انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکاروبار

پاکستان کی ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت،دونوں ممالک کا تجارتی حجم سالانہ 8 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق

اسلام آباد،(ویب ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کےجوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے، ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری قوت حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے، پاکستان ایران کے حق کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے، اسرائیل کی ایران پر جارحیت کا کوئی جواز نہیں تھا، ایرانی قیادت نےدلیرانہ اندازمیں دشمن کےخلاف مضبوط فیصلےکیے۔

فائل فوٹو
اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نور خان ایئر بیس پر ایرانی صدرمسعودپزشکیان کا استقبال کر رہے ہیں

اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ ایران ہمارا انتہائی برادر اور دوست ملک ہے، ایران پراسرائیلی جارحیت کےخلاف پاکستان کےعوام نے بھرپور مذمت کی۔

وزیراعظم نے کہاکہ اسرائیل کی ایران پر جارحیت کا کوئی جواز نہیں تھا، جنگ میں شہید ہونے والوں کے بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں، جنگ میں زخمی ایرانی بہن بھائیوں کی جلدصحتیابی کےلیےدعاگوہوں۔

شہباز شریف نے کہاکہ جنگ میں ایرانی فوج اور عوام نے ثابت قدم کا مظاہرہ کیا، ایرانی قیادت اورفوج نےبہادری سےاسرائیلی حملوں کا مقابلہ کیا، ایرانی قیادت نےدلیرانہ اندازمیں دشمن کےخلاف مضبوط فیصلےکیے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان پرامن مقاصد کیلئے ایران کےجوہری پروگرام کی حمایت کرتاہے، پاکستان ایران کے حق کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے، مفاہمتی یادداشتیں جلد معاہدوں میں تبدیل ہوں گی،10ارب ڈالر تجارتی ہدف جلد حاصل کریں گے،

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف پاکستان اور ایران کی سوچ یکساں ہے، خطے میں امن اور ترقی کی شاہراہیں کھولنی ہیں، خطے میں ترقی اور خوشحالی پائیدار امن سے ہی ممکن ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہاکہ اسرائیل فلسطینیوں کے لیےخوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہاہے، غزہ میں فوری طور پر سیز فائر ہونا چاہیے، ایرانی قیادت نے فلسطین اور غزہ کےلیے بھرپور آواز اٹھائی، دنیا کو مظلوم فلسطینیوں کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی غزہ سے مختلف نہیں، کشمیر کی وادی مظلوم کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوچکی ہے۔

امت مسلمہ کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے، ایرانی صدر
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ اسرائیل خطے کو عدم استحکام کاشکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، غزہ، لبنان اور شام میں جارحیت اسرائیلی مذموم عزائم کا حصہ ہیں، امن کے لیے مسلمان ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہاکہ سلامتی کونسل کو اسرائیلی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت پر دل سےشکرگزار ہیں، عصرحاضر میں امت مسلمہ کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔

ایرانی صدر نے کہاکہ پاکستان اور ایران کےتعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، علامہ اقبال کی شاعری ہمارے لیے بھی مشعل راہ ہے، علامہ اقبال کی شاعری کی اساس امت مسلمہ کا اتحاد ہے۔

مہمان صدر نے کہا کہ پاکستان کےساتھ اچھےتعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، دوطرفہ تعلقات کو مختلف جہتوں میں آگے بڑھارہے ہیں، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کافروغ ترجیح ہے، مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اہمیت کا حامل ہے۔

ایرانی صدر نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے اور مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پرعزم ہیں، انہوں نے کہاکہ علاقائی امن اور ترقی کا آپس میں گہرا تعلق ہے، سرحدی سیکیورٹی کوبہتربنانےکےلیے دوطرفہ تعاون جاری ہے۔

دونوں ملکوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی دستاویزات کا تبالہ
قبل ازیں پاکستان اور ایران کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی دستاویزات کا تبادلہ ہوا، تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی شرکت کی۔

سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں علیحدہ علیحدہ معاہدوں کی دستاویز کا تبادلہ ہوا جبکہ سیاحت، ثقافت، ورثہ، میٹرالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں معاہدوں کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔

دونوں ملکوں کے درمیان میری ٹائم سیفٹی اینڈ فائر فائٹنگ، عدالتی معاونت اور اصلاحات سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں کی دستاویز کا بھی تبادلہ ہوا۔

اس موقع پر ائیر سیفٹی معاہدے کے ذیلی ایم او یو کی دستاویز کا تبادلہ بھی کیا گیا جبکہ دونوں ملکوں میں طے پانے والے معاہدوں میں مصنوعات کے معیارات پر عملدرآمد اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر عمل کے لیے مشترکہ اسٹیٹمنٹ کی تیاری کے معاہدوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

دریں اثنا ایران کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، پاک فوج کے دستے نے ایرانی صدر کو سلامی پیش کی جبکہ دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت کی ملاقات میں باہمی تجارت کے حجم کو سالانہ 8 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق اس اتفاق رائے کو ’اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے قریبی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدے کر چکے ہیں۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔

وزارت کے بیان کے مطابق اعلیٰ سطح کی اس ملاقات میں دونوں ممالک کی جانب سے تجارت میں تیزی لانے، سرحدی رکاوٹیں دور کرنے اور ترجیحی شعبوں میں اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کرنے کے عزم کو ایک بار پھر مضبوط کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جام کمال نے تصور پیش کیا کہ اگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت آئندہ برسوں میں با آسانی 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی حد عبور کر سکتی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں، جن میں وفاقی اور صوبائی چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان شامل ہوں، تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری سہولت کاری پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ ماڈل بیلا روس سمیت دیگر جگہوں پر کامیابی سے آزمایا ہے، آئیے ایران کے لیے بھی یہی طریقہ اپنائیں، ان شعبوں سے آغاز کریں جہاں باہمی فائدے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔

وزرا نے موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر بھی اتفاق کیا، وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ خطے میں تجارت کی صورت میں جو فوائد آسیان ممالک نے حاصل کیے، اسی طرح پاکستان اور ایران کو بھی چاہیے کہ جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیہ ایک فائدہ ہے، پاکستان اور ایران کو فاصلے کے اس رعایتی فائدے کو استعمال کرنا چاہیے، اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا تو وقت اور لاگت دونوں کے نقصان کا سامنا ہوگا۔

محمد اتابک نے پاکستان سے ایران کو برآمدات بڑھانے کے لیے جاری بات چیت کا ذکر کیا اور حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں پر جلد عملدرآمد کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجر اور صنعت کار تیار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اب انہیں صرف ہماری طرف سے ایک واضح اور مستقل سہولت کاری کا نظام درکار ہے۔“

وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ دو طرفہ فوائد سے آگے بڑھ کر یہ رابطہ ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں تک پھیل سکتا ہے، جو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button