
مشرق وسطی کی جنگ میں سب سے زیادہ زیر بحث آبنائے ہرمز ہے جنگ کا فوکس آبنائے ہرمز بن چکا ہے اہم تجارتی راہ گزر کارگر جنگی ہتھیار بن چکا ہے چھوٹی سی اہم بحری پٹی نے آدھی دنیا کی تجارت اور توانائی کو متاثر کر رکھا ہے آبنائے ہرمز بہترین سٹرٹیجک ویپن بن گیا ہے امریکہ اب ایران کے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگرام سے زیادہ آبنائے ہرمز میں دلچسپی رکھتا ہے امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز پر دسترس حاصل کر لے ایران کو بھی شاید اس سے قبل آبنائے ہرمز کی اس قدر اہمیت کا اندازہ نہیں تھا کہ قدرت نے آبنائے ہرمز کی صورت میں اسے کون سا الہ دین کا چراغ عطا کر دیا ہے ۔
قبل ازیں آبنائے ہرمز فری آمدورفت کا ذریعہ تھی مشرق وسطی کی جنگ نے آب آبنائے ہرمز کو سونے کی چڑیا ثابت کیا ہے ایران کے میزائل حملے شاید اتنے کارگر ثابت نہیں ہوئے جتنا کارگر آبنائے ہرمز ثابت ہو رہا ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی معیشتوں پر پڑنے والے اثرات نے ایران کی بارگینگ پوزیشن کو مضبوط کر دیا ہے آج دنیا کی اہم طاقتیں اپنی معیشتوں کو رواں رکھنے کے لیے اس آبی گزر گاہ کو بلا روک ٹوک کھولنے کے لیے ایران کا ساتھ دے رہی ہیں اور امریکہ پر دبائو کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے امریکہ کو ایک اور پریشانی لاحق ہو گئی ہے کہ ایران نے اس گزرگاہ سے گزرنے والی بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا ہے اور اس سے ایران کو سالانہ 20 ارب ڈالر کی آمدن ہو سکتی ہے۔
اس طرح آبنائے ہرمز کا ٹیکس ایران کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے اب امریکہ کی خواہش ہے کہ ایران کی یہ نئی آمدن بند کی جائے ایران کی بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی بھی شاید اسی وجہ سے کی گئی ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، امریکہ کی سوچ تھی کہ بحری ناکہ بندی سے دنیا کے متاثرہ ممالک ایران پر دباو ڈالیں گے اور ایران امریکہ کی شرائط پر صلح کے لیے راضی ہو جائے گا لیکن یہ تو کام الٹا پڑ گیا ہے اپنے اور غیر تمام کے تمام امریکہ کے بحری ناکہ بندی کے اقدام کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں اور امریکہ پر دباو بڑھا رہے ہیں کہ فوری اس ناکہ بندی کو ختم کیا جائے خاص کر چین جو کہ اس معاملہ میں خاموش تھا اب ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گیا ہے ترکیہ نے بھی اسرائیل کے خلاف کھل کر کردار ادا کرنے کی بھڑک مار دی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مشرق وسطی کا معاملہ گھمبیر تر ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان نے اس معاملہ کے پر امن حل کے لیے جو ماحول بنایا تھا اسے امریکی نائب صدر کے غلط الفاظ کے چناو نے متاثر کیا ہے اگر جے ڈی وینس یہ کہنے کہ مذاکرات فیل ہو گئے ہیں کی بجائے یہ کہہ دیتے کہ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ بہت اچھا رہا کچھ معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا باقی پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے تو شاید معاملات کی حساسیت متاثر نہ ہوتی لیکن ان کے ایک لفظ، فیل، کی وجہ سے یہ تاثر گیا کہ شاید معاملہ دوبارہ کسی بڑی جنگ کی طرف جا رہا ہے دنیا کو اس پر تشویش ہے اور دنیا کے تمام اہم ممالک اس وقت پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پاکستان کی جانب سے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ماحول بنا رہے ہیں۔
تازہ ترین صورتحال میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور ترکیہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لگتا ہے گیم پھر پلٹا کھانے جا رہی ہے امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کی چال فریقین کو دوبارہ جلد مذاکرات کی میز پر اکھٹا ہونے پر مجبور کر دے گی دراصل امریکہ مختلف حیلوں بہانوں سے جنگی ماحول کو طول دینا چاہتا ہے وہ ایران پر خوفناک جنگ کا ڈر برقرار رکھ کر نفسیاتی بریک تھرو چاہتا ہے ایران کے لیے اب یہ اعصابی جنگ بن چکی ہے ایرانی قیادت کے اعصاب کا امتحان شروع ہو چکا ہے امریکہ نت نئے پینتھرے مار کر ایران کو کنفیوز کر رہا ہے لیکن اب حالات پہلے والے نہیں رہے امریکہ کی ماضی کی جنگوں کا اگر موازانہ کیا جائے تو امریکہ نے جہاں بھی حملہ کیا ہے وہ اتحادی فوجوں کے ساتھ کیا ہے پہلی دفعہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے دوسرا امریکہ نے ہمیشہ حملہ آور ہونے سے قبل اس ملک کے اندر سے لوگوں کو حکومتوں کے خلاف اکسایا ہے ایران میں اس کا یہ حربہ ناکام ہو چکا ہے ایرانی قوم کے اندر سے امریکہ کو حمایت نہیں مل رہی تیسرا اس جنگ میں دنیا امریکی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور امریکہ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دبائو بڑھایا جا رہا ہے ۔
پہلی بار امریکہ کے خلاف دنیا کے اہم ممالک نے یا تو نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا ہے ،امریکہ کے خلاف نئے اتحاد بننے کی بھی راہ ہموار ہوتی جا رہی ہے اگر اس جنگ کا جلد فیصلہ نہ ہوا تو یہ کوئی اور رخ بھی اختیار کر سکتی ہے اس میں چین کا کردار بڑا اہم ہے چین اپنی روایتی پالیسیوں کے برعکس اس بار کھل کر سامنے آ رہا ہے روس اپنے زخم تازہ کیے بیٹھا ہے مشرق وسطی کے ممالک اپنے تائیں پیچ وخم کھا رہے ہیں نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔



