قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب میدانِ جنگ اور میدانِ کھیل یکساں طور پر اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ 17 مئی کو راولپنڈی کرکٹ میں پاکستان سپر لیگ (PSL) کا دوبارہ آغاز، ایک قومی فتح اور حوصلے کی علامت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔
کرکٹ برصغیر میں ایک محض کھیل سے بڑھ کر جذباتی اور تہذیبی پہچان بن چکی ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں جب بھی تناؤ بڑھتا ہے، کرکٹ اکثر سفارتی ہتھیار یا امن کا پیغام بن کر سامنے آتی ہے۔ 8 مئی کو راولپنڈی کے علاقے میں بھارتی ڈرون کا مار گرایا جانا، دراصل ایک دفاعی کارروائی تھی جس نے دشمن کو واضح پیغام دیا: "یہ پاکستان ہے، یہاں ہر محاذ پر جواب ملے گا۔” اس واقعے کے بعد اسی مقام پر ہونے والا پی ایس ایل میچ ملتوی ہوا، لیکن قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت یہ فیصلہ خوش آئند تھا۔
پاکستانی کھیل کے میدان میں وطن پرستی کا اظہار ہر موقع پر کرتے ہیں۔ 17 مئی کو جب راولپنڈی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کا میلہ دوبارہ سجا تو یہ صرف ایک کھیل کا آغاز نہ تھا، بلکہ یہ ایک قومی عزم، جذبے اور اتحاد کا مظہر تھا۔ شائقین کرکٹ نے بھرپور جوش و خروش سے ٹیموں کا استقبال کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم نہ صرف اپنے دفاع میں چٹان ہے بلکہ اپنے تفریحی اور سماجی میل جول کو بھی بحال رکھ سکتی ہے۔
جہاں ایک طرف بھارتی میڈیا نے دھرم شالا کے واقعے کے بعد غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے خوف کا ماحول بنایا، وہیں پاکستان میں پی ایس ایل کے لیے آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستانی سیکیورٹی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے۔ ان کے بیانات ایک واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اب ایک محفوظ ملک بن چکا ہے، جہاں بین الاقوامی کھلاڑی خود کو ہر لحاظ سے محفوظ سمجھتے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ موازنہ بھی ناگزیر ہے۔ جنگی تناؤ کے بعد آئی پی ایل میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی ہچکچاہٹ، اور پی ایس ایل میں ان کی بھرپور شرکت، بھارت کے داخلی اور خارجی سیکیورٹی بیانیے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پی ایس ایل کا تسلسل، پاکستان کے ریاستی اداروں، خاص طور پر پاک فوج اور پی سی بی کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے، جس نے دنیا کو دکھایا کہ کرکٹ صرف کھیل نہیں، قومی وقار کا استعارہ بھی ہو سکتی ہے۔
جن شائقین نے 8، 9 اور 10 مئی کے لیے ٹکٹ خریدے تھے، اُن کے لیے پی سی بی کی جانب سے متبادل انتظامات نہ صرف خوش آئند تھے بلکہ ایک عوام دوست قدم بھی تھا۔ یہ فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے عوامی خوشی کو کس طرح ممکن بنایا جا سکتا ہے، خواہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
25 مئی کو قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کا فائنل ہونا ایک عظیم قومی جشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملتان سلطانز جیسے مضبوط یونٹ کا پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونا اور نئی ٹیموں کا ابھرنا، کھیل کی غیر یقینی کیفیت کا ثبوت ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر جو بات نمایاں ہے، وہ ہے پاکستان کا مثبت عالمی تاثر، کرکٹ کے ذریعے اپنی پرامن، باوقار اور مضبوط شناخت کا اجاگر ہونا ایک پرامن ملک کی علامت ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس طرح ہماری افواج نے دشمن کو سرحدوں پر منہ توڑ جواب دیا، اسی طرح کھیل کے میدان میں بھی ہم نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے، جو نہ صرف حملوں کا مقابلہ کرنا جانتی ہے بلکہ جشن منانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ یہ پی ایس ایل صرف کرکٹ کا ایونٹ ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کا جشن بھی ہے۔
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



