انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

دھرنے سے پہلے اور بعد کی صورتحال۔۔۔

طاقتوروں نےعدالت کے کا بر وقت استعمال کر کے تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرا دیا ہے ،یہ دھرنا کے پی کے آٹھ سے دس مقامات پر جاری تھا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر جاری تحریک تحفط آئین پاکستان کا دھرنا بھی ختم ہو چکا ہے اگرچہ اس دھرنے کے تمام مقاصد تو پورے نہ ہو سکے عمران خان کی آنکھ کے مکمل علاج تک ان کو ہسپتال میں رکھا جائے اور خان کے ذاتی معالج کی زیر نگرانی علاج ہو تاہم جزوی طور پر دھرنا دینے والے کامیاب رہے۔

imran-khan

اڈیالہ جیل میں چند ماہر ڈاکٹروں کا پینل گیا وہاں تمام جدید آلات سے خان کا علاج شروع کیا گیا جس سے بہتری کی امید پیدا ہوئی تاہم خان کے ذاتی معالج بھی ساتھ ہوتے تو اس میں کوئی قباحت نہیں تھی ،پھر عالمی سطح پر کپتان کی حمایت میں مزید اضافہ ہوا ملک میں تو وہ اس وقت مقبول ترین سیاستدان ہیں ہی مگر آنکھ کی بیماری کے بعد حکومتی غفلت نے خان کے لئے ہمدری کی لہر میں مزید اضافہ کیا ہے جو خان کا ورٹر نہیں بھی وہ بھی ان کیلئے اب نیک جذبات رکھتا ہے ، پارلیمنٹ ہائوس والے دھرنے نے عالمی میڈیا پر بہت زیادہ کوریج پائی ۔

IMRAN-KHAN

تمام موقر اخبارات و جرائد اور ویب سائٹ نے نمایاں طور پر خبریں شائع کی ہیں اسکے علاہ ملکی و غیر ملکی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کھل کر کپتان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں جن میں کپل دیو ،سنیل گواسکر، محمد اظہر الدین سر کلائیو لائیڈ ،سیٹو واہ، جان رائٹ،مائیکل اتھرٹن ،ناصر حسین اور دیگر شامل ہیں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے اس فسطائی نظام کے خلاف پہلی بار کھل کر ملکی کرکٹر بھی بولے ہیں جن میں وقار یونس وسیم اکرم راشد لطیف یونس خان شاہد آفریدی اور جاوید میاں داد وغیرہ نے کھل کر کپتان کے علاج کا مطالبہ کیا ہے۔

imrn khan

یہ جابر نظام طاقت ور اور ان کی کٹھ پتلی فارم 47 کی حکومت اندر سے کس قدر بزدل ہے ان کے اعصاب پر خان کی مقبولیت کا خوف اس قدر سوار ہے کہ یہ خان کو ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں، یہی ڈر ان کے اعصاب پر سوار ہے کہ کہیں خان کو دیکھنے کے لئے عوام کا رش نہ لگ جائے۔

imran khan

دوسری طرف فارم 47 کی حکومت کے اندر سے ہی سچ سامنے آرہا ہے رانا ثنا اللہ نے بتا دیا ہے کہ دو بار خان کو ڈیل کی پیشکش کی گئی مگر خان نے انکار کر دیا خان پاکستانی سیاست میں اساطیری کردار بنتا جا رہا ہے وہ وزارت عظمی کے عہدے سے بہت آگے نکل چکا ہے ہیت متدرہ نے اسے نواز شریف سمجھ کر سودے بازی کی جو بھی پیشکش کی وہ اس نے ٹھکرا دی ہے خان مانگتا کیا ہے صرف اپنے ذاتی معالجوں کی زیر نگرانی علاج ،فارم 47کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اعتراف کیا ہے خان بیرون ملک علاج کی کوئی دراخواست نہیں کی ہے۔

فائل فوٹو

خان سول سپرمیسی کی ایک علامت بن کر ابھر چکا ہے ابتک آل شریف ہی اسکے خلاف بیان بازی کر کے اپنی گرتی ساکھ کو بچانے لگی ہوئی تھی اور ناکامی سیمٹ رہی تھی مگر اب فارم 47 کے صدر آصف علی زرادی نے بھی اڑتا تیتر پکڑنے کی جو کوشش کی ہے وہ انکے گلے پر چکی،بہتر تھا ایون صدر کے کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتے رہتے ، سابق وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور چند ماہ کی خاموشی کے بعد نمودار ہوئے ہیں پہلے تو دھرنے میں موجود رہے پرجوش انداز میں نعرے بازی کرتے رہے مگر بعد میں کچھ ایسا کہہ گئے جس نے انکے کردار کو مشکوک کر دیا ۔

فائل فوٹو

میرا ماننا ہے کہ علی امین گنڈا پور خان سے غداری نہیں کر رہا بس اسے وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کی جو عادت ہے وہ اس کو اور شیر افضل مروت دونوں کے کردار کو مشکوک بنا دیتی ہے یہ دونوں خان کی رہائی چاہتے ہیں مگر انداز بیان ان کو رسوا کر جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button