ہمدردی کا زوال قومی خطرہ
حالیہ برسوں میں عوامی مباحث میں ہمدردی کو اکثر نشانے پر رکھا جا رہا ہے۔ بعض حلقے اسے کمزوری، غیر ضروری جذباتیت یا عملی فیصلوں میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ مگر اخلاقی روایات اور جدید سائنسی تحقیق دونوں اس تصور کی نفی کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمدردی صحت مند معاشروں کی بنیاد ہے ،اور اس کا زوال سنگین سماجی اور اخلاقی نتائج کو جنم دیتا ہے۔
ہمدردی، یعنی دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور ان میں شریک ہونے کی صلاحیت، محض وقتی جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی وصف ہے۔ نفسیات اور اعصابی سائنس کی تحقیق کے مطابق یہی صلاحیت تعاون، اخلاقی فیصلوں اور سماجی اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔ متعدد مطالعات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ جن افراد میں ہمدردانہ شعور اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی اہلیت زیادہ ہوتی ہے، وہ نہ صرف انفرادی سطح پر بہتر انسان ثابت ہوتے ہیں بلکہ اجتماعی فلاح میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں یہ تصور کوئی نیا نہیں۔
دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں ہمدردی کو کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت سمجھا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:“تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔”
عیسائیت میں حضرت عیسیٰؑ کی تعلیم “اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرو” اسی اصول کی عکاس ہے۔ ہندو فلسفے میں کرُونا (رحم اور شفقت) کو نیکی اور راست روی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہودیت میں تورات بار بار کمزور، مسافر اور اجنبی کی دیکھ بھال کا حکم دیتی ہے، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ایک وقت میں وہ خود بھی اجنبی تھے۔
جدید سائنسی تحقیق ان مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کی توثیق کرتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہمدردی سماجی بھلائی اور اخلاقی ضبط کی بنیاد ہے۔ یہ سماجی رشتوں کو مضبوط بناتی، جارحیت کو کم کرتی اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ہمدردی کی زیادہ سطح بہتر جذباتی صحت اور تنہائی میں کمی سے جڑی ہوتی ہے۔ اجتماعی سطح پر ہمدردی خود غرضی کو متوازن کرتی اور ظلم و زیادتی کے خلاف ایک اخلاقی رکاوٹ کا کردار ادا کرتی ہے۔اس کے باوجود شواہد بتاتے ہیں کہ کئی معاشروں میں ہمدردی کمزور پڑ رہی ہے۔
امریکہ میں ہونے والی طویل المدتی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں طلبہ اور نوجوانوں میں ہمدردانہ احساس اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دیگر خطوں، بشمول ترقی پذیر معاشروں، میں بھی ملتے جلتے رجحانات سامنے آ رہے ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی انفرادیت، معاشی دباؤ، ڈیجیٹل تنہائی اور خاندانی و سماجی رشتوں کی کمزوری سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب ہمدردی کم ہوتی ہے تو معاشرتی تقسیم، عدم برداشت اور سماجی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ ہمدردی عملی فیصلوں میں رکاوٹ یا ذہنی تھکن کا باعث بنتی ہے، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ جدید تحقیق ہمدردی اور جذباتی تھکن میں واضح فرق کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ذمہ دار اور باعمل رحم، ہمدردی کی صحت مند شکل ہے جو انسان کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ باخبر، متوازن اور ذمہ دار بناتی ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ڈینیئل بیٹسن کی تحقیق، جسے Empathy–Altruism Hypothesis کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ ثابت کرتی ہے کہ حقیقی ہمدردی انسان کو ذاتی فائدے کے بغیر بھی دوسروں کی مدد پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی طرح اعصابی نفسیات کے ماہر ژاں ڈی سیٹی اور دیگر محققین نے واضح کیا ہے کہ ہمدردی انسانی دماغ میں موجود ایک فطری حیاتیاتی نظام ہے، جو اخلاقی فیصلوں، سماجی رویّوں اور تشدد پر قابو پانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
جب یہ نظام کمزور پڑتا ہے تو بے حسی اور جارحیت میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔یونیورسٹی آف مشی گن کے محققین، سارا کونرتھ اور ان کے ساتھیوں کی طویل المدتی تحقیق کے مطابق 1979 سے 2009 کے درمیان نوجوانوں میں ہمدردی اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت میں واضح کمی واقع ہوئی۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمدردی اب محض انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔سماجی علوم کی مزید تحقیقات بتاتی ہیں کہ بڑھتی ہوئی مادہ پرستی، مسابقتی مارکیٹ کلچر اور مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت انسان کو ایک دوسرے کے جذبات سے دور کر رہی ہے۔ چین سمیت مختلف معاشروں پر کی گئی تحقیقات، جو معتبر علمی جرائد میں شائع ہوئیں، اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ شدید انفرادیت اور معاشی دوڑ ہمدردی کو کمزور کر دیتی ہے۔
مشہور ماہرِ نفسیات فلپ زمبارڈو کے مطابق، جب انسان دوسروں کو غیر انسانی سمجھنے لگے تو عام لوگ بھی ظالمانہ رویّے اختیار کر سکتے ہیں۔ ہمدردی کا فقدان ظلم کو معمول اور بے حسی کو طاقت بنا دیتا ہے۔
تاریخ اور تحقیق دونوں ہمیں ایک واضح سبق دیتے ہیں کہ جب قوموں میں ہمدردی ختم ہو جاتی ہے تو اخلاقی سرحدیں بھی مٹنے لگتی ہیں۔ لوگ دوسروں کے دکھ درد سے لاتعلق ہو کر طاقت، نفرت اور مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ ایسے معاشرے آہستہ آہستہ انسانی اقدار سے دور ہو جاتے ہیں۔
ہمدردی کسی قوم کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی اخلاقی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ایک مضبوط قوم وہ نہیں جو صرف طاقت کا مظاہرہ کرے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو تحقیق، عقل، مذہبی تعلیمات اور انسانیت کی روشنی میں اپنے اجتماعی رویّوں کی اصلاح کرے۔
آج، جب دنیا نفرت، تقسیم اور بے حسی کے دور سے گزر رہی ہے، ہمدردی کو کمزوری سمجھنا دراصل مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم ایک مہذب، پائیدار اور انسان دوست معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمدردی کو زندہ رکھنا محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔



