سوریا ونشی کو کرکٹ کا نشہ،گیل نے چھکے مارنےوالی مشین کیوں کہا؟
لاہور:(خصوصی رپورٹ/محمد قیصر چوہان)

کرکٹ کے آسمان پر ویبھو سوریاونشی کی شکل میں نئے ستارے کا ظہور ہو چکا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کرس گیل نے ویبھو سوریاونشی کو ’چھکے مارنے والی مشین‘کا لقب دیا ہے۔محض 15 سال کی عمر میں ویبھو سوریا ونشی نے اپنی طوفانی بلے بازی سے ہر طرف سنسنی پھیلا رکھی ہے۔
آئی پی ایل میں کم عمری میں اپنی غیر معمولی صلاحیت اور شاندار کارکردگی کے ذریعے قومی و بین الاقوامی سطح پر شناخت بنانے والے ویبھو سوریاونشی کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر معمولی صلاحیت کو اگر درست ماحول، رہنمائی اور مواقع ملیں تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتی ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں راجستھان رائلز کے 15 سالہ نوجوان اوپننگ بیٹر ویبھوو سوریاونشی نے اپنی شاندار بیٹنگ سے دھوم مچائی،ویبھو نے آئی پی ایل 2026 کے 16 میچوں میں 48.50 کی اوسط سے کل 776 رنز بنائے جبکہ ان کا سٹرائیک ریٹ 237.30 رہا۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئر لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز جبکہ ایشین گیمز کیلئے پندرہ سالہ ویبھو سوریاونشی کو بھارتی کرکٹ ٹیم میں شامل کر لیا ہے ۔

27 مارچ 2011ءکو بھارت کے صوبے بہار کے ضلع سمستی پور سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے گاﺅں تاج پور میں جنم لینے والے ویبھو سوریاونشی نے 12 سال کی عمر میں 2024ءمیں رنجی ٹرافی میں بہار کیلئے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔ اسی سال کے آخر میں وہ انڈین پریمیئر لیگ میں معاہدہ کرنے والے اب تک کے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے، 13 سال کی عمر میں راجستھان رائلزنے انہیں ایک کروڑ دس لاکھ روپے کے عوض اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔
ویبھو کے والد سنجیو سوریاونشی بھارتی ٹیم کی نمائندگی کا خواب آنکھوں میں سجا کر روزانہ اپنے گاﺅں سے سائیکل پر100 کلو میٹر دور پٹنہ میں کرکٹ کھیلنے جاتے تھے ، ان دنوں ضلع بہار کی ٹیم ڈومیسٹک کرکٹ میں شامل نہیں تھی ۔بعد ازاں سنجیو سوریاونشی ممبئی چلے وہاں شپ یارڈ میں نوکری کرنے لگے ،پھر انہوں نے نائٹ کلب میں بطور باکسر بھی کام کیا ۔
اس کے بعدوہ اپنے گاﺅںتاج پورواپس آگئے اور آرٹیفیشل زیورات کی دوکان چلانے لگے ۔اسی دوران ان کا بیٹا ویبھو سوریاونشی چار سال کا ہوا تو انہوں نے ویبھو کو چوتھی سالگرہ پر کرکٹ بیٹ گفٹ کیا ۔ جب ویبھو نے پہلی مرتبہ کرکٹ بیٹ پکڑ کر کھیلنا شروع کیا تو ان کے دادا اُمیش پرتار سنگھ نے انہیں کھیلتا دیکھ کر پیش گوئی کی کہ ویبھو ایک دن بڑا کھلاڑی بنے گا ۔جب ویبھو کی عمر نو سال ہوئی توان کے والد سنجیو سوریاونشی نے ایس یو وی خریدی اور اپنے بیٹے کو کرکٹر بنانے کا خواب آنکھوں میں سجا کر اپنے گاﺅں سے پٹنہ میں واقع جین نیکسٹ کرکٹ اکیڈمی میں چلے گئے اور اپنے بیٹے کو وہاں داخلہ لے دیا۔
جہاں پر سابق فرسٹ کلاس کرکٹر منیش کمار اوجا ،نو سالہ ویبھوکی کوچنگ کرنے لگے ، ویبھو سوریاونشی روزانہ صبح چار بجے اُٹھتے کو فریش ہو کر اپنے والد کے ہمراہ تین گھنٹے کا طویل سفر کرکے پٹنہ میں واقع جین نیکسٹ کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس کیلئے پہنچتے ، ویبھو سوریاونشی روزانہ چھے سو گیندیں کھیلتے اور اس دوارن وہ جارہانہ انداز اپناتے ہوئے چھکے لگانے کی پریکٹس کرتے تھے۔سنجیو سوریاونشی نے اپنے بیٹے ویبھو کو کرکٹر بنانے کی خاطر اپنی زرعی زمین فروخت کردی ،اور اس رقم سے اپنے گاﺅں میں ایک پریکٹس پچ بنوائی تا
کہ ویبھو کو گھر کے پاس ہی پریکٹس کا موقع مل سکے ۔

ویبھو ان دنوں ڈاکٹر مکیتشور سہنا اسکول میں پڑھتے تھےرواں برس ویبھو نے میٹرک کے پیپر دینے تھے لیکن وہ آئی پی ایل کی تیاریوں میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے پیپر نہیں دے سکے ۔اسی لیے انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل)کے چیئرمین للت مودی نے ویبھو کو اسکالر شپ آفر کی ۔ویبھو سوریاونشی 12 سال کی عمر میں بہار انڈرکیلئے 19 ونو منکڑ ٹرافی کھیلے۔ انہوں نے جنوری 2024ءمیں 12 سال اور 284 دن کی عمر میں ممبئی کے خلاف رنجی ٹرافی میں بہار کیلئے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بہار کیلئے رنجی ٹرافی میں کھیلنے والے دوسرے سب سے کم عمر کرکٹر اور مجموعی طور پر چوتھے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔

وہ جدید دور کے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں جنہوں نے یوراج سنگھ (15 سال اور 57 دن) کا ریکارڈ توڑ دیا جس میں علیمودین نے راجپوتانہ کیلئے-43 1942سیزن میں صرف 12 سال اور 73 دن کی عمر میں سب سے کم عمری میں بھارتی فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے کا مجموعی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ نومبر 2024ءمیں وہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)میں معاہدہ کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے تھے جب انہوں نے 13 سال کی عمر میں راجستھان رائلز میں شمولیت اختیار کی تھی۔ویبھو نے 2023ءمیں کواڈرینگولر انڈر 19 سیریز میں انڈیا بی انڈر 19 کی طرف سے کھیلا جس میں انھوں نے چھ اننگز میں 177 رنز بنائے جن میں 2 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ ستمبر 2024ءمیں انہوں نے آسٹریلیا انڈر 19 کے خلاف یوتھ ٹیسٹ میچ میں ہندوستان انڈر 19 کیلئے ڈیبیو کیاتھا۔

ڈیبیو پر انہوں نے 104 رن پر رن آئوٹ ہونے سے پہلے 58 گیندوں پر سنچری بنائی، جو ہندوستان کے انڈر 19 کھلاڑی کیلئے سب سے تیز سنچری ہے۔ ان کی اننگز میں 14 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ یہ 2005ءمیں انگلینڈ انڈر 19 کیلئے معین علی کی 56 گیندوں کی کوشش کے بعد انڈر 19 کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین سنچری تھی۔
پورے سیزن میں 72 چھکوں کی مدد سے سب سے زیادہ 776 رنز بنا کر اورنج کیپ جیتنے والے اس نوجوان کرکٹر کی مجموعی آمدن 2.50 کروڑ بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی ہے،آئی پی ایل 2026 کی اختتامی تقریب میں 15 سالہ ویبھو سوریاونشی پر انعامات کی برسات ہوئی، جہاں انہیں ان کی شاندار کارکردگی پر متعدد بڑے اعزازات اور نقد رقم سے نوازا گیا۔انہیں راجستھان رائلز نے گزشتہ سیزن سے پہلے ہونے والی نیلامی میںایک کروڑ دس لاکھ بھارتی روپے میں اسکواڈ کا حصہ بنایا تھا، جبکہ اس سال ان کی ریٹینر رقم بھی وہی رہی، تاہم مستقل شاندار کارکردگی کے باعث ان کی مجموعی آمدن اس سے کہیں زیادہ رہی اگرچہ راجستھان رائلز فائنل کیلئے کوالیفائی نہیں کر سکی۔
لیکن ویبھو سوریاونشی نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل کے بعد ایوارڈ تقریب میں شرکت کی۔ویبھو نے آئی پی ایل کے پورے سیزن میں 72 چھکوں کی مدد سے سب سے زیادہ 776 رنز بنا کر اورنج کیپ جیتی ، جس پر انہیں 10 لاکھ روپے کا انعام ملا۔سیزن کے بہترین کھلاڑی کے طور پر انہیں موسٹ ویلیو ایبل پلیئر کا ایوارڈ دیا گیا جس کے ساتھ 15 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھیسوریاونشی کو ان کی جارحانہ بیٹنگ پر سپر اسٹرائیکر آف دی سیزن کا اعزاز بھی دیا گیا، جس کے تحت انہیں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک برانڈ نیو ٹاٹا سیرا کار بطور انعام دی گئی۔
سیزن میں مجموعی طور پر 72 چھکے لگانے پر انہیں سپر سکسز آف دی سیزن کے ایوارڈ کے ساتھ مزید 10 لاکھ روپے دیے گئے،ر موسٹ سکسز آف دی میچ پر بھی ہر بار 1 لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ ٹورنامنٹ کے سب سے بہترین نوجوان کھلاڑی کے طور پر ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن کا ایوارڈ بھی ان کے نام رہا، جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھی۔ان سالانہ ریٹینر اور انعامی رقوم کے علاوہ سوریہ ونشی کو ہر میچ کیلئے 7.5 لاکھ روپے میچ فیس بھی ملی انہوں نے سیزن میں 16 میچز کھیلے، جس کے نتیجے میں صرف میچ فیس سے ان کی آمدن ایک کروڑ بیس کروڑ روپے تک پہنچی، مجموعی طور پر آئی پی ایل 2026 سیزن میں ویبھو سوریا ونشی کی آمدن 2 کروڑ پچاس لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔
ویبھو سوریاونشی کا کہنا ہے کہ پہلی گیند پر چھکا مارنے پر خوشی ہوتی ہے ، میںایک دن سے زیادہ کرکٹ کی پریکٹس سے دور نہیں رہ سکتا۔انڈیا کیلئے تینوں فارمیٹ کامیابی سے کھیلنا چاہتا ہوں۔ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں کرس گیل کا 175 رنز کا ریکارڈ توڑنا چاہتا ہوں۔میں آئس کریم بڑے شوق سے کھاتا ہوں اورفارغ وقت میں کارٹون دیکھتا ہوں ۔
ویبھو سوریاونشی کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر معمولی صلاحیت کو اگر درست ماحول، رہنمائی اور مواقع ملیں تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتی ہے۔ کسی بھی بڑی کامیابی کے پیچھے صرف فرد کی کوشش نہیں ہوتی، بلکہ خاندان، تربیت دینے والوں، سماجی تعاون اور ادارہ جاتی تعاون کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔



