انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

کشمیر کی آزادی، ہمارا قومی عزم

تحریر:ہما مریم

کشمیر محض ایک خطہ زمین کا نام نہیں، نہ ہی یہ صرف پہاڑوں اور جھیلوں کی کوئی خوبصورت تصویر ہے؛ یہ تو برصغیر کی تقسیم کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو گزشتہ پون صدی سے عالمی ضمیر کے ماتھے پر ایک لہو رنگ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ صرف ایک سرکاری تعطیل نہیں لاتا، بلکہ یہ اس عہدِ وفا کی تجدید بن کر آتا ہے جو ہم نے 1947 میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ جب تک وادیِ چنار کا ایک بھی بچہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، پاکستان کی آزادی نامکمل ہے اور ہماری شہ رگ دشمن کے نرغے میں ہے۔

ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، کشمیر میرے لیے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ میرے وجود کا حصہ ہے۔ 1947 میں جب برصغیر کی سرحدیں کھینچی جا رہی تھیں، تب کشمیریوں نے اپنا مستقبل کا رشتہ پاکستان کے ساتھ جوڑا تھا، مگر غاصبانہ قبضے اور دھوکے کی جو بنیاد اس وقت رکھی گئی، اس کا خمیازہ آج وادی کی چوتھی نسل اپنے لہو سے بھگت رہی ہے۔ کشمیر کا کرب 1947 سے جاری ہے، لیکن 5 اگست 2019 کا دن تحریکِ آزادیِ کشمیر کی تاریخ میں ایک "سیاہ ترین” باب بن کر ابھرا۔ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-A کا غیر قانونی خاتمہ کر کے نہ صرف کشمیریوں سے ان کی رہی سہی خود مختاری چھین لی، بلکہ پوری وادی کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی جیل میں تبدیل کر دیا۔

گزشتہ چند سالوں میں جو ظلم ڈھایا گیا، اس نے پچھلے 75 سالہ جبر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مودی سرکار اب صرف گولی سے نہیں بلکہ "قانون کے لبادے” میں کشمیریوں کی شناخت مٹانے کے درپے ہے۔ "سیاسی حد بندیوں” (Delimitation) کے نام پر مسلم اکثریتی حلقوں کو کمزور کرنا اور غیر کشمیریوں کو لاکھوں کی تعداد میں ڈومیسائل جاری کرنا دراصل کشمیریوں کو اپنے ہی گھر میں اقلیت بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ یہ "سیٹلر کلونیل ازم” (Settler Colonialism) کی وہ بدترین شکل ہے جہاں ایک پوری قوم کی جغرافیائی اور آبادیاتی پہچان مٹانے کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔

فائل فوٹو

پانچ ا اگست کے بعد سے کشمیر میں جو "خاموشی” دکھائی دیتی ہے، وہ امن نہیں بلکہ سنگینوں کے سائے میں چھپا ہوا خوف ہے۔ مودی سرکار نے وادی کی شناخت پر شب خون مارا ہے۔ آج وہاں کی سیاسی قیادت پسِ دیوارِ زنداں ہے، نوجوانوں کو نامعلوم عقوبت خانوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور دنیا کو جی-20 جیسے اجلاسوں کے ذریعے "نارمل حالات” کا دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر آج ایک ایسے مقتل میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سچ بولنے والے صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ میری آنکھیں تب نم ہو جاتی ہیں جب میں دیکھتی ہوں کہ قابض افواج پیلٹ گنز سے بچوں کی بینائی چھین رہی ہیں، اس کا درد ہر پاکستانی گھرانے میں محسوس کیا جاتا ہے۔

5 فروری ہمیں اس عزم کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ اگرچہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مگر ان کے جذبہِ آزادی کو دبایا نہیں جاسکتا۔ یہ دن منانے کا مقصد عالمی ضمیر کو اس کی خاموشی پر جھنجھوڑنا اور اپنی نوجوان نسل کو یہ بتانا ہے کہ ہمارا اور کشمیر کا رشتہ کلمہِ طیبہ کا رشتہ ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان شائ اللہ وہ دن دور نہیں جب 1947 کا ادھورا خواب تعبیر پائے گا۔ کشمیر کی شہ رگ پر پڑا غاصب کا ہاتھ ایک نہ ایک دن ضرور ٹوٹے گا، کیونکہ ظلم کی سیاہ رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، سحر کا سورج اسے ختم کر کے ہی دم لیتا ہے۔ ہم کل بھی تمہارے ساتھ تھے، ہم آج بھی تمہارے ساتھ ہیں، اور فتحِ مبین تک ہمارا یہ ساتھ قائم و دائم رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button