انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکاروبارکالم

بلوچستان کی ترقی،معدنی وسائل کی تلاش اور تحقیق میں بڑی رکاوٹیں(تیسری قسط)

لاہور:(رپورٹ /محمد قیصر چوہان)بلوچستان میں سلی کا سینڈ (Silica Sand) بھی ملتی ہے اور سرمہ (Stibnite= Antimony Sulphide) بھی چمن فالٹ کے ساتھ موجود ہے۔ مندرجہ بالا تمام منرلز پر کم وبیش ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔یہاں ہم بلوچستان کے کوئلے ، تیل اور گیس کے ذخائر کا ذکر کرتے چلیں ۔بلوچستان میں تیل کم اور روایتی (Conventional) گیس کے ذخائر زیادہ ہیں مگر ایسے آثار ہیں کہ غیر روایتی گیس (Unconventional Gas) کے ذخائر بھی بڑی مقدار میں مل سکتے ہیں۔

gas plant

جیسے غازج شیل (Ghazij Shale) قدرتی گیس سے بھرا ہوسکتا ہے اور بہت سی شیل فارمیشنز ہیں ، بلوچستان میں اور بقیہ پاکستان میں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان سے گیس نکال کر ملکی توانائی کا مسئلہ حل نہ کرسکیں۔ بشرطیکہ ہم پوری تندہی اور ایمانداری سے اپنا فرض ادا کریں۔ تیل اور گیس کے سلسلے میں اگر کسی کو دلچسپی ہو تو ان باتوں کو اور آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ توانائی کے سلسلے میں بلوچستان میں کوئلہ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

جی ایس پی کے مطابق ، کوئٹہ ، مچھ ، شاہرگ اور اسپن کاریز کے اطراف میں کوئی712 ملین ٹن کوئلہ موجود ہے اور پاکستان کا60 فی صد کوئلہ بلوچستان پیدا کرتا ہے۔یہ کوئلہ زیادہ تر صوبے سے باہر اینٹوں کے بھٹوں میں جلایا جاتا ہے۔

بلوچستان میں طرح طرح کے منرلز پائے توجاتے ہیں مگر سوائے چند ایک کے جیسے تانبا اور لوہا، بڑی مقدار کے ذخائر کے ثبوت کے لیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے بیرائٹ ، فلورائٹ ، سیسہ اور جست (Lead & Zinc) کے بڑے ممکنہ ذخائر موجود ہوسکتے ہیں۔ قلات سے لسبیلہ تک کی کیرتھر بلٹ میں جیوراسک (Jurassic) زمانے کی( کوئی 20کروڑ برس پرانی)کاربونیٹ چٹانوں میں جو فلورائٹ ، بیرائٹ ، لیڈ اور زنک کے ذخائر ملے ہیں وہ از قسم مسی سیپی وادی یعنی (Mississippi valley type) کہلاتے ہیں۔

balochistan

ان کی جغرافیائی زوننگ کچھ یوں لگتی ہے کہ قلات کی طرف فلورائٹ ملتا ہے اور لسبیلہ کی طرف بیرائٹ ، لیڈ اور زنک۔ سوال یہ ہے کہ قلات سے شمال کی طرف کوئٹہ ، مسلم باغ اور ڑوب کی اسی عمر اور قسم کی چٹانوں میں کیا ہے اور کتنی مقدار میں ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا وجوہات ہیں۔بلوچستان میں معدنی وسائل کی تحقیقات اور تلاش میں ہمیشہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایک تو علاقہ ہی بنجر ، بیابان ، پہاڑی ، صحرائی اور وسیع وعریض ہے جہاں سڑکوں کا کال تھا اور قبائلی سرداروں کی رضا مندی ودوستی کہیں حاصل تھی اور کہیں نہیں۔ پاکستان میں جی ایس پی کے قیام سے لے کر آج تک قبائلی مسائل اور قبائلی جھگڑوں نے ملک وقوم کا بہت نقصان کیا ہے، معصوم جانوں کا زیاں ہوا ہے اور جیولوجسٹ بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔

اس خطے کے لوگ وسائل کی اس سردجنگ کا شکار بھی ہورہے ہیں جو آج کل دنیا بھر میں قدرتی وسائل کے حصول اور بھرپور کنٹرول کے لیے لڑی جارہی ہے۔ اس کے فریقین مشرق ومغرب کی بڑی طاقتیں ہیں۔ ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک کو تیل ، گیس اور کوئلے کے علاوہ صنعتی دھاتوں اور غیر دھاتوں کی ضرورت ہے۔ روس اور برازیل قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں مگر چین اور بھارت اپنی بڑی آبادیوں کی وجہ سے وسائل رکھنے کے باوجود ضرورت مند ہیں اور ایشیاءکے دوسرے ممالک میں ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں وسائل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

دوسری طرف مغربی طاقتیں اپنے روایتی ہتھکنڈوں سے اپنا اثرورسوخ اور سیاسی ومعاشی کنٹرول بڑھانے کی تگ ودو میں لگی رہتی ہیں۔ اس سرد جنگ میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک دونوں طرف کی کھینچا تانی کا شکار ہوتے ہیں۔ افریقہ ، افغانستان اور دنیائے عرب پر مغرب کی یلغار عرصے سے جاری ہے اور ہماری گوادر کی بندر گاہ کی تعمیر اور اندرون ایشیاءکو جاتی ، پھلتی پھولتی تجارتی سڑکوں کے خواب ، سبھی اس جیوپالیٹکس کا شکار نظر آتے ہیں۔ اور اس طرح سے افغانی خزانوں اور بلوچستان کے وسائل کو سمندری راستے سے نکالا جاسکتا ہے۔

مرکزی ایشیاءاور اردگرد کے سارے ممالک کو ہر طرح سے حسب ضرورت الجھایا جاسکتاہے۔ ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد اہل مغرب نے عرب دنیا میں جو بندر بانٹ مچائی تھی اور نئی ریاستیں تشکیل دی تھیں، ان کا خمیازہ اس علاقے کے مسلمان ایک صدی سے بھگت رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان اور دوسری ایشیائی طاقتیں کیا بلوچستان میں ہونے والے کھیل کو روک سکتی ہیں، یا نہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے اور صرف ہم ہی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ، کوئی دوسر ا نہیں۔ یہ مسئلہ سارے ایشیاءکا ہے مگر پہلے ہمارا ہے۔

پاکستان میں ارضیاتی اور ماحولیاتی تعلیم (Earth Sciences and Environmental Science) پرائمری درجہ سے شروع کی جائے اور مڈل سے ہائی سکول پہنچتے ہوئے بچوں کو اپنے وسائل اور ماحولیات کا خوب اندازہ ہوجانا چاہیے۔آج کی دنیا میں، جب دنیا کی آبادی سات بلین سے زائد ہوگئی ہے، یہ علم اور احساس پیدا ہونا بے حد ضروری ہے۔اس کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ارضیاتی مائیننگ اور ماحولیاتی نصاب کا سٹینڈرڈ اور بلند کیا جائے۔

پاکستانی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں کے باہم روابط اور تبادلوں سے ہم اپنا معیار بلند کرسکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے دوران ہمیں اپنے طلبا کی ٹریننگ کا بندوبست متعلقہ انڈسٹری کے تعاون سے کروانا چاہیے۔ اپرنٹس شپ اور’کام پر ٹریننگ‘ کا کوئی بدل نہیں۔ امریکہ میں طلبا تعلیم کے دوران ٹریننگ کے لیے اپنی مرضی کی کمپنیوں میں انٹرن شپ کے لیے جاتے ہیں اور چند ماہ زندگی کے حقیقی مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح بہت سی کمپنیاں بعد میں تعلیم پوری ہونے پر انھیں جاب آفر دے دیتی ہیں اور اس طرح روزگار کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

بلوچستان میں سینڈک اور ریکوڈک جیسے پراجیکٹس سے قطع نظر پاکستانی مائننگ انڈسٹری چھوٹے پیمانے پر گڑھے ، سرنگیں، نالیاں اور کواریاں کھودنے پر مشتمل ہے (یہاں کوئلے کی کانوں کی بات ہم نہیں کر رہے ہیں)۔ایسے کاموں میں ماہر فن افراد کا کال ہے اور مالی فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کمیاب یا نایاب ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سیندک اور ریکوڈک جیسے پراجیکٹس کے ذریعے ہم لوگوں کو روزگار اور سرکار کو آمدنی فراہم کریں اور ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی کروائیں، تاکہ آگے چل کر خود کفیل ہواجاسکے۔

اس مد میں وہ تمام باتیں آتی ہیں جن کی وجہ سے رقص وموسیقی ، گائیکی ، ڈرامہ، آرٹ،پینٹنگ ، تھیٹر، فلم اور بت تراشی میں مسلمانوں نے عموماً اور جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں نے خصوصاً اپنے آپ کو بالکل مفلوج کر رکھا ہے۔ انہی چیزوں سے انسان کی زندگی میں رنگ ہے اور خوبصورتی اور خوشگواری آتی ہے۔ روایتی تنگ نظری اور مذہبی تعصبات کی وجہ سے ہم نے سنگ تراشی کو گل کاری اورجالی کے کام تک ہی محدود رکھا جیسا کہ مغلیہ دور کی عظیم الشان عمارتوں کے کام سے ظاہر ہے۔ اس کے برعکس ہند، چین ، روس اور مغربی دنیا میں آرٹ اور سنگتراشی کے فنون کو عروج پر پہنچایا گیا۔

اٹلی میں مائیکل انجیلو جیسے اساتذہ نے سنگ تراشی میں انسانی جسم کو سنگ مر مر میں ڈھالنے میں حرف آخر کہا۔ کہتے ہیں کہ جب اس نے حضرت دائود کا سنگ مر مر کا مجسمہ مکمل کیا تھا تو وہ اپنے فن پر اس قدر نازاں تھا کہ اپنے تخلیق شدہ مجسمے کے گھٹنے پر ہولے سے ہتھوڑا رکھ کر اس نے کہا تھا کہ ” اب بول “۔یہ شاہکار اٹلی میں آج بھی دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا حسن لازوال معلوم ہوتا ہے۔

نوٹ:اس سلسلے کی پہلی قسط 24ستمبر2025کو بعنوان بلوچستان سونے کی چڑیا،جغرافیائی،معدنی دولت سے مالا مال ،دوسری قسط 26ستمبر کو بلوچستان کے سونا سمیت قیمتی معدنیات اگلتے پہاڑاور اہم علاقے اور تیسری قسط آج 28ستمبر کو شائع کی گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button