی کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔
یورپی یونین سربراہ ارسولا وان ڈیر لین نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی صورتحال ناقابل قبول ہے اس لیے غزہ میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی ختم کی جائے اور فلسطینیوں تک امدادی سامان کی رسائی ممکن بنائی جائے۔غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے ایک اور فوجی کی ہلاکت ہو چکی ہے، جب کہ دیگر متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی سرکاری تعداد 860 ہو چکی ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہے، شہریوں، بچوں، عورتوں کو بلا امتیاز شہیدکرنا، یہ سراسر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی پر اسرائیل کو یورپ کی بین الاقوامی ثقافتی تقریبات سے باہر کرنے کی تجوز دی ہے ۔
سویڈن نے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی ہے، وزیر خارجہ ماریہ مالمر سٹینر گارڈ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اگر اس قبضے اور فتح کا مطلب الحاق ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوگا ۔ سویڈن اپنے اس عقیدے پر قائم ہے کہ غزہ کے علاقے کو تبدیل یا کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔



