انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

” پٹرول بم “ سے پاکستان میں تباہی

تحریر:حافظ محمد صالح

عالمی دہشت گرد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے والے شہباز شریف کی حکومت نے جنگ کے نام پر پاکستانی عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ کا بہانہ بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، اس اضافے میں 20 روپے لیوی کے ہیں۔

حکومت ایک لیٹر پیٹرول پر ایک عام فرد سے 120 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں وصول کررہی ہے جو سراسر ظلم ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 برس میں عوام سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی مد میں 26 سو ارب وصول کیا۔حکومت کو قوم کو بتائے کہ ایف بی آر کے26 ہزار ملازمین نے اشرافیہ سے کتنا ٹیکس وصول کیا ہے؟ ۔حکومت اپنی عیاشیاں کم کرنے اور اشرافیہ سے ٹیکس وصول کرنے کو تیار نہیں جبکہ عام آدمی کا خون نچوڑرہی ہے۔

عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے وزیراعظم سرکاری گاڑیوں کو مفت پیٹرول کی فراہمی اور بڑی گاڑیوں کی جگہ چھوٹی گاڑیوں کے استعمال کا اعلان کریں۔ عالمی مارکیٹ میں گزشتہ مہینوں تیل کی قیمت 5 سال کی کم ترین سطح پر آئی تو حکومت نے عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافہ عوام کو ایک ایسا جھٹکا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں پورے معاشرے میں محسوس کیے جائیں گے۔

پٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ڈیزل بھی تقریباً 335 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے نے عام آدمی کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کا عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر بنیادی اشیائے خورو نوش کی قیمتیں پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں مسلسل اضافے نے متوسط طبقے کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں پٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ گویا مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا اعلان ہے۔

حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ اضافہ عالمی حالات کے باعث ناگزیر تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور خطے میں جاری تنازعے نے عالمی توانائی کی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فی صد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس راستے میں خلل پڑتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑتے ہیں۔

پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پاکستان کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کا تقریباً 70 فی صد سے زیادہ خام تیل سعودی عرب سے آتا ہے جبکہ کچھ مقدار کویت اور ابوظہبی سے حاصل کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایل این جی کی بڑی مقدار قطر سے درآمد کی جاتی ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جو عوام کے ذہنوں میں شدت سے ابھر رہا ہے۔

اگر پاکستان کے پاس پٹرول اور ڈیزل کے 28 دن کے ذخائر موجود ہیں، جیسا کہ اوگرا نے خود تسلیم کیا ہے، تو پھر قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ فوری طور پر کیوں کیا گیا؟ اوگرا کے مطابق عام حالات میں 21 دن کے ذخائر کو محفوظ سطح سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس وقت ملک میں 28 دن کا اسٹاک موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم ایک ماہ تک فوری قلت کا خطرہ موجود نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ سوال بالکل جائز ہے کہ عوام پر مہنگائی کا یہ نیا بوجھ ابھی سے کیوں ڈالا گیا؟ کیا حکومت کے پاس ایسا کوئی واضح منصوبہ ہے جس کے تحت ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے؟ یا پھر یہ فیصلہ صرف عالمی دباﺅاور مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے کے لیے کیا گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ صرف عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ بھی شامل ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر صرف عالمی قیمتوں کا اثر منتقل کیا جاتا تو پٹرول کی قیمت تقریباً 32 سے 35 روپے فی لیٹر بڑھتی، مگر حکومت نے اس کے ساتھ 20 روپے فی لیٹر لیوی بھی بڑھا دی۔ اس طرح مجموعی اضافہ 55 روپے تک پہنچ گیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے عوام کے غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ معاشی اصلاحات کے نام پر سب سے آسان راستہ عوام کی جیب پر ہاتھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی ایک بنیادی شے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشی نظام میں پھیل جاتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب صرف گاڑی میں ایندھن ڈالنا مہنگا ہونا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ پاکستان میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 80 فی صد حصہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ، فوڈ سپلائی چین اور صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کرے گا۔ جب ٹرک اور بسوں کا کرایہ بڑھے گا تو سبزی، پھل، آٹا اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ یوں مہنگائی کی یہ لہر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہر گھر کے باورچی خانے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید شدت اختیار کرے گی۔

عوام کے ذہنوں میں یہ سوال اس لیے بھی شدت سے ا ±ٹھ رہا ہے کیونکہ ایک طرف انہیں قربانیوں کا درس دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی اخراجات میں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی۔ وزراءاور اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے والی گاڑیاں، پٹرول الاﺅنس اور دیگر مراعات اب بھی اسی طرح جاری ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جا رہا ہے، حکمران طبقے کی شاہانہ طرزِ زندگی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔

عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ملک کو واقعی معاشی مشکلات کا سامنا ہے تو کیا حکمران طبقہ بھی اپنی مراعات میں کمی کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا سرکاری گاڑیوں، پٹرول الاﺅنس اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کی جا رہی ہے؟ دنیا کے کئی ممالک میں معاشی بحران کے دوران حکمران طبقہ خود مثال قائم کرتا ہے۔ وزراءاپنی تنخواہوں میں کمی کرتے ہیں، سرکاری اخراجات کم کیے جاتے ہیں اور عوام کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ قربانی سب کو دینی ہے۔ مگر پاکستان میں اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی غصہ صرف مہنگائی پر نہیں بلکہ اس عدم مساوات پر بھی ہے جو حکمران اور عوام کے درمیان واضح طور پر نظر آتی ہے۔

پاکستان میں منافع خور بزنس گروپس، بیوروکریسی کے شرارتی دماغ اور بلیک مارکیٹرز ہر وقت ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جب انھیں کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ جنگ ہو، زلزلہ ہو یا دیگر قدرتی آفات ہوں، اس گروہ کا مقصد حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی دولت کو کئی گنا بڑھانا ہوتا ہے۔اس وقت غور کیا جائے تو جنگ پاکستان سے دور ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو بڑی حد تک تیل پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریز بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس گیس کے بھی ذخائر موجود ہیں۔کوئلے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان انتہائی مشکل وقت میں بھی گزارا کر سکتا ہے۔ جہاں تک آبنائے ہرمز بند ہونے کا تعلق ہے تو حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس آبنائے میں بین الاقوامی ٹریفک مکمل طور پر بند نہیں ہے۔

پاکستان زیادہ تر تیل سعودی عرب سے خریدتا ہے۔ سعودی بندرگاہ بحیرہ احمر پر واقع ہے۔ پاکستان کی حکومت اگر آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہوئی ہے، جیسا کہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے تو یہ بھی ادھورا سچ لگتا ہے۔آئی ایم ایف کی پالیسی اور ٹارگٹس کا تعلق ریونیو کی وصولی سے ہے۔ پاکستان میں ریونیو کا جو ٹارگٹ مقرر کر رکھا ہے، اگر آئل امپورٹ پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور ٹارگٹ پورا کرنے میں شارٹ فال نظر آتا ہے تو اسے کسی دوسری مد سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے پارلیمانی ڈھانچے پر اٹھنے والے اخراجات پر غور کیا جائے تو اس کا تخمینہ بھی کروڑوں روپے مہینہ ہو گا۔ اسے اگر سالانہ بنیادوں پر جمع کیا جائے تو یہ رقم کئی اربوں تک پہنچ جائے گی۔اگر پاکستان کے پارلیمنٹیرینز جنھوں نے گزشتہ سال اپنی تنخواہوں اور دیگر الاﺅنسز میں اضافہ کیا ہے، اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز تین ماہ کے لیے اپنی تمام تنخواہیں اور مراعات بحق عوام قومی خزانے میں جمع کروا دیں تو ریونیو کا شارٹ فال کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button