
مڈل ایسٹ کی سیاست میں حالیہ دنوں میں جو حیران کن تبدیلیاں سامنے آئی ہیں انہوں نے پورے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اسرائیل کو حکومتی تبدیلی یا مرضی کا رجیم چینج لانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جو اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ مگر اس ناکامی کو متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے مدد لیے نے اسرائیل کی فتح میں بدل دیا۔
اگر کوئی دوسرا مسلمان ملک ہوتا تو اسرائیل سے فوجی مدد مانگنے کا تصور بھی ناممکن ہوتا لیکن جب ایران نے جواب میں خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے تومبینہ طورپر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے براہ راست حفاظت کی اپیل کی اور اسرائیل نے اپنا ایک انتہائی حساس فوجی نظام اور ماہرین متحدہ عرب امارات بھیج کر مدد کی۔ باوجود اس کے اسرائیل کو خود ایرانی ڈرونز اورمیزائلز کا سامنا تھا ۔۔ مگر اگر آپ غور کریں تو اسرائیل کے ان علاقوں پر میزائل گرتے رہے ۔۔ جو زیادہ امیر نہیں تھے ۔۔ مگر یواے ای جیسے سرمایہ کاری کے ہب کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنا دفاعی نطام نیتن یاہونے یو اے ای بھجوا دیا ۔
اس تبدیلی کو اگر ہم ابراہام اکارڈ ٹو پوائنٹ او کا نام دیں جو محض سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک اور دفاعی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم اور دیگر جدید انٹرسیپٹر نظام فراہم کیے۔ سی این این نے دعوی کیا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات سے واقف ایک اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ ایران جنگ سے نکلنے والی محدود مثبت پیش رفتوں میں ابو ظہبی کے ساتھ یہ تعلق اچھی خبر ہے۔ لیڈرز کی کی سطح سمیت یواے ای اور اسرائیل تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ رئیل ازم ہے یا خالص موقع پرستی۔متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے فوجی مدد کی اپیل نے اسرائیل کی ایران میں ناکامی کو ایک بڑی کامیابی میں بدل دیا ہے۔ اسرائیل نہ صرف اپنے دفاعی نظام کی نمائش کر کے خطے میں اپنی طاقت دکھا رہا ہے بلکہ متحدہ عرب امارات جیسی امیر ریاست کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر بنا کر وزیر اعظم نیتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا سفارتی اور اسٹریٹجک فائدہ ثابت ہوا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک تنظیم چھوڑنا سعودی عرب کی تنظیم میں اثر و رسوخ پر بڑا دھچکا ہے۔ اگر متحدہ عرب امارات خلیج تعاون کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم بھی چھوڑ دے تو سعودی عرب کا علاقائی اثر مزید کم ہو جائے گا۔ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم اس لیے نہیں دیا کہ وہ اپنے عرب پڑوسیوں کی فلاح چاہتا ہے بلکہ یہ اس کے بڑا اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھانے کا حصہ ہے۔ دفاعی صلاحیتوں کی پیشکش سے نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے ان لوگوں کو بھی قائل کر لیا جو ابراہیم معاہدے کے مخالف تھے اور اسرائیل اب نجات دہندہ کے روپ میں سامنے آیا ہے۔
متحدہ عرب امارات سعودی عرب سے پہلے ہی فاصلہ بنا چکا ہے۔ اب فلسطینی مسئلے پر وہ آنکھیں اور کان بند رکھے گا جبکہ اسرائیلی جارحیت میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جنوری دو ہزار چھبیس کے اوائل میں ایک مشہور برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ بہت سے عرب رہنما ذاتی طور پر فلسطینی مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتےاور اب متحدہ عرب امارات کی قیادت کا اسرائیلی فوجی مدد طلب کرنا نیتن یاہو کے اس بیان کو آدھا سچ ثابت کرتا ہے۔ عرب رہنماؤں کا یہ دوغلا رویہ اسرائیل کو فلسطینیوں پر دباؤ بڑھانے کی طاقت فراہم کر رہا ہے۔
آہستہ آہستہ سچ سامنے آرہاہے ۔۔ امریکی نشریاتی ادارے سی ای این کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو فضائی دفاعی نظام دیا ہو۔ دو ہزار بائیس میں حوثی حملوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کی درخواست پر اسرائیل نے باراک ایٹ یببیٹری فراہم کی تھی۔
تجزیہ کار ڈینیل لیوی نے ایک یوٹیوب چینل پر کہا تھا گریٹر اسرائیل منصوبہ صرف زمینی توسیع تک محدود نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں کے خوف کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو خطے کا ناگزیر سلامتی پارٹنر بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دینے سے اسرائیل کو علاقے میں ہارڈ پاور تسلط مل رہا ہے۔
گلف بادشاہتوں کے رویے بظاہر اسرائیل کے لیے یک جیسے نہیں ہیں۔ عمان ، قطر اور سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ گہرے تعاون کے حق میں نہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اسے مزید آگے بڑھا رہا ہے اور بحرین و ممکنہ طور پر کویت بھی اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ ابو ظہبی کا خیال ہے کہ دیگر عرب ممالک اور اداروں نے ناکافی تعاون کیا اس لیے متحدہ عرب امارات اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ شراکت مضبوط کر رہا ہے۔ اوپیک سے علیحدگی کے بعد وہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سے بھی دور ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ بہت زیادہ ساکھ اور لاجسٹک کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیں تو کیا متحدہ عرب امارات بھی جنگ میں شامل ہو جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایرانی چودہ نکات کے ذریعے دی جانے والی پیشکش سے مطمئن نہیں اور کہا کہ شاید ڈیل نہ کرنا بہتر ہو۔ اسی دوران امریکہ نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو چھیاسی ارب ڈالر کے جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی ہے جس میں قطر کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں رپورٹ کے مطابق قطر کو چار ارب ڈالر کی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی دوبارہ فراہمی سعودی عرب کو دو ارب پانچ سو ملین ڈالر کا مربوط جنگی کمانڈ سسٹم جبکہ اسرائیل قطر اور متحدہ عرب امارات کو جدید لیزر گائیڈڈ ہتھیاروں کی منظوری ملی ہے۔
تو آپ دیکھیں کے کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل ایران کے خوف کا استعمال کرکہ گلف سٹیٹس کو اپنا اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچ رہے ہیں ۔۔۔ ساتھ ہی امریکہ نے اسرائیل کو ایف تھرٹی فائیو اور ایف آئی اے جیسے طیاریوں کے سکواڈرن دینے کی منظوری دی ہے ۔۔ اورایک سکواڈرن میں۔ اٹھارہ سے چوبیس طیارے ہوتے ہیں ۔ یعنی ایک طرف اسرائیل کو مظبوط بنایا جا رہا ہے اور دوسری طر ف گلف سٹیٹس کو اسرائیل پر ڈیپینڈینٹ ۔۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی غداری آمیز جارحیت کے بعد اس کے یک طرفہ انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ وہ بیانات ہیں جن سے امریکہ اور اسرائیل خوش دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔ متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے مدد کی اپیل نے نہ صرف اسرائیل کی ایران ناکامی کو کامیابی میں بدلا ہے بلکہ خطے میں بڑا اسرائیل منصوبے کو نئی رفتار بھی دے دی ہے۔ یہ تبدیلی عرب دنیا کی تقسیم کو واضح کر رہی ہے اور مستقبل میں دور رس نتائج پیدا کر سکتی ہے اور ہمیں خطے میں مزید اتحاد ٹوٹتے اور بنتے دکھائی دےرہے ہیں ۔جس پر پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے ۔



