انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینصحتعلاقائی خبریں

خدمت انسانیت کا چراغ گل،ہمدرد حکیم سید زبیر علی گیلانی سفرِ آخرت پر روانہ

ہمدرد کے دردمند طبیب کی محبت اور خدمت کی داستان مکمل،مسکراہٹوں سے علاج کرنیوالا وہ جو درد بانٹتا تھا، آج خود مٹی اوڑھ کر حضرت حسن شاہ ولیؒ کے مزار کے احاطہ میں سوگیا

لاہور:(بیوروچیف)سب منزلیں یہیں تھیں، سب راستے یہیں تھے،ہم زندگی کی دوڑ میں گھومتے رہے۔خدمت، اخلاص اور انسان دوستی کی روشن مثال، ہمدرد حکیم سید زبیر علی گیلانی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کی پوری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت، محبت اور عاجزی سے عبارت تھی۔

zubair-gillani-1

12 مارچ 1962 کو پشاور میں آنکھ کھولنے والے حکیم سید زبیر علی گیلانی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہمدرد فاؤنڈیشن کی فری موبائل ڈسپنسری سے کیا، جہاں آپ نے غریب اور نادار مریضوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ بعد ازاں ہمدرد مرکز لاہور میں اپنے مطب کے ذریعے برسوں تک عوام الناس کو شفا اور حوصلہ دیتے رہے۔

zubair-gillani-2

یکم اگست 2001 سے ہمدرد فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستگی اختیار کرنے والےسید زبیر علی گیلانی نے تقریباً پچیس برس تک طب، اخلاق اور انسان دوستی کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ مریضوں کے ساتھ ان کا رویہ محض ایک معالج کا نہ تھا بلکہ وہ انہیں اپنے گھر کے فرد کی طرح سمجھتے، ان کے دکھ درد کو دل سے محسوس کرتے اور خلوص کے ساتھ ان کا علاج کرتے۔

اسی بے لوث خدمت کے باعث وہ صرف ایک حکیم نہیں بلکہ ایک محسنِ انسانیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے،مرحوم کی نمازِ جنازہ 17اپریل 2026بروزجمعرات مسجد صغریٰ قیصر ٹاؤن شاہدرہ لاہور میں ادا کی گئی جس میں اطبا،صحافی،وکلا ،سیاستدانوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ تدفین فیروزوالہ میں واقع حضرت حسن شاہ ولیؒ کے مزار کے احاطہ میں کی گئی جوایک ایسا روحانی مقام ہے جہاں صدیوں سے ذکرِ الٰہی، محبت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا جاتا رہا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرحوم کا سفر جو خدمتِ خلق سے شروع ہوا، آخرکار ایک روحانی منزل پر جا کر مکمل ہواجہاں عاجزی، محبت اور انسانیت وہی اقدار ہیں جن پر انہوں نے اپنی زندگی گزاری۔

مرحوم کی وفات نہ صرف ہمدرد فاؤنڈیشن بلکہ ان بے شمار دلوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جو ان کی شفقت اور محبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔

سید زبیر علی گیلانی کے دیرینہ دوست اور دکھ سکھ کے ساتھی حکیم عبدالرئوف کے مطابق ان کا خلاشاید مدتوں پورا نہ ہوسکے خدمت اور اخلاص کا نمونہ تھے۔

حکیم عبدالرئوف

ہمدردفائونڈیشن سے وابستہ ان کے رفقا علی بخاری اور سٹاف ممبران سمیت تمام عملہ افسردہ اور رنجیدہ ہوگیا،ایک کارکن ملک ندیم کے مطابق حکیم سید زبیر علی گیلانی مریضوں اور عملہ سمیت سب کے ہردل عزیزتھے۔

ملک ندیم

مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ ،3صاحبزادے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے،اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button