انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاکستان، کرغزستان میں سزا یافتہ افراد کے تبادلے سمیت15معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

معیشت، زراعت، توانائی، معدنیات، سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کو بڑھایا جائیگا، بزنس فورم سے تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، وزیراعظم شہباز شریف،2سال میں تجارتی حجم 200ملین ڈالر تک لیجانے کا عزم

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان آئندہ دو سال میں کرغزستان سے تجارتی حجم 200ملین ڈالر تک لے جانے کیلئے پرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سزا یافتہ افراد کے تبادلے، معیشت، زراعت، توانائی، بندر گاہوں کے استعمال، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے 15معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ بھی ہوا ہے ۔ وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں کرغزستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب ہوئی، جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیر اعظم اور کرغزستان کے صدر کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔ تقریب کے دوران پاکستان اور کرغزستان کے درمیان پاکستان فارن سروسزاکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کا مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیرخارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا۔ وزارت تجارت اور کرغزستان کی وزارت معیشت کے درمیان مفاہمتی یادداشت تبادلہ ہوا۔
پاکستان اورکرغزستان کے درمیان کان کنی، جیوسائنسزمیں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں ممالک کے مابین سیاحت اور شعبہ توانائی میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، زراعت کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں معاہدہ ہوا ہے، وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔ وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان کی بندرگاہیں استعمال میں لانے سے متعلق باہمی تعاون کی مفاہمتی یادداشت، الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج کے قیام کیلئے دونوں ملکوں کی کسٹمز سروسز میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔ وزیراعظم کا معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان خوشگوار برادرانہ تعلقات ہیں۔
پاکستان کرغزستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرغز صدر صادرژاپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کے 24کروڑ عوام کی جانب سے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معزز مہمان صادرژاپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، 1992ء میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پروان چڑھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے، توانائی، تجارت، روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان۔ کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے 15معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، بزنس فورم کے موقع پر تجارت میں اضافے کیلئے مفاہمتی یادداشت بہت اہم ہوگی، 2سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15سے 200ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم نے عوامی روابط، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے کرغزستان کے صدر کے عزم کے مشکور ہیں۔
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ دورہ پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف کا مشکور ہوں، بھرپور مہمان نوازی اور شانداراستقبال پر حکومت پاکستان اور عوام کا شکر گزار ہوں، پاکستان کرغزستان کا قابل اعتماد دوست ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا اہم شراکت دار ہے، معاشی استحکام و ترقی کیلئے کاوشیں شہباز شریف کے وژن کی عکاس ہیں، ہم نے دوطرفہ تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کاسا 1000منصوبہ اہمیت کا حامل ہے، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا ہے، اس وقت 12ہزار پاکستانی طلبہ کرغزستان میں زیر تعلیم ہیں۔ صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ مواصلات، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کی صلاحیت سے استفادہ کرنا ہے، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔
کرغز صدر کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کرغزستان مختلف عالمی ایشوز پر یکساں مقف رکھتے ہیں، مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدے دوطرفہ تعاون کو مستحکم کریں گے۔ اپنے خطاب کے آخر میں صدر کرغزستان صادر ژاپاروف نے وزیراعظم شہباز شریف کو کرغزستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ دریں اثنا پاکستان اور کرغزستان کے مابین مشترکہ اعلامیہ پردستخط ہوگئے۔ وزیراعظم اورکرغزستان کے صدر نے اعلامیہ پر دستخط کئے۔ قبل ازیں کرغزستان کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہائوس میں پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
وزیراعظم ہائوس آمد پر وزیراعظم نے کرغز صدر کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کیلئے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا، اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ کرغزستان کے صدر کو مسلح افواج کے چاق چوبند دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، معزز مہمان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے اپنے اپنے وفد کے ارکان کا تعارف بھی کرایا، بعد ازاں کرغزستان کے صدر نے وزیراعظم ہائو س کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔
دونوں رہنمائوں نے پُرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشتگرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ دونوں رہنمائوں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button