طاقتوروں نےعدالت کے کا بر وقت استعمال کر کے تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرا دیا ہے ،یہ دھرنا کے پی کے آٹھ سے دس مقامات پر جاری تھا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر جاری تحریک تحفط آئین پاکستان کا دھرنا بھی ختم ہو چکا ہے اگرچہ اس دھرنے کے تمام مقاصد تو پورے نہ ہو سکے عمران خان کی آنکھ کے مکمل علاج تک ان کو ہسپتال میں رکھا جائے اور خان کے ذاتی معالج کی زیر نگرانی علاج ہو تاہم جزوی طور پر دھرنا دینے والے کامیاب رہے۔

اڈیالہ جیل میں چند ماہر ڈاکٹروں کا پینل گیا وہاں تمام جدید آلات سے خان کا علاج شروع کیا گیا جس سے بہتری کی امید پیدا ہوئی تاہم خان کے ذاتی معالج بھی ساتھ ہوتے تو اس میں کوئی قباحت نہیں تھی ،پھر عالمی سطح پر کپتان کی حمایت میں مزید اضافہ ہوا ملک میں تو وہ اس وقت مقبول ترین سیاستدان ہیں ہی مگر آنکھ کی بیماری کے بعد حکومتی غفلت نے خان کے لئے ہمدری کی لہر میں مزید اضافہ کیا ہے جو خان کا ورٹر نہیں بھی وہ بھی ان کیلئے اب نیک جذبات رکھتا ہے ، پارلیمنٹ ہائوس والے دھرنے نے عالمی میڈیا پر بہت زیادہ کوریج پائی ۔

تمام موقر اخبارات و جرائد اور ویب سائٹ نے نمایاں طور پر خبریں شائع کی ہیں اسکے علاہ ملکی و غیر ملکی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کھل کر کپتان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں جن میں کپل دیو ،سنیل گواسکر، محمد اظہر الدین سر کلائیو لائیڈ ،سیٹو واہ، جان رائٹ،مائیکل اتھرٹن ،ناصر حسین اور دیگر شامل ہیں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے اس فسطائی نظام کے خلاف پہلی بار کھل کر ملکی کرکٹر بھی بولے ہیں جن میں وقار یونس وسیم اکرم راشد لطیف یونس خان شاہد آفریدی اور جاوید میاں داد وغیرہ نے کھل کر کپتان کے علاج کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ جابر نظام طاقت ور اور ان کی کٹھ پتلی فارم 47 کی حکومت اندر سے کس قدر بزدل ہے ان کے اعصاب پر خان کی مقبولیت کا خوف اس قدر سوار ہے کہ یہ خان کو ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں، یہی ڈر ان کے اعصاب پر سوار ہے کہ کہیں خان کو دیکھنے کے لئے عوام کا رش نہ لگ جائے۔

دوسری طرف فارم 47 کی حکومت کے اندر سے ہی سچ سامنے آرہا ہے رانا ثنا اللہ نے بتا دیا ہے کہ دو بار خان کو ڈیل کی پیشکش کی گئی مگر خان نے انکار کر دیا خان پاکستانی سیاست میں اساطیری کردار بنتا جا رہا ہے وہ وزارت عظمی کے عہدے سے بہت آگے نکل چکا ہے ہیت متدرہ نے اسے نواز شریف سمجھ کر سودے بازی کی جو بھی پیشکش کی وہ اس نے ٹھکرا دی ہے خان مانگتا کیا ہے صرف اپنے ذاتی معالجوں کی زیر نگرانی علاج ،فارم 47کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اعتراف کیا ہے خان بیرون ملک علاج کی کوئی دراخواست نہیں کی ہے۔

خان سول سپرمیسی کی ایک علامت بن کر ابھر چکا ہے ابتک آل شریف ہی اسکے خلاف بیان بازی کر کے اپنی گرتی ساکھ کو بچانے لگی ہوئی تھی اور ناکامی سیمٹ رہی تھی مگر اب فارم 47 کے صدر آصف علی زرادی نے بھی اڑتا تیتر پکڑنے کی جو کوشش کی ہے وہ انکے گلے پر چکی،بہتر تھا ایون صدر کے کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتے رہتے ، سابق وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور چند ماہ کی خاموشی کے بعد نمودار ہوئے ہیں پہلے تو دھرنے میں موجود رہے پرجوش انداز میں نعرے بازی کرتے رہے مگر بعد میں کچھ ایسا کہہ گئے جس نے انکے کردار کو مشکوک کر دیا ۔

میرا ماننا ہے کہ علی امین گنڈا پور خان سے غداری نہیں کر رہا بس اسے وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کی جو عادت ہے وہ اس کو اور شیر افضل مروت دونوں کے کردار کو مشکوک بنا دیتی ہے یہ دونوں خان کی رہائی چاہتے ہیں مگر انداز بیان ان کو رسوا کر جاتا ہے۔



