انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

میں عورت کیوں ہوں؟

بازغہ چشتی

وہ لمحہ آج بھی میرے ذہن کے پردے پر لرزتا ہے۔ والد کا جنازہ اٹھ چکا تھا۔ کمرے میں ایک عجیب سا سناٹا تھا، جیسے دیواریں بھی سوگوار ہوں۔ میں، میری والدہ اور چند قریبی رشتہ دار فرش پر بیٹھے تھے۔ آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، مگر دل کا بوجھ کم نہیں ہو رہا تھا۔

اچانک دروازہ کھلا اور ایک عورت اندر داخل ہوئی۔ اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ سیدھی میری والدہ کی طرف بڑھی، ان سے لپٹ کر بین کرنے لگی: "ہائے، تم برباد ہو گئیں! تمہارا سہاگ اجڑ گیا! تمہارا شوہر اس دنیا سے چلا گیا!” اس کے الفاظ خنجر کی طرح چبھ رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھتا، اس نے میری والدہ کی کلائی پکڑی اور ان کے ہاتھوں میں پہنی کانچ کی چوڑیاں توڑنا شروع کر دیں۔ چوڑیوں کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے، جیسے وہ زبردستی انہیں غم کی سیاہ چادر اوڑھنے پر مجبور کر رہی ہو۔

پہلے تو والدہ ساکت رہیں۔ پھر ایک دم ان کی آواز گونجی، ٹھہری ہوئی اور پراعتماد: "میں بے سہارا نہیں ہوں۔ میرے ساتھ اللہ کی ذات ہے اور میرے بچے ہیں۔” کچھ دیر واویلا مچانے کے بعد وہ اجنبی عورت چلی گئی۔ ہم سب حیران تھے کہ وہ کون تھی؟ ہمارے خاندان میں کوئی بھی اس سوچ کا نہیں تھا کہ بیوہ عورت سے اس کے جینے کا حق چھین لیا جائے۔ مگر اس دن پہلی بار مجھے عورت کی بے بسی اور معاشرے میں اس کے مقام کا اصل چہرہ نظر آیا۔ میں نے سوچا: میں عورت کیوں ہوں؟

اس ایک واقعے نے میرے لیے زندگی کے کئی باب کھول دیے۔ میں نے جانا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی پیدائش سے لے کر موت تک تلخیوں اور الزامات کی زد میں رہتی ہے۔ وہ چاہے بیوہ ہو، طلاق یافتہ ہو، یا کوئی یتیم بچی، ہر موڑ پر اسی پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔

یہ سفر اس کی پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بیٹی پیدا ہو تو آج بھی کئی گھروں میں ماتم سا بچھ جاتا ہے۔ اسے "پرایا دھن” کہہ کر پالا جاتا ہے۔ لڑکپن میں اس کے کھیلنے، ہنسنے اور بولنے پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔ "لڑکیوں کو اونچا نہیں بولنا چاہیے”، "یہ تمہارے لیے مناسب نہیں”، "لوگ کیا کہیں گے”۔ یہ جملے اس کی شخصیت کو قدم قدم پر کاٹتے ہیں۔ وہ گھر سے باہر نکلے تو غیر محفوظ، اور گھر کے اندر بھی کئی بار اسے تحفظ نہیں ملتا۔ اگر خدانخواستہ اس کے ساتھ کوئی ظلم ہو جائے، کوئی اسے ہراساں کرے، تو سوال اسی سے ہوتا ہے: "تم وہاں کیوں گئی تھیں؟ تم نے ایسے کپڑے کیوں پہنے تھے؟ تم اکیلی کیوں تھیں؟” یعنی مجرم کوئی اور ہو، کٹہرے میں عورت کو ہی کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

شادی کے بعد یہ بوجھ اور بڑھ جاتا ہے۔ شادی کو اس کی زندگی کا مقصد بنا دیا جاتا ہے، جیسے اس کا اپنا کوئی وجود نہ ہو۔ سسرال میں قدم رکھتے ہی اس سے قربانیاں مانگی جاتی ہیں۔ اپنی پسند، اپنی تعلیم، اپنے خواب، سب کچھ پس پشت ڈال کر وہ دوسروں کے لیے جینا سیکھتی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جائے تو کریڈٹ شوہر یا سسرال کو جاتا ہے، اور ناکام ہو تو قصوروار صرف وہ ٹھہرتی ہے۔

اور اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو وہی منظر دہرایا جاتا ہے جو میری والدہ کے ساتھ پیش آیا۔ ہمارا معاشرہ بیوہ عورت کو زندہ درگور کر دینا چاہتا ہے۔ اس کے رنگین کپڑے، اس کی ہنسی، اس کا دوبارہ شادی کا حق، سب پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے۔ اسے "منحوس” سمجھا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات سے اسے دور رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس کا سایہ کسی "سہاگن” پر نہ پڑ جائے۔ اس سے پوچھے بغیر فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ اب اس کی زندگی کا مقصد صرف سوگ منانا ہے۔ وہ جیے تو لوگوں کے رحم و کرم پر، اور اپنے حق کے لیے بولے تو بدتمیز کہلائے۔

طلاق یافتہ عورت کا دکھ بھی کچھ کم نہیں۔ ہمارے یہاں طلاق کو عورت کی ناکامی سمجھا جاتا ہے، چاہے قصور مرد کا ہو۔ "ضرور اسی میں کوئی کمی ہو گی”، "زبان دراز ہو گی”، "گھر بسانا نہیں آیا ہو گا”۔ ہزار تاویلیں گھڑ لی جاتی ہیں، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس نے کس کرب سے گزر کر یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ طلاق کے بعد اس کے لیے دوسری شادی کرنا پہاڑ سر کرنا بن جاتا ہے، جبکہ مرد دوسرے دن ہی نیا گھر بسا لیتا ہے اور کوئی اس سے سوال نہیں کرتا۔

اس معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہمارا دہرا معیار ہے۔ مرد کچھ بھی کرے، اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔ وہ شادی کے بعد کسی اور عورت کے چکروں میں پڑ جائے تو الزام اس کی بیوی پر آتا ہے کہ "ضرور اس نے توجہ نہیں دی ہو گی، لاپرواہی کی ہو گی تبھی شوہر باہر منہ مارنے لگا”۔ جو لڑکی اس مرد کی زندگی میں آتی ہے، معاشرہ اس پر فوراً "گھر توڑنے والی” کی مہر لگا دیتا ہے۔ اسے بدکردار، آوارہ، بے حیا کہہ دیا جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ "بدکردار” کا لفظ صرف عورت کے لیے ہی گھڑا گیا ہے۔ مرد کبھی بدکردار نہیں کہلاتا۔ اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو کہا جاتا ہے: "مرد ہے، غلطی ہو گئی۔ جوانی میں ایسی بھول چوک ہو جاتی ہے۔” اس کی تمام خطاؤں کو "غلطی” کا نام دے کر اس کے دامن سے داغ دھو دیے جاتے ہیں۔ اسے معاف کر کے آرام سے جینے کا پورا حق دے دیا جاتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر چلتا ہے، دوبارہ شادی کرتا ہے، عزت سے زندگی گزارتا ہے۔

مگر عورت؟ اس سے ایک معمولی سی لغزش بھی ہو جائے تو اس کے سارے حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔ ایک الزام، چاہے جھوٹا ہی کیوں نہ ہو، ساری زندگی اس کے ساتھ سائے کی طرح چپکتا ہے۔ وہ صفائیاں دیتے دیتے تھک جاتی ہے مگر معاشرہ اسے معاف نہیں کرتا۔ اس کی کردار کشی کر کے اسے نفسیاتی طور پر مار دیا جاتا ہے۔ وہ زندہ تو رہتی ہے، مگر ایک مجرم کی طرح، سر جھکائے، لوگوں کی نظروں سے بچتی ہوئی۔

یہ کیسی ناانصافی ہے کہ گناہ دو لوگ مل کر کرتے ہیں، مگر سزا صرف عورت کو ملتی ہے؟ غیرت کے نام پر قتل بھی صرف عورت کا ہوتا ہے۔ محبت کرنا اگر جرم ہے تو مرد کو بھی وہی سزا کیوں نہیں ملتی؟ اگر "غلط قدم” اٹھانا برا ہے تو مرد کے لیے وہ قدم "غلطی” کیسے بن جاتا ہے؟

بات صرف بیوہ یا طلاق یافتہ کی نہیں۔ کام کرنے والی عورت، اکیلی رہنے والی عورت، پسند کی شادی کرنے والی عورت، غرض ہر وہ عورت جو اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے، اسے "باغی” قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کی کامیابی کو بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ "ضرور کسی کی سفارش ہو گی”، "جانے کس کی خوشامد کر کے آگے بڑھی ہو گی”۔ اس کی محنت، اس کی قابلیت، اس کی راتوں کی جاگ، سب کو پس پشت ڈال کر اس کی ذات پر کیچڑ اچھال دیا جاتا ہے۔

اس دن والدہ کے الفاظ نے مجھے ایک نیا حوصلہ دیا تھا: "میں بے سہارا نہیں ہوں۔ میرے ساتھ اللہ کی ذات ہے اور میرے بچے ہیں۔” کاش ہر عورت یہ بات سمجھ جائے۔ کاش ہمارا معاشرہ یہ مان لے کہ عورت صرف کسی کی بیوی، بیٹی یا ماں نہیں، وہ خود ایک مکمل انسان ہے۔ اسے بھی جینے کا، ہنسنے کا، خواب دیکھنے کا اور ان خوابوں کو پورا کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مرد کو۔

اسے بدکردار کہنے سے پہلے، اس پر انگلی اٹھانے سے پہلے، اس سے جینے کا حق چھیننے سے پہلے، ایک بار یہ سوچ لیں کہ کل کو یہی کچھ آپ کی بیٹی، آپ کی بہن یا آپ کی ماں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ عورت پیدا ہوتے ہی غیر محفوظ کر دی جاتی ہے، اور ستم یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کا الزام بھی اسی کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔

بہت سے لوگ یہ کالم پڑھ کر کہیں گے کہ یہ موضوع پرانا ہے، یہ باتیں گھسی پٹی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ باتیں نہیں، وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ یہ زخم آج بھی تازہ ہیں۔ یہ آنسو آج بھی بہہ رہے ہیں۔ یہ چوڑیاں آج بھی توڑی جا رہی ہیں، اگر ہاتھوں کی نہیں تو خوابوں کی ضرور۔

آئیے ہم اپنی سوچ کو بدلیں۔ عورت کو صرف جینے کا حق ہی نہ دیں، اسے عزت سے جینے کا حق دیں۔ اسے صرف صنف نازک کہہ کر کمزور نہ کریں، بلکہ صنف آہن سمجھیں۔ کیونکہ وہ ہر طوفان کے بعد بھی کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ ٹوٹ کر بھی بکھرتی نہیں، سنور جاتی ہے۔ اسے حق دیں، مقام دیں، اور سب سے بڑھ کر انسان سمجھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button