پانچ فروری ہمیں ہر سال یہ یاد دلانے آتا ہے کہ کشمیر محض ایک علاقہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے ایک ذمہ داری ہے اور ایک ایسا مقدمہ ہے جس کا فیصلہ ابھی تاریخ کے کٹہرے میں ہونا باقی ہے یومِ یکجہتیٔ کشمیر رسمی کیلنڈر کا خانہ نہیں یہ ریاستی وعدے کی تجدید کا دن ہے مگر المیہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ اکثر سیاسی نعروں روایتی تقاریر اور وقتی جوش تک محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے سوال یہ نہیں کہ ہم کشمیر کو کتنا یاد کرتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم کشمیر کے لیے کیا کرتے ہیں
مقبوضہ کشمیر گزشتہ کئی برسوں سے تاریخ کے بدترین جبر کا سامنا کر رہا ہے پانچ اگست 2019 کے بعد کشمیریوں سے نہ صرف ان کی آئینی حیثیت چھینی گئی بلکہ ان کی آواز شناخت اور حقِ رائے دہی بھی بندوق کے زور پر سلب کر لیا گیا کرفیو انٹرنیٹ بندش ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں اب معمول بن چکی ہیں یہ سب کچھ کسی خفیہ گوشے میں نہیں ہو رہا بلکہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے مگر عالمی ضمیر کی خاموشی اس ظلم میں عملاً شریک دکھائی دیتی ہے
پاکستان ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ کشمیر اس کی شہ رگ ہے مگر شہ رگ کی حفاظت محض دعووں سے نہیں ہوتی یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کو خود سے ایک تلخ سوال کرنا ہوگا کہ کیا کشمیر واقعی ہماری خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے یا یہ مسئلہ ہر سال ایک دن کے لیے زندہ کیا جاتا ہے اور باقی سال سفارتی فائلوں کی گرد میں دب جاتا ہے حکومتِ پاکستان کو اب رسمی مذمت سے آگے بڑھ کر ٹھوس مربوط اور جارحانہ سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی عالمی عدالتِ انصاف میں سنجیدہ قانونی کارروائی انسانی حقوق کے مستند شواہد کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر مسلسل آواز اور عالمی میڈیا میں مؤثر بیانیہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ریاستی مؤقف میں تسلسل اور سنجیدگی کمزور پڑتی ہے تو دشمن کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے کشمیر جیسے حساس مسئلے پر داخلی سیاسی اختلافات وقتی مفادات اور بیانات کی سیاست ناقابلِ برداشت ہونی چاہیے اگر ہم واقعی کشمیری عوام کے وکیل ہیں تو ہمیں دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ ہماری بات صرف جذبات نہیں بلکہ اصول قانون اور عمل پر مبنی ہے تاریخ نیت سے زیادہ کردار کا حساب لیتی ہے اور کردار وہی معتبر ہوتا ہے جو مشکل وقت میں نظر آئے
پانچ فروری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی امید کی ڈور تھامے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں انہیں ہمدردی نہیں انصاف چاہیے انہیں نعروں نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے اگر ریاست آج بھی مصلحت کا لبادہ اوڑھے خاموش رہی تو کل یہ خاموشی ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک مستقل سوالیہ نشان بن جائے گی کشمیر کا فیصلہ بندوق سے نہیں عوام کی آزاد رائے سے ہوگا اور یہ ریاست کی آئینی اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کے لیے ہر مؤثر اور جائز فورم پر ڈٹ کر کھڑی ہو



