بیرونِ ملک روزگار۔۔۔۔ کیا واقعی پیسہ درختوں پر اگتا ہے؟
عقیل انجم اعوان
جب پاکستان کے کسی گاؤں یا شہر کے نوجوان سے پوچھا جائے کہ وہ بیرونِ ملک کیوں جانا چاہتا ہے تو اکثر جواب ایک سا ہوتا ہے بہتر روزگار، اچھی تنخواہ اور محفوظ مستقبل۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے۔ محفلوں میں سنائی جانے والی کامیابی کی کہانیاں، سوشل میڈیا پر جگمگاتی تصویریں اور وطن واپس آنے والے چند خوشحال چہرے اس خواب کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔ مگر کیا یہ پوری تصویر ہے؟
ہر سال ہزاروں پاکستانی نوجوان یورپ، خلیجی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس ایک ہی امید ہوتی ہے کہ بیرونِ ملک پہنچتے ہی زندگی کا رخ بدل جائے گا۔ لیکن جب وہ نئے ملک کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو اکثر اوقات پہلی ملاقات حقیقت سے ہوتی ہے، اور یہ ملاقات ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتی۔
بیرونِ ملک جانے والے نوجوان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اجنبیت ہے۔ نئی زبان، مختلف ثقافتی روایات اور نامانوس سماجی رویے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ بس پکڑنے سے لے کر دفتر یا فیکٹری تک پہنچنے تک ہر قدم ایک امتحان بن جاتا ہے۔ وہ کام جو وطن میں معمولی سمجھے جاتے تھے یہاں ذہنی دباؤ کا سبب بننے لگتے ہیں۔
روزگار کے مواقع اگرچہ بعض ممالک میں زیادہ ہیں مگر ان کاموں کی حقیقت اکثر نوجوانوں کے تصور سے مختلف ہوتی ہے۔ زیادہ تر افراد کو ابتدا میں کم اجرت اور جسمانی مشقت والے کام کرنے پڑتے ہیں۔ تعمیراتی سائٹس، فیکٹریاں، ہوٹلوں کی صفائی یا گوداموں میں سامان اٹھانا یہ سب ایسے شعبے ہیں جہاں طویل اوقاتِ کار معمول ہیں۔ کئی مزدور روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔
بعض اوقات ہفتہ وار چھٹی کے بغیر۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں کو کفالت کے نظام جیسے اضافی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام میں ملازم کا قانونی انحصار آجر پر ہوتا ہے۔ نوکری بدلنا، ملک چھوڑنا یا کسی مسئلے پر آواز اٹھانا بھی آسان نہیں ہوتا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی بار اس نظام پر تنقید کر چکی ہیں اور اسے مزدوروں کے لیے غیر متوازن قرار دیتی رہی ہیں۔
یورپ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک جانے والے نوجوانوں کے مسائل مختلف مگر کم سنگین نہیں ہوتے۔ بعض افراد غیر قانونی راستوں یا عارضی ویزوں پر وہاں پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی زندگی طویل غیر یقینی کا شکار ہو جاتی ہے۔ پناہ کی درخواستوں پر فیصلے برسوں تک مؤخر رہ سکتے ہیں۔ اس دوران کام کرنے کی اجازت نہ ہونا یا محدود اجازت ملنا مالی مشکلات کو دوگنا کر دیتا ہے۔
ان تمام معاشی اور قانونی مسائل کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے اور وہ ہے ذہنی صحت۔ خاندان سے دوری، تنہائی اور مسلسل دباؤ بہت سے افراد کو ڈپریشن اور اضطراب جیسے مسائل کی طرف لے جاتا ہے۔ کئی نوجوان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ شدید ذہنی تھکن کا شکار ہوتے ہیں مگر نہ وقت میسر ہوتا ہے اور نہ ہی وسائل کہ وہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کر سکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود بیرونِ ملک مقیم بیشتر افراد اپنی اصل صورتحال گھر والوں سے چھپاتے ہیں۔ وطن میں موجود خاندان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والا فرد مالی طور پر مضبوط ہو چکا ہے۔ باقاعدگی سے رقم بھیجنے کی توقع اور یہ خدشہ کہ اگر حقیقت بتائی گئی تو گھر والے پریشان ہو جائیں گے، بہت سے لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور رکھتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ بیرونِ ملک جانا ہمیشہ ناکامی پر منتج ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ وقت، محنت اور صبر کے ساتھ بہتر زندگی بنانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ کامیابی نہ تو فوری ہوتی ہے اور نہ ہی سب کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے لیے برسوں کی جدوجہد، مالی نظم و ضبط اور ذاتی زندگی میں کئی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ بیرونِ ملک جانے کے فیصلے میں نہیں بلکہ ان غیر حقیقی توقعات میں ہے جو اس فیصلے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ اگر نوجوان مکمل معلومات، قانونی راستوں اور واضح منصوبہ بندی کے ساتھ بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کریں تو مشکلات کا سامنا نسبتاً بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ بیرونِ ملک جانے کو فوری خوشحالی کا مترادف سمجھنے کے بجائے اسے ایک طویل اور کٹھن سفر کے طور پر دیکھے۔
سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو پوری حقیقت بتا رہے ہیں یا صرف خواب دکھا رہے ہیں؟ بیرونِ ملک جانا بلاشبہ مواقع فراہم کرتا ہے مگر یہ ایک سخت آزمائش بھی ہے۔ اس آزمائش میں کامیابی کے لیے صرف ہمت کافی نہیں بلکہ درست معلومات اور حقیقت پسندانہ سوچ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔



