لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)پنجاب ایجوکیشن انیشیٹو مینیجمنٹ اتھارٹی(پی ا ی آئی ایم اے) میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیا ں سامنے آگئیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین PEIMAنے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں،رپورٹ کے مطابق امجد حسین کی PEIMA میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعیناتی غیر قانونی اور قواعد کی صریح خلاف ورزی پر مبنی قرار دی گئی ہے،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امجد حسین مسلسل مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہوتے رہے ہیں۔
امجد حسین کی اصل تعیناتی بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ (BS-17) ہوئی تھی مگر انہوں نے آج تک تدریسی خدمات سرانجام ہی نہیں دیں۔ 14 سالہ سروس میں ان کا کوئی تعلیمی نتیجہ ریکارڈ پر نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ انتظامی پوسٹوں پر قابض رہے۔ ان پر ٹی اے/ڈی اے، پروٹوکول، اور دیگر مراعات کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ امجد حسین نے "ایمپل گلوبل انٹر پرائزز” کے نام سے ایک جعلی کمپنی بنا کر PEIMA میں اسے رجسٹر کرایا، جو کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے قانوناً ممنوع ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں ان کے خلاف فائل نمبر SO(ER-II)6-13/2021 کے تحت ریکارڈ موجود ہے، جسے وہ اب تک چھپا کر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے PEIMA میں پالیسی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے معیاری (satisfactory) اسکولوں کو واپس لے لیا اور 50 سے کم نمبر حاصل کرنے والے افراد کو دوبارہ اسکول الاٹ کر دیئے جس سے ادارے کا معیار شدید متاثر ہوا۔
سی این این اردوڈاٹ کام کے موقف کیلئے رابطہ کرنے پر امجد حسین نے کہا کہ میرا ایمپل گلوبل کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ انہوں نے فائل نمبر SO(ER-II)6-13/2021کے حوالے سے کہا کہ اس میں شکایت کنندہ پیش نہیں ہوا تھا ۔



