انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

کشمیر کاز کے ساتھ خون کی ہولی

شاہد جاوید ڈسکوی/ دستک

کشمیر۔۔۔۔۔جو ارضِ پاک کی شہ رگ بھی ہے اور ہماری لازوال محبتوں کا امین بھی، آج اس کی پرامن فضائیں اپنوں ہی کے بھیس میں چھپے کچھ عاقبت نااندیش اور فتنہ پرور عناصر کی سازشوں کے باعث سسک رہی ہیں۔ وہ جنت نظیر دھرتی جو غیور، سرفروش اور محبِ وطن بیٹوں کے مقدس لہو سے لہلہاتی تھی، وہاں حقوق کا لبادہ اوڑھ کر امن کے محافظوں کا خون بہایا گیا اور لکیر کے اس پار بیٹھے ازلی دشمن کو جشن منانے کا موقع فراہم کیا گیا۔

جب ارضِ وطن کے پاسبانوں اور دھرتی ماں کے بیٹوں کا پاکیزہ لہو مٹی پر گرتا ہے تو ہر سچے پاکستانی کی روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ محض جغرافیائی سرحدوں کا محتاج نہیں بلکہ یہ روح، ایمان اور خون کا وہ سدا بہار اور لازوال بندھن ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی فتنہ کمزور نہیں کر سکتا۔ آزاد جموں و کشمیر اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین سیاسی اور انتظامی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف آئینی بالادستی کے تاریخی فیصلے ہو رہے ہیں تو دوسری طرف امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوششیں سر اٹھا رہی ہیں۔ ان حالات میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر سامنے آنے والا فیصلہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کا بقا اور استحکام صرف اور صرف قانون کی حکمرانی، آئین کی پاسداری اور جمہوری روایات کے مضبوط سہارے ہی سے ممکن ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کی12 نشستوں کا مستقبل اور انتخابی عمل میں آئینی اصلاحات کا معاملہ صرف اور صرف منتخب قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔ اس فیصلے نے ان تمام ابہام کو دور کر دیا ہے جو اس حساس معاملے پر پیدا کیے جا رہے تھے اور حکومت کی اس اصولی مؤقف کی توثیق کی ہے کہ یہ نشستیں 1974 کے عبوری آئین کا ایک لازمی حصہ ہیں جنہیں کسی بھی غیر آئینی طریقے سے ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی اسی حقیقت کی عکاس ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی جموں و کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کا ایک لازمی اور تاریخی حصہ ہے جسے کسی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایک ایسے وقت میں جب ریاست اپنے آئینی اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے بعض شرپسند عناصر نے عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست کی رٹ اور شہریوں کے امن کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جس نے بظاہر سستی بجلی اور آٹے جیسے عوامی مطالبات کو لے کر تحریک کا آغاز کیا تھا اب اپنے اصل اور خطرناک عزائم کے ساتھ بے نقاب ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مظفر آباد میں اس کے مرکزی دفتر کو سیل کیا جانا اور وہاں سے سب مشین گن، رائفلیں اور پستول جیسے ممنوعہ اور بھاری اسلحے کا برآمد ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس نام نہاد عوامی تحریک کے پیچھے قانون پسندی نہیں بلکہ ریاست مخالف ایجنڈا کارفرما تھا۔

کسی بھی پرامن سیاسی یا سماجی تحریک میں جدید ترین جنگی ہتھیاروں کا کوئی کام نہیں ہوتا اور ان ہتھیاروں کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ اس گروہ کا اصل مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ وادی میں انارکی پھیلانا تھا۔اس سے بھی زیادہ دلخراش اور تشویشناک صورتحال راولاکوٹ میں دیکھنے کو ملی جہاں اس کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے احتجاج کے نام پر جمع ہو کر ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں پر گھات لگا کر، براہِ راست اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس بزدلانہ اور منظم حملے کے نتیجے میں وطن کے چار محافظ جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ درجنوں سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

حد تو یہ ہے کہ ان شرپسندوں نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے سی ایم ایچ راولاکوٹ جیسے حساس طبی ادارے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کا یہ بیان بالکل حقائق پر مبنی ہے کہ یہ واقعہ کسی پرامن سیاسی احتجاج کا تسلسل ہرگز نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائی تھی جس کا مقصد آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو آگ و خون میں دھکیلنا تھا۔

جب ہم اس پورے قضیے کے گہرے سیاق و سباق کا جائزہ لیتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طریقہ کار اور لکیرِ عمل پر کئی سنگین اور تلخ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا ایجنڈا بظاہر تو مقامی اور معاشی مطالبات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے لیکن افسوس! جس بے دردی سے ان معصوم مطالبات کی آڑ لے کر ہمارے خونِ جگر،ہمارے نوجوانوںکو ریاست کے خلاف اکسایا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے اور 9 جون جیسی ہڑتالوں کے خونی ہتھکنڈوں سے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے ماؤں کی گودیں اجاڑنے کی کوششیں کی گئیں، اس سے ایک انتہائی گہری، بھیانک اور روح فرسا سازش کی بو آتی ہے۔

لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بیٹھا ہمارا ازلی اور مکار دشمن ہندوستان تو ہمیشہ سے اسی تاک میں رہتا ہے کہ کب اس دھرتی پر کوئی چنگاری سلگے اور وہ اسے ایک ہولناک آگ میں بدل دے۔ وہ ہماری دھرتی کے مقامی عدم اطمینان یا عوامی احتجاج کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد کی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب بھی آزاد کشمیر میں کوئی اندرونی انتشار پیدا ہوتا ہے، بھارتی میڈیا اور اس کے پروپیگنڈا سیل گدھوں کی طرح اس پر جھپٹتے ہیں اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے یہ جھوٹا تاثر دیا جا سکے کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان سے نالاں ہیں۔ لہٰذا اس تحریک کی آڑ میں ہونے والی مسلح کارروائیوں اور ہندوستان نواز عناصر کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو کسی صورت خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کو کمزور کرنے اور کشمیر کے مقدس کاز کے خون سے ہولی کھیلنے کے لیے اس طرح کی تخریب کاری دشمن کا آزمودہ اور غلیظ ترین ہتھیار ہے۔اس نازک ترین اور فیصلہ کن موڑ پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ محض کوئی سیاسی سمجھوتہ یا جغرافیائی لکیر نہیں ہے بلکہ یہ دلوں کا دھڑکتا ہوا وہ لازوال رشتہ ہے جسے ہمارے اسلاف نے اپنے پاکیزہ خون اور نسلوں کی لازوال قربانیوں سے سینچا ہے۔ آزاد کشمیر کے غیور، غیرت مند اور محبِ وطن عوام نے ہمیشہ پاکستان کے سبز ہلال پرچم سے اپنی عقیدت کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے اور وہ ایسے کسی بھی کالے ایجنڈے کو پیروں تلے روند دیں گے جو انہیں ان کی اپنی محافظ سکیورٹی فورسز کے سامنے لا کھڑا کرے۔

ریاست کی رٹ کو آہنی ہاتھوں سے برقرار رکھنا، عوامی امن کا تحفظ کرنا اور سڑکوں پر بہنے والے اپنے شہیدوں کے مقدس خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لینا اب انتظامیہ کا اولین اور ناگزیر فرض ہونا چاہیے۔ عوامی حقوق کا منافقانہ لبادہ اوڑھ کر اس پاک دھرتی پر دہشت گردی، بارود اور انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جا سکتی۔ اب مصلحتوں کو دفن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان شرپسند عناصر کے سہولت کاروں، ان کے پسِ پردہ چھپے آقاؤں اورسہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ پھر کوئی ہماری امن امنگوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے تاکہ غیور کشمیریوں کا امن اور پاکستان کے ساتھ ان کا یہ پاکیزہ و لازوال رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ اور ناقابلِ تسخیر رہ سکے۔

نوٹ:

ادارے کی وضاحت (Disclaimer): > اس کالم / مضمون میں ظاہر کی گئی آراء، خیالات اور تجزیے مکمل طور پر کالم نگار کے ذاتی ہیں۔ ادارہ (میڈیا ہاؤس/ویب سائٹ) کا ان سے متفق ہونا یا ان کی توثیق کرنا ہرگز ضروری نہیں ہے۔ مضمون میں پیش کیے گئے حقائق اور معلومات کی صحت و درستگی کی ذمہ داری بھی کالم نگار پر عائد ہوتی ہے۔ ادارہ کسی بھی اخلاقی، سماجی یا قانونی پیچیدگی کی صورت میں کسی قسم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button