انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

چودھری، سپر پاور اور نیا چہرہ

گاؤں میں ایک چودھری تھا۔ یہ محض ایک آدمی نہیں تھا بلکہ ایک پورا نظام تھاایسا نظام جس کی بنیاد طاقت پر تھی اور جس کی زبان اختیار تھی۔ اس کے لفظ حکم بن جاتے تھے اور اس کی خاموشی سزا۔ گاؤں کے راستے کچے ہوں یا پکے، سب اس کے قدموں تلے محسوس ہوتے تھے۔ وہ جسے چاہتا، مسکراہٹ اور عزت کے دو بول دے کر اپنا بنا لیتا، اور جسے چاہتا، نظرانداز کر کے حاشیے پر دھکیل دیتا۔ لوگ اس کے سامنے اس لیے نہیں جھکتے تھے کہ وہ حق پر تھا بلکہ اس لیے کہ وہ طاقتور تھا۔

اسی گاؤں کے کنارے ایک کسان رہتا تھا زمین اس کی ماں تھی اور ہل اس کا ساتھی۔ اس کے ہاتھوں میں چھالے تھے، پیشانی پر دھوپ کی لکیریں، اور آنکھوں میں وہ خاموش صبر جو صرف مسلسل محنت سے جنم لیتا ہے۔ غربت اس کی پہچان ضرور تھی، مگر اس کی خودداری اس کا اصل سرمایہ تھی۔ اس نے وقت کے ساتھ یہ سیکھ لیا تھا کہ وقتی آسانی اکثر مستقل غلامی بن جاتی ہے۔

ایک دن چودھری کی نظر اس کسان پر پڑی یہ نظر محض دیکھنے کی نہیں تھی بلکہ ناپ تول کی نظر تھی کہ اس کے پاس کیا ہے اور اس سے کیا لیا جا سکتا ہے۔ اگلے ہی دن کسان کو ڈیرے پر بلایا گیا۔ گاؤں میں سرگوشیاں پھیل گئیں۔ کوئی کہتا زمین جائے گی، کوئی کہتا نسل جھکے گی کسان جانتا تھا کہ یہ بلاوا عزت نہیں بلکہ آزمائش ہے، مگر وہ گیااس لیے کہ نہ جانا بھی ایک طرح کی ہار تھی۔

چودھری نے بڑے تپاک سے بٹھایا، میٹھے بول بولے، تحفظ کے وعدے کیے اور مستقبل کے خواب دکھائے۔ باتوں کے بیچ وہ بار بار یہ جتاتا رہا کہ طاقت اس کے پاس ہے اور خیر اسی میں ہے کہ اس طاقت کے ساتھ چلا جائے۔ کسان خاموشی سے سنتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ گفتگو نہیں، قیمت لگائی جا رہی ہے۔ آخرکار شرط سامنے آئی نرمی کے لہجے میں مگر اختیار کے پورے وزن کے ساتھ وہ لمحہ طویل تھا۔

کسان نے سوچا کہ اگر ہاں کہہ دی تو آج کی مشکل آسان ہو جائے گی مگر کل کی آزادی گروی رکھنی پڑے گی، اور اگر انکار کیا تو قیمت بھاری ہو گی مگر سر بلند رہے گا۔ اس نے انکار کر دیا۔ یہ ضد نہیں تھی، یہ شعور تھایہ اعلان تھا کہ غربت کمزوری نہیں، اصل کمزوری خودداری کا سودا کرنا ہے۔

اسی لمحے کہانی بدل گئی، کیونکہ جب کمزور اپنے اندر طاقت ڈھونڈ لے تو طاقتور کی مسکراہٹ سوال بن جاتی ہے۔یہ کہانی کسی ایک گاؤں کی نہیں بلکہ آج کی عالمی سیاست کا استعارہ ہے۔ برسوں سے دنیا میں چودھری کا کردار امریکہ ادا کرتا آیا ہے۔ اس کی ’’محبت‘‘ جہاں پہنچی، وہاں پہلے تحفظ کے وعدے ہوئے، پھر دفاعی خودمختاری آہستہ آہستہ کمزور کی گئی، اور آخرکار اپنی طاقت بیچ کر مستقل انحصار پیدا کیا گیا۔ یہ محبت نہیں بلکہ مفاد کی شائستہ زبان تھی جس میں فیصلے ایک طرف رہتے ہیں اور قیمت دوسری طرف۔تاریخ بتاتی ہے کہ جس ملک نے حد سے زیادہ سہارا لیا، وہ اپنے فیصلوں میں اتنا ہی محدود ہوتا گیا۔ دفاع باہر سے خریدا گیا مگر اعتماد اندر سے کھو دیا گیا۔

اسی بدلتے عالمی منظر میں دنیا نے ایک مختلف حقیقت دیکھی۔ پاکستان مالی دباؤ کے باوجود دفاعی طور پر منظم، باخبر اور پراعتماد ہو کر سامنے آیا۔ اس کی طاقت مہنگی نمائش نہیں بلکہ خاموش تیاری ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ جدید جنگ صرف آلات سے نہیں جیتی جاتی بلکہ نظم، حکمتِ عملی اور قومی ہم آہنگی سے جیتی جاتی ہے۔ یہاں دفاع تجارت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔

حالیہ علاقائی کشیدگی نے یہ تاثر بھی توڑ دیا کہ بھارت کی ٹیکنالوجیکل برتری ناقابلِ سوال ہے۔ جدید جنگ میں اصل وزن قیادت کے فیصلوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قوم کے اعتماد کا ہوتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان ایک نئے چہرے کے ساتھ نمایاں ہوا۔ اسی پس منظر میں بھارت براہِ راست محاذ سے گریز کرتے ہوئے افغانستان کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ بھی افغانستان میں دوبارہ اثر و رسوخ چاہتا ہے، اس لیے نہیں کہ امن درکار ہے بلکہ اس لیے کہ یہ نشست چین، روس اور ایران کے قریب بیٹھ کر پورے خطے پر نظر رکھنے کا موقع دیتی ہے۔ چودھری ایک بار پھر گاؤں کے بیچ ڈیرہ جمانا چاہتا ہے، مگر اس بار کسان وہ نہیں رہا جو وعدوں پر جھک جائے۔

دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا کہ پاکستان میں قیادت، عوام اور افواج ایک صفحے پر ہیں۔ یہ وہ طاقت ہے جو کسی امدادی پیکج میں نہیں ملتی اور کسی معاہدے میں درج نہیں ہوتی۔ یہ طاقت اعتماد سے جنم لیتی ہے، اور اعتماد دفاع کو ناقابلِ فروخت بنا دیتا ہے۔ اسی لیے آج چودھری محتاط ہے؛ اس کی مسکراہٹ میں پہلے جیسا یقین نہیں، کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ جب کسان دفاعی طور پر مضبوط ہو جائے تو محبت کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور دباؤ کی تاثیر گھٹ جاتی ہے۔

آخر میں حقیقت یہی ہے کہ دنیا کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اصل امتحان جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ سے بچنا ہے۔ تیل، معدنیات اور منڈیاں وقتی ضرورتیں ہو سکتی ہیں، مگر اقوام کی زندگی کا دار و مدار امن پر ہوتا ہے۔ انسان سہولتوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے، مگر خوف، عدم استحکام اور مستقل کشیدگی کے سائے میں کوئی معاشرہ سانس نہیں لے سکتا۔ آج کا پاکستان اسی حقیقت کی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ واضح قیادت، منظم ادارے اور قومی یکجہتی دفاع کو وقار میں بدل دیتی ہے۔ دنیا کے چودھری اب بھی موجود ہیں، مگر کسان بدل چکا ہےوہ صرف سنتا نہیں، سمجھتا ہے، حساب رکھتا ہے اور فیصلہ خودداری کے ساتھ کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے تاریخ کی سمت متعین ہوتی ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button