پاکستان، قازقستان میں37مفاہمتی یادداشتیں اور معاہدے
مشترکہ کوششوں سے اہداف حاصل کریں گے، شہباز شریف: امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف، قاسم جومارت:صدر زرداری نے قازق ہم منصب کو نشان پاکستان سے نواز دیا
اسلام آباد ( ویب ڈیسک) پاکستان اور قازقستان کے درمیان صحت ، تعلیم، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے ، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں، ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے، مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاس ہیں، سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دونوں ملک غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں، دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن اور خوشحالی آئے جبکہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا ہے کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست اور سٹریٹجک شراکت دار ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت و معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے، ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے، خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کوکاروبار کیلئے پرکشش مواقع فراہم کریں گے۔
وزیر اعظم ہائوس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کے تبادلوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم اور قازقستان کے صدر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اور قازقستان کے صدر نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔ مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے مجموعی طور پر 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے جبکہ 19دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر قومی معیشت نے پٹرولیم، کان کنی اور جیو سائنسز کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر دفاع خواجہ آصف اور قازقستان کے وزیر دفاع نے اقوام متحدہ میں امن دستوں کی مشترکہ تعیناتی کی مفاہمت کی یادداشت، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور قازقستان کے پراسیکیوٹر جنرل نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے، وزیر بحری امور جنید انوار چودھری اور قازقستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے میری ٹائم کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر تجارت جام کمال خان اور قازقستان کے وزیر تجارت نے ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر قومی معیشت نے کسٹمز کے امور میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت، وزیر ریلوے حنیف عباسی اور قازقستان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے ریلوے کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت ، وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ رانا تنویر حسین اور قازقستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر معیشت نے پلانٹ پروٹیکشن میں تعاون کے معاہدے اور ویٹرنری میڈیسن کے شعبے میں تعاون کے معاہدے ، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال اورقازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر قومی معیشت نے صحت کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور قازقستان کے صدر کی ڈائریکٹر جنرل برائے ٹی وی و ریڈیو کمپلیکس نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی) اور قازقستان کے سرکاری ریپبلکن ٹی وی کے درمیان خبروں کے تبادلے کی مفاہمت کی ۔
یادداشت، وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور قازقستان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اورماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت، وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اورقازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم نے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے درمیان تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور قازقستان کے سفیر نے بینکاری کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر ثقافت و قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی اور قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم نے ثقافت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کے لئے ایکشن پلان ،ڈائریکٹر جنرل نیشنل لاجسٹک سیل ( این ایل سی ) میجر جنرل فرخ شہزاد رائو اور قازقستان کے چیئرمین مینجمنٹ بورڈ نے نیشنل لاجسٹک سیل اور قازقستان کی کزٹی زی ایکسپریس کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، وزیر مملکت بلال بن ثاقب اور قازقستان کے سفیر نے پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی اور قازقستان کے وزارت مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت اور چیئرمین کراچی پوسٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد اور قازقستان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے معلومات کے تبادلے وپروفیشنل ڈویلپمنٹ کے لئے قازقستان کی کمرشل سی پورٹ کی جائنٹ سٹاک اکتائو انٹرنیشنل کمپنی اور کراچی پورٹ میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت کی دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام کیلئے تعاون کے معاہدے ، قازقستان کی سوخان یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز( نمل) کے درمیان تعاون کے معاہدے ، پلانٹ پروٹیکشن کے شعبے میں زرعی تحقیقی کونسل اور قازق ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت ، پاکستان ٹیلی ویژن اور خبر ایجنسی آف قازقستان کے درمیان براڈ کاسٹنگ کے شعبے میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت، پاکستان کے ایگنائیڈ ٹیکنالوجی فنڈ اور قازقستان کے اٹانومس کلسٹرفنڈ کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی پاکستان اور قازقستان کی نیشنل ریسرچ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت ، کاٹن ریسرچ سے متعلق تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، قازقستان کی آستانہ میڈیکل یونیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، آستانہ میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت ، آستانہ آئی ٹی یونیورسٹی اورغلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں احمد یسوی ریسرچ سینٹر کے قیام کیلئے مفاہمت کی یادداشت، قائداعظم یونیورسٹی میں الفارابی سنٹرکے قیام سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، قازقستان کے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت، پاکستان قازقستان سپورٹس سینٹر کے قیام سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، پاکستان کی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ اورقازقستان کی وزارت ثقافت و اطلاعات کے درمیان تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت اورقازق انسٹی ٹیوٹ آف سٹینڈرڈ رائزیشن و میٹارالوجی اور پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے درمیان تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے دستاویزات پر بھی دستخط کئے گئے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپنے بھائی صدر قاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفد کا دورہ پاکستان پر خیرمقدم کرتے ہیں۔
یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت دینے کیلئے بہت اہم ہے،قازقستان کے کسی صدر کا 23سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، صدر قاسم جومارت توکایووف کے ساتھ تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینے کیلئی پرعزم ہیں، معاہدوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے معاشی اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ہوگا، صدر قاسم جومارت توکایووف کیلئے نشان پاکستان کا اعزاز قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے،پاکستان اور قازقستان غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں،دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن ہو اور خوشحالی آئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں ،ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے، پاکستان اورقازقستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، شراکت داری کو فرو غ دیتے ہوئے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے پرعزم ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے دو طرفہ تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کریں گے،پاکستان اور قازقستان کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس موقع پر قازقستان کے صدر نے کہا کہ بھرپور استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں،دوست ملک پاکستان کے دورے پر بہت خوشی ہے، پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست اور سٹرٹیجک شراکت دار ہے، دونوں ملک مشترکہ اقدار و روایات کے امین ہیں، مشترکہ اعلامیہ اور معاہدے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے میں وزیراعظم شہباز شریف کے اہم کردار کا معترف ہوں،خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے بہت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و معیشت کے شعبے میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے، ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں، ٹرانزٹ ٹریڈ، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی، دونوں ملکوں کے درمیان فضائی روابط بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان اور قازقستان کے درمیان کھیلوں کے شعبے میں تعاون کیلئے سپورٹس سینٹر کا قیام انتہائی اہم پیشرفت ہے، ثقافت کے شعبے میں تعاون سے عوام کی سطح پر رابطے بڑھیں گے۔ قازقستان کے صدر نے کہا کہ پیداواری شعبے میں پاکستان کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی دعوت دیتے ہیں، اسلامک فنانس میں بھی پاکستان کا اہم مقام ہے، اسلامک فنانسنگ کے شعبے میں تعاون پر اضافہ چاہتے ہیں، سائنس ، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں، یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔
قازقستان پاکستانی سرمایہ کاروں کو کاروبار کیلئے پرکشش مواقع کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔ قاسم جومارت توکایووف نے وزیراعظم شہباز شریف کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ جبکہ شہباز شریف نے کہا کہ قازقستان کے دورے کی دعوت پر اپنے بھائی قاسم جومارت توکایووف کا مشکور ہوں، تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے 5سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کی اور دوطرفہ مذاکرات کئے۔ قازقستان کے صدر کا وزیر اعظم ہائوس پہنچنے پر وزیراعظم نے پرتپاک استقبال کیا۔ معزز مہمان کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، صدر قاسم جومارت توکایوف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ اس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں دونوں ممالک کے اہم کابینہ اراکین نے شرکت کی۔
وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران وزیراعظم نے صدر توکایووف کے دورہ پاکستان کو پاکستان، قازقستان دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور اعلیٰ سطح کے روابط اور قائم شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار، بشمول دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کو موثر بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور عوامی روابط کے شعبوں میں پاکستان، قازقستان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں بتدریج اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی غیر استعمال شدہ صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آئندہ دو برسوں میں دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس ضمن میں پاکستان ،قازقستان بزنس فورم کے انعقاد کو ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔
دونوں رہنمائوں نے علاقائی روابط اور نقل و حمل کے نظام، بشمول سڑک، ریل، فضائی اور بحری تعاون کو فروغ دینے کے لئے قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں اطراف نے ٹرانزٹ تجارت کے انتظامات اور علاقائی راہداریوں کو اقتصادی انضمام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لئے اہم قرار دیا۔ دیگر امور کے علاوہ دونوں رہنمائوں نے تعلیم، ثقافت، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا اور طویل المدتی دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لئے تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ صدر قاسم جومارت توکایووف نے شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی امن، روابط اور ترقی کے لئے قازقستان کے ساتھ قریبی تعاون کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سینئر وزرا اور متعلقہ حکام پر مشتمل ایک ورکنگ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو آئندہ پانچ برس کے دوران دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے ایک جامع روڈ میپ تیار کرے گی۔ مزید برآں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکا یووف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے صدر، وزیراعظم، حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے قازق صدر کو خوش آمدید کہا اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی روابط میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ مسلسل روابط دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مفاہمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ دونوں فریقین نے سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور قازقستان خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری نے قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نواز دیا۔ ایوان صدر میں آمد پر صدر مملکت نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کا استقبال کیا، ان کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی، جہاں صدر مملکت نے قازق صدر کو نشان پاکستان سے نوازا، اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صدرِ زرداری سے قازقستان کے صدر نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف آگے بڑھانے کے لیے قازقستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ صدر مملکت نے سیاسی، اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔



