لاہور :(بیوروچیف )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے نصیر احمد و دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پردو ملزمان کی عبوری ضمانت خارج باقی کی منظور کرلیں، عدالت نے ایس پی سدرہ خان پر بھی اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیاتھا لیکن انھوں نےتفتیش مکمل کی نہ عدالت آنا پسند کیا ۔
ڈی ایس پی نے گزشتہ روز بتایا ایس پی انویسٹی گیشن اقبال ٹاؤن سدرہ خان کی طبیعت ناساز ہے، عدالت نے شوکاز نوٹس جاری کیا تو ایس پی صاحبہ تشریف لے آئیں ، اگر خاتون ایس پی کی طبیعت اتنی خراب تھی تو پھر کیسے عدالت آگئیں ؟
خواتین کی معاشرے میں عزت ہے اس لئے ڈائریکٹ آرڈر نہیں کیا ،بغیر یونیفارم پیش ہونے پر عدالت نے قائم مقام ایڈیشنل آئی جی اظہر اکرم پر اظہار ناراضگی کیا ،قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور عدالت سے معافیاں مانگتے رہے ،عدالت کے استفسار پر کہا انویسٹی گیشن پنجاب میں تعینات ہوں اس لیے پولیس رولز کے مطابق یونیفارم سے استثنیٰ حاصل ہے ۔
عدالت نے ریمارکس دیئے پولیس میں کوئی ڈسپلن بھی ہوتا ہے، ججز بھی ہائیکورٹ میں گاؤن پہن کر بیٹھتے ہیں ، اگر بغیر پولیس یونیفارم پیش یا ڈیوٹی کی اجازت ہے تو ہمیں رولزدکھا دیں ، اگر ایڈیشنل آئی جی کو پولیس یونیفارم سے استثنیٰ ہے تو باقی پولیس کو بھی ہونا چاہیے ، قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن اظہر اکرم نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا میں یونیفارم سے استثنٰی کے متعلق پولیس رولز دوبارہ دیکھ لیتاہوں ۔



