انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

عمران سے متعلق افواہیں، گورنرراج،احتجاج ، مذاکرات اورسیاست میں نیا ابال

لاہور:(تجزیہ /میاں حبیب)سیاست میں ایک بار پھر ابال آرہا ہے اور نہ جانے اس ابال کا مقصد کیا ہے۔ معاملہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی کی تبدیلی سے شروع ہوا تھا۔

MIAN HABIB

علی امین گنڈا پور کو تبدیل کرکے سہیل آفریدی کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ ہوا تو علی امین گنڈا پور یا تحریک انصاف کے حلقوں کو اتنا مسئلہ نہ ہوا اور سب نے لیڈرشپ کے فیصلے پر آمین کہا۔ لیکن مقتدر حلقوں نے سہیل آفریدی کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کسی صورت بھی انہیں وزیر اعلی نہ بننے دینے کا اعادہ کیا۔

تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بننے کی باتیں ہوتی رہیں، علی امین گنڈا پور کی جانب سے بغاوت کا عندیہ دیا جاتا رہا، پھر گورنر خیبر پی کے کی جانب سے علی امین کے استعفے کو قبول کرنے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ بالاآخر جب خیبر پختون خواہ کی اسمبلی نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلی منتخب کر لیا اور ان کا ایک بھی ووٹ نہ ٹوٹا تو گورنر نے حلف لینے میں تاخیری حربے استعمال کرنے شروع کر دیئے عدالتی مداخلت اور بلاول بھٹو کی ہدایت پر جب گورنر خیبر پختون خواہ نے سہیل خان آفریدی سے حلف لے لیا تو وفاقی حکومت نے آفریدی کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کے خیبر پختون خواہ اسمبلی کے فیصلے کو تاحال دل سے قبول نہیں کیا۔ اور جو کچھ اب ہو رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی آج تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔

suhail afridi

عدالتی احکامات کو بھی پس پشت ڈالا جا رہا ہے، سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل کے باہر سڑکوں پر خوار کیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ ان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ بیشک اسمبلی نے آپ کو وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے لیکن ہماری نظر میں تم ایک کھلاڑی ہی ہو۔ سہیل خان آفریدی کی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کی وجہ سے عمران خان سے ان کی بہنوں اور باقی لیڈروں کی بھی ملاقات بند ہو گئی ہے اور یہ معاملہ عالمی سطح پر زیر بحث آ گیا ہے۔ عمران خان کی زندگی کے بارے میں بھی افواہیں پھیلنا شروع ہو گئیں۔

imran khan-1

عمران خان تو جیل میں خیریت سے ہیں لیکن پاکستان کی سیاست میں طلاطم برپا ہے۔ عمران خان سے ملاقات دونوں طرف سے انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کسی صورت ملاقات نہیں کرنے دے رہی اور پی ٹی آئی والوں نے اسے زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ کو نہ چلنے دینے کی دھمکی بھی دے ڈالی، پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کرنا تھا جبکہ وفاقی وپنجاب حکومت نے راولپنڈی اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی احتجاج سے ایک روز قبل قومی اسمبلی کا ماحول بھی یکسر تبدیل ہوا دکھائی دیاتھا۔

ayaz sadiq

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی۔ تحریک انصاف نے بھی اچھی اچھی باتیں کیں، جے یو آئی نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور تعاون کے ساتھ پارلیمنٹ کو چلنے دینے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم وزیر قانون نے میٹھے میٹھے لفظوں میں تحریک انصاف کو سنا بھی دیں اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ گورنر راج کوئی مارشل لا نہیں بلکہ آئینی راستہ ہے۔

imran khan-3

حکومت کی جانب سے یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کبھی گورنر خیبر پختونخوا کو تبدیل کرنے کی خبریں آتی ہیں تو کبھی بیرسٹر عقیل کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات گورنر راج کے متقاضی ہیں۔ فیصل واوڈا فرماتے ہیں کہ انھوں نے بدمعاشی کی تو گورنر راج لگا دیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا ارشاد ہے کہ تین صوبے افغان پناہ گزینوں کو نکال رہے ہیں جبکہ خیبر پختون خواہ میں انھیں تحفظ حاصل ہے اور قومی سلامتی کے معاملہ پر کوئی صوبہ اپنی پالیسی بنا کر نہیں چل سکتا۔

ایک طرف تحریک انصاف پر زبردست قسم کا دبائو ڈالا جا رہا ہے، گورنر راج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کا ڈول بھی ڈالا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی طرف گاجریں بھی پھینک رہی ہے اور لاٹھی بھی دکھا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی ایک ٹیم حکومت سے مذاکرات بھی کرنا چاہ رہی ہے اور دوسری ٹیم احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ہر دو فریق اپنی اپنی مار پر ہیں لیکن ماضی یہ بتاتا ہے کہ وفاقی حکومت نے جب کوئی بڑا کام ڈالنا ہوتا ہے اس وقت عمران خان سے ان کی قیادت کا ہر قسم کا رابطہ کاٹ دیا جاتا ہے۔ کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تاکہ عمران خان سے مشاورت نہ ہو سکے۔

قبل ازیں دو تین بار ایسا ہو چکا ہے۔ اب پھر کوئی بڑا کام ہونے والا ہے اور ضمنی انتخابات سے ملاقات نہ کرنے دینے تک کے سارے معاملے میں ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ تاحال تحریک انصاف کی دال گلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ سیاسی حلقے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا لیکن ڈرانے کے لیے ماحول پورا بنادیا گیا ہے۔ سب اپنے اپنے مفاد کی سیاست میں جتے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو فرصت ملے تو وہ عوام کی بھی خبر گیری کر لے کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button