مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباو¿ ڈالتا ہے۔اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباو¿ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک سمندری راستہ موجود ہے۔ اس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 40 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔یہ سمندری راستہ اتنا ہی گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا 10 کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کر سکتے ہیں۔ اس راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔
فریٹ اینالیٹکس فرم وورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سال اوسطاً روزانہ اوسطا 20 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر ایندھن اس راستے سے گزرے۔یہ تقریباً سالانہ 600 ارب ڈالر کی توانائی کے ذرائع کی تجارت کے برابر ہے جو ہر سال سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ایران اور دیگر اوپیک رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، اور عراق اپنے گاہکوں خصوصاً ایشیائی ممالک کو زیادہ تر خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی برآمد کرتے ہیں۔آبی راستے میں کسی بھی قسم کی خلل عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں نمایاں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی 20 فیصد رسد متاثر رہی ہے۔ سعودی عرب روزانہ تقریبا چھ ملین بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جو کسی بھی پڑوسی ملک سے زیادہ ہے۔ چین، بھارت، جاپان، اور جنوبی کوریا خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہیں جو اس راستے سے گزرتا ہے۔چین آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔ اس تیل کا ایک بڑا حصہ اسے ایران عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے کم قیمتوں پر فروخت کرتا ہے اور جو تہران کو امریکی پابندیوں سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباو¿ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابل غور ہے۔
یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میںمشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔



