سرکاری ملازمین کا سیکرٹریٹ کے باہردھرنا،نعرے بازی
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیرنقوی) پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری ملازمین بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ لاہور میں سیکرٹریٹ کے باہر ملازمین کا تین روز سے دھرنا جاری ہے،احتجاج کرنے والے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکام کی جانب سے صوبے کے میڈیا اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ دھرنے کی کوریج نہ کی جائے اور سرکاری ملازمین کے مسائل کو نمایاں نہ کیا جائے۔

مظاہرین کے مطابق تین دن گزر جانے کے باوجود نہ تو مذاکرات کے لیے باضابطہ دعوت دی گئی اور نہ ہی براہِ راست رابطہ کیا گیا۔خبر ہے کہ سارے میڈیا کو منع کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے گڈ گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر صوبے کے لاکھوں سرکاری ملازمین خود اضطراب اور احساسِ محرومی کا شکار ہیں تو پھر گڈ گورننس کا دعویٰ کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے؟ ان کے نزدیک اصل امتحان یہی ہے کہ حکومت اپنے ہی انتظامی ڈھانچے کے ستون سمجھے جانے والے ملازمین کے ساتھ کس طرح مکالمہ اور مسئلہ حل کرنے کی حکمتِ عملی اپناتی ہے۔
سرکاری ملازمین کے بنیادی مطالبات دو نکات پر مرکوز ہیں:
1. ریاست تمام سرکاری ملازمین سے یکساں سلوک کرے اور تنخواہوں و مراعات میں موجود واضح تفاوت کو ختم کیا جائے۔
2. جن شرائط پر ملازمین کو بھرتی کیا گیا، انہی شرائط پر ریٹائرمنٹ دی جائے اور پنشن و گریجویٹی میں یکطرفہ کمی واپس لی جائے۔
ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کے معاملے پر وفاق اور صوبے کے درمیان فرق، لیو انکیشمنٹ کی منسوخی، پنشن اور گریجویٹی میں تخفیف، اور 17-A قانون کے خاتمے جیسے اقدامات نے ملازمین میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مالی دباؤ اور International Monetary Fund کی شرائط کے باعث اخراجات میں کمی ناگزیر ہے۔ تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر بیرونی دباؤ موجود ہے تو صوبائی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرے اور کوئی متوازن حل تلاش کرے۔
پنجاب میں لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز موجود ہیں۔ ایسے میں ایک سنجیدہ اور فوری مکالمہ، شفاف وضاحت اور مرحلہ وار اصلاحات ہی اس کشیدگی کو کم کر سکتی ہیں۔ بصورتِ دیگر احساسِ محرومی اور بداعتمادی میں اضافہ صوبے کے انتظامی اور سماجی ڈھانچے پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



