لاہور:(عقیل انجم اعوان)دنیا کی تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی بقا اور ترقی کا راز صرف ہتھیاروں یا طاقتور قلعوں میں نہیں چھپا ہوتا بلکہ اصل قوت کتاب کے اوراق میں سانس لیتی ہے۔ قلم اور کتاب ہی وہ ہتھیار ہیں جنہوں نے قوموں کے مقدر بدلے، غلامی کی زنجیریں توڑیں اور انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشنی میں لا کھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی زندان کی دیواروں کے اندر علم و مطالعہ کی شمع روشن کی جاتی ہے تو وہ دیواریں محض قید و بند نہیں رہتیں بلکہ اصلاح، تربیت اور انسان سازی کے مراکز بننے لگتی ہیں۔اسی تناظر میں چند روز قبل لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل کا بین الاقوامی شہرت یافتہ موٹیویشنل اسپیکر، مصنف اور سماجی رہنما قاسم علی شاہ نے دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ افسران، ماہرین تعلیم اور علمی اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ رسمی طور پر ایک تقریب منعقد ہو بلکہ اصل پیغام یہ تھا کہ جیل صرف سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ قیدیوں اور عملے دونوں کی فکری تربیت اور اخلاقی اصلاح کے مواقع فراہم کرنے کا ادارہ بھی ہے۔قاسم علی شاہ نے یونیورسٹی آف لاہور کی جانب سے فراہم کردہ بک ریکس اور قلم فاؤنڈیشن کی عطیہ کردہ کتب سے لائبریری کا افتتاح کیا۔ یہ کتابیں جیل کے عملے اور وارڈر لائن کے لیے مخصوص کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں مطالعہ کے ذریعے اپنے شعور اور رویوں کو نکھار سکیں۔ تقریب میں ڈی آئی جی (انسپکشن) نوید رؤف، اے آئی جی (سیکورٹی و ڈسپلن) میاں محمد انصر، چیئرمین قلم فاؤنڈیشن علامہ عبد الستار عاصم، ڈی آئی جی لاہور ریجن محسن رفیق اور سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل لاہور ظہیر ورک بھی شریک تھے۔ اس اجتماع کی اہمیت اس بات سے دوچند ہو گئی کہ یہ محض سرکاری تقریب نہیں تھی بلکہ علم و کتاب کے فروغ کا عملی اعلان تھی۔

قاسم علی شاہ کی شخصیت اور فکری جدوجہد
قاسم علی شاہ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نوجوان نسل کے دلوں میں امید جگائی اور تعلیم و تربیت کے نئے راستے کھولے۔ وہ ایک ایسے خطیب اور معلم ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں اور لیکچرز کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کی گفتگو کا محور ہمیشہ یہ رہا کہ انسان اپنی زندگی کو مثبت انداز میں ڈھال سکتا ہے بشرطیکہ وہ مطالعہ اور خود آگاہی کی راہ اختیار کرے۔
لاہور کی جیل میں ان کا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ صرف یونیورسٹیوں، کالجوں یا کارپوریٹ اداروں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں۔یہ ایک نہایت بصیرت افروز پہلو ہے کہ وہ اس دن کتاب کو مرکزِ توجہ بنا کر آئے کیونکہ کتاب ہی وہ شے ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی بہترین دوست مہیا کرتی ہے۔ مشکلات میں رہنمائی دیتی ہے اور قید خانوں کے اندھیروں میں بھی دل کو روشنی عطا کرتی ہے۔
جیل اور مطالعہ: ایک انوکھا تعلق
عام تاثر یہ ہے کہ جیل سزا کا مقام ہے جہاں صرف مجرموں کو بند رکھا جاتا ہے۔ مگر جدید سماجی فکر یہ کہتی ہے کہ جیل اصلاح کا مرکز ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی جیلوں کو لائبریریوں، ورکشاپس اور تعلیمی مراکز میں بدل دیا ہے تاکہ قیدی محض اپنی سزا کاٹ کر نہ نکلیں بلکہ ایک بہتر انسان اور کارآمد شہری بن کر سماج میں واپس آئیں۔پاکستان میں یہ تصور ابھی پوری طرح رائج نہیں ہو سکا لیکن لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں قاسم علی شاہ کی عملی کوششیں اسی سمت ایک قدم ہے۔ قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر جیل کے عملے اور قیدیوں کے لیے مطالعہ کو آسان بنایا جائے تو یہ نہ صرف ان کی اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنے گا بلکہ ذہنی سکون اور مثبت سوچ بھی پیدا کرے گا۔کتاب کا ایک ورق بھی کئی بار انسان کی سوچ بدل دیتا ہے۔ بہت سے مشہور فلسفی اور مفکر خود جیلوں میں رہے اور وہاں انہوں نے اپنی زندگیاں بدل ڈالیں۔ سقراط، نیلسن منڈیلا اور ابوالکلام آزاد جیسے کردار اس بات کی روشن مثالیں ہیں کہ قید خانہ اگر کتاب کا ساتھ پائے تو یونیورسٹی سے کم نہیں رہتا۔
قلم فاؤنڈیشن کا کردار
اس تقریب میں قلم فاؤنڈیشن کی شمولیت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ادارہ عرصہ دراز سے پاکستان میں کتاب دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ علامہ عبد الستار عاصم کی قیادت میں قلم فاؤنڈیشن نے ہزاروں کتب شائع کی ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں کو کتابیں فراہم کی ہیں۔ جیل کے لیے کتابوں کا عطیہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم کو صرف اشرافیہ تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ معاشرے کے ہر گوشے میں پھیلانا چاہتے ہیں۔یونیورسٹی آف لاہور کی شراکتاسی طرح یونیورسٹی آف لاہور کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔ ایک بڑی نجی یونیورسٹی ہونے کے باوجود اس نے سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ جیل میں بک ریکس فراہم کرنا محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کا عمل محض یونیورسٹی کی چار دیواری تک محدود نہ رہے بلکہ جیل کے سخت ماحول میں بھی اپنی موجودگی درج کرائے۔
مطالعہ کی اہمیت مطالعہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سکھاتا ہے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایک ملازم یا وارڈر جو روزانہ اپنی ڈیوٹی کے دوران سخت ماحول سے گزرتا ہے، اگر اسے کتاب کا سہارا ملے تو اس کا دل نرم ہوگا، اس کی سوچ وسیع ہوگی اور وہ اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لا سکے گا۔اسی طرح اگر قیدیوں کو بھی مطالعہ کی سہولت میسر آئے تو ان کے اندر احساسِ محرومی کم ہوگا، وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کریں گے اور جیل سے نکل کر معاشرے کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بنیں گے۔معاشرتی اثراتیہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جیلوں کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
مگر اگر ہم وہاں اصلاحی سرگرمیوں کو فروغ دیں تو یہ معاشرے میں جرائم کی شرح کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بن سکتا ہے۔ مطالعہ، تربیت اور تعلیم ہی وہ ہتھیار ہیں جو کسی بھی مجرم کو ایک نیا انسان بنا سکتے ہیں۔اگر ایک قیدی جیل سے نکل کر دوبارہ جرم کی بجائے کوئی ہنر، تعلیم یا مثبت سوچ لے کر نکلے تو یہ پورے معاشرے کے لیے نفع مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاسم علی شاہ جیسے رہنماؤں کے یہ اقدامات محض رسمی دورے نہیں بلکہ ایک بڑے فکری اور معاشرتی انقلاب کی بنیاد ہیں۔
نتیجہ قاسم علی شاہ کا ڈسٹرکٹ جیل لاہور کا یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ جیل صرف قید خانہ نہیں بلکہ درسگاہ بھی بن سکتی ہے۔ کتاب اور مطالعہ کو جیل کی فضا میں متعارف کرانا قیدیوں اور عملے دونوں کے لیے روشنی کی کرن ہے۔ اگر اس اقدام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ جیلیں صرف سزا دینے والی جگہیں نہیں رہیں گی بلکہ معاشرے کے بہتر شہری تیار کرنے والے ادارے بن جائیں گی۔
کتاب وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو اجالے میں بدل دیتا ہے۔ اور جب یہ چراغ جیل کی دیواروں کے اندر جلتا ہے تو یہ اس بات کی نوید ہے کہ معاشرہ ایک نئے عہدِ روشنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ قاسم علی شاہ اور ان کے رفقا کا یہ قدم آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ علم، مطالعہ اور کتاب ہی وہ سچے ہتھیار ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔



