انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ڈیجیٹل دہشتگردی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ

شاہدجاوید ڈسکوی / دستک

پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں روایتی عسکری اور داخلی سلامتی کے خطرات کے ساتھ ایک جدید اور کثیرالجہتی چیلنج "ڈیجیٹل دہشتگردی”تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ خطرہ محض سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ یا بے ہنگم سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور سٹریٹیجک وار فیئر کا حصہ ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، فیک نیوز، گمراہ کن بیانیوں اور نفسیاتی حربوںکو بروئے کار لا کر ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس مہم کے تحت قومی اداروں خصوصاً عسکری و عدالتی نظام کی ساکھ کو مجروح کرنا، عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا اور ریاست کے مؤقف کو عالمی و مقامی سطح پر مشکوک بنانا ،بنیادی اہداف میں شامل ہیں۔یہ ڈیجیٹل یلغار اندرونی انتشار کو ہوا دینے، سیاسی تقسیم کو گہرا کرنے اور نوجوان نسل کو ذہنی طور پر متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس سے قومی یکجہتی اور پالیسی سازی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں ڈیجیٹل دہشتگردی نہ صرف ایک تکنیکی یا ابلاغی مسئلہ ہے بلکہ ایک جامع قومی سلامتی کا چیلنج بن چکا ہے، جس کے تدارک کے لیے مربوط پالیسی، قانونی فریم ورک، سائبر سکیورٹی کے مضبوط نظام اور مؤثر بیانیاتی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

ماضی میں جنگیں جغرافیائی سرحدوں تک محدود رہتی تھیں جہاں عسکری قوت، اسلحہ اور میدانِ جنگ فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے تاہم عصرِ حاضر میں یہ تصور یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور جنگ کا دائرہ انسانی ذہن، ادراک اور رائے سازی تک پھیل گیا ہے۔ جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن فورمز اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس ایسے غیر مرئی مگر انتہائی مؤثر ہتھیار کے طور پر ابھرے ہیں جن کے ذریعے ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنا، عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا اور ادارہ جاتی ساکھ کو نقصان پہنچانا ممکن بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ معلوماتی و نفسیاتی جنگ خاص طور پر قومی اداروںبالخصوص دفاعی اور انٹیلی جنس ڈھانچےکو ہدف بنائے ہوئے ہے، جہاں منظم انداز میں منفی بیانیہ تشکیل دے کر نہ صرف ان اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی مجروح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس کا بیڑا بیرون ملک بیٹھے بھگوڑے ڈیجیٹل دہشتگردوں نے اٹھا رکھا ہے اور ملک کے اندرمبینہ طورپرایک سیاسی جماعت کے جذباتی کارکن اس گھناؤنی مہم کا حصہ بن رہے ہیں جس کے ڈانڈے پاکستان دشمن قوتوں بالخصوص ہندوستان اور اسرائیل کے ساتھ جا کر ملتے ہیں۔ اس سازش کا بنیادی مقصد داخلی سطح پر انتشار کو فروغ دینا اور ریاستی یکجہتی کو کمزور کرنا ہے، جو کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ اور پیچیدہ چیلنج کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔

بین الاقوامی سیاست میں ہائبرڈ وارفیئر کا تصور محض نظریاتی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی سطح پر ایک منظم حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس میں روایتی عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی، سفارتی، معاشی اور نفسیاتی ذرائع کو مربوط انداز میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اس طرزِ جنگ کا بنیادی ہدف کسی ریاست کو براہِ راست عسکری تصادم کے بغیر اندرونی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کی فیصلہ سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد متاثر ہو۔ پاکستان کے تناظر میں مختلف شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستان اور اسرائیل جیسی قوتیں جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور معلوماتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایک منظم بیانیہ سازی میں مصروف ہیں،جو ڈیجیٹل دہشتگردوں کے ذریعے قومی اداروں کی ساکھ کو مجروح کرنے، عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو فروغ دینے اور داخلی تقسیم کو گہرا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔

بہت سے عناصر غیر دانستہ طور پر یا لاعلمی کے باعث، ایسے مواد اور بیانیوں کو آگے بڑھاتے ہیں جو بیرونی مقاصد سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، نتیجتاً قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام متاثر ہوتا ہے۔ یوں ہائبرڈ وارفیئر ایک کثیر الجہتی چیلنج کے طور پر سامنے آتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محض عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ جامع قومی بیانیہ، مؤثر ابلاغی پالیسی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ایسی مہمات کے تحت جعلی خبروں کی تخلیق اور تیز رفتار ترسیل کے ذریعے حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، جبکہ مستند معلومات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اصل حقیقت دھندلا جائے اور متبادل بیانیہ فروغ پائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منظم مہمات چلائی جاتی ہیں، جن کا مقصد مخصوص بیانیے کو مصنوعی طور پر مقبول ظاہر کرنا اور عوامی رائے کو ایک خاص سمت میں موڑنا ہوتا ہے۔ ان تمام تکنیکوں میں حساس قومی معاملات کو جذباتی رنگ دینا ایک کلیدی عنصر ہے، جس کے ذریعے عوام کے جذبات کو بھڑکا کر فوری ردِعمل حاصل کیا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ معاملے کی حقیقت یا پیچیدگی کو سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی سطح پر ابہام، بے یقینی اور کنفیوژن پیدا ہوتی ہے بلکہ ریاستی اداروں اور پالیسی سازوں پر بھی غیر ضروری دباؤ بڑھتا ہے، جو بعض اوقات پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کر کے فیصلہ سازی کو غیر متوازن بنا دیتا ہے۔

میڈیا اور عوام کا کردار اس تناظر میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل عہد میں معلومات کی ترسیل نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اس کے اثرات بھی فوری اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ ذمہ دارانہ صحافت، خبر کی مستند ذرائع سے تصدیق اور غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات سے اجتناب وہ بنیادی اصول ہیں جو قومی بیانیے کے تحفظ میں دفاعی حصار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ عوامی سطح پر ڈیجیٹل شعور اور میڈیا لٹریسی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ ہر فرد نہ صرف معلومات کو تنقیدی نظر سے پرکھ سکے بلکہ سچ اور منظم پروپیگنڈا کے درمیان واضح تمیز بھی کر سکے۔ موجودہ حالات میں یہ امر ایک ناقابل تردید حقیقت بن چکا ہے کہ ڈیجیٹل دہشتگردی ایک خاموش مگر نہایت مؤثر جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات محض وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی اور گہرے سماجی و ریاستی مضمرات کے حامل ہوتے ہیں۔

اس چیلنج کا مقابلہ صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت قومی ذمہ داری ہے جس میں قانون سازی، تکنیکی استعداد، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور سماجی آگاہی کو یکجا کرنا ناگزیر ہے۔ جب تک ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت قانونی، تکنیکی اور سماجی اقدامات کو ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، اس خطرے کا مؤثر سدباب ممکن نہیں ہوگا لہٰذا پاکستان کی قومی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ معلوماتی محاذ کو بھی وہی سنجیدگی، حکمت اور ترجیح دی جائے جو روایتی دفاعی محاذ کو دی جاتی ہے، کیونکہ عصر حاضر میں جنگیں صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی ذہن، رائے عامہ اور فکری ساخت کو بھی اپنا ہدف بنا چکی ہیں اور اس میدان میں کامیابی کے لیے بصیرت، قومی اتحاد، اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button