امریکہ بھرمیں امیگریشن پالیسی کیخلاف مظاہرے شروع،مزید2ہزارنیشنل گارڈزتعینات
لاس اینجلس میں چھاپوں اور درجنوں تارکین وطن کی گرفتاری کیخلاف ردعمل میں شدت آگئی، ریاست کیلیفورنیا کا ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ دائر کرنیکا اعلان،صدرکا گورنر کی گرفتاری کا مطالبہ
نیویارک:(ویب ڈیسک ) امریکہ میں امیگریشن پالیسی کیخلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جبکہ مزید2ہزارنیشنل گارڈزتعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔لاس اینجلس میں چھاپوں اور درجنوں تارکین وطن کی گرفتاری کیخلاف ردعمل میں شدت آگئی، ریاست کیلیفورنیا نے ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ دائر کرنیکا اعلان کردیا جبکہ صدرٹرمپ نے گورنر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ٹرمپ کی حکومت کیخلاف ہونے والے مظاہرے ملک بھر میں پھیلنا شروع ہوگئے ہیں،کیلیفورنیا کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جن میں لاس اینجلس کے جنوب مشرق میں واقع سانتا آنا اور ساحل کنارے واقع سان فرانسسکو ، بوسٹن، پٹسبرگ، شارلٹ، سیئٹل، واشنگٹن ڈی سی، اور دیگر کئی ریاستوں جیسے کنیکٹیکٹ اور نیویارک کے شہروں میں بھی مظاہرےکئے گئے۔
لاس اینجلس کے وسطی علاقے میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کر دیں، مظاہرین کی جانب سے اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکی گئیں، پولیس نے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کو کہا ہے۔یو ایس ناردرن کمانڈ نے اعلان کیا کہ لاس اینجلس کے علاقے میں وفاقی عملے اور املاک کی حفاظت کے لیے تقریبا 700 میرینز کو متحرک کیا گیا ہے۔
دریں اثناریاست کیلیفورنیا نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کانیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اقدام غیرقانونی ہے، ریاستی خودمختاری کو روند دیا۔ کیلیفورنیا کے اٹارنی جرنل روب بونٹا نے بتایا کہ ریاست کی جانب سے مقدمے کو دائر کرنے کا فیصلہ امریکی صدر کی جانب سے ریاستی نیشنل گارڈز کو غیر قانونی طور پر وفاق کا حصہ بنا کر لاس اینجلس میں تعیناتی پر کیا گیا ہے۔
کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گورنر گیون نیوسم کو بائی پاس کرکے ریاستی خودمختاری کو روند دیا۔روب بونٹا نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام غیرقانونی ہے اور اس سے مظاہروں کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ضروری نہیں تھا، یہاں بغاوت کا کوئی خطرہ نہیں، غیر ملکی مداخت کا خطرہ امکان نہیں، ایسی کوئی نااہلی بھی نہیں تھی جو وفاقی حکومت کو وفاقی قوانین کے اطلاق پر مجبور کرتی۔
مزید براں لاس اینجلس میں امیگریشن پالیسی کے خلاف پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کو گرفتار کر لیا جائے۔ ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ پر لاس اینجلس میں گزشتہ چار دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، گاڑیاں جلائی گئیں، اور مرکزی شاہراہیں بند کی گئیں۔
وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے حق میں جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال مزید سخت اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔گورنر نیوسم نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دے کر وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا: یہی کچھ ٹرمپ چاہتا تھا، ہم اس غیرقانونی اقدام کے خلاف عدالت جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا اگر میں ٹام ہومین کی جگہ ہوتا، تو گورنر کو گرفتار کر لیتا۔ یہ ایک بہترین کام ہو گا۔ٹرمپ کی ون بگ بیوٹیفل بل قانون سازی بھی خبروں میں ہے، جس میں بارڈر سیکیورٹی بڑھانے، ٹیکس میں کمی، اور گرین انرجی منصوبوں کو ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔لاس اینجلس پولیس کے مطابق، اتوار کے روز مزید 10 افراد گرفتار کیے گئے، جب کہ ہفتہ کو 29 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ڈاؤن ٹاؤن کو غیرقانونی اجتماع کا علاقہ قرار دے دیا۔



