انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترین

پاکستان کی ثالثی، امریکہ ، ایران معاہدے کے قریب،’’ پراجیکٹ فریڈم‘‘ معطل

چین کے دورہ سے قبل معاہدہ ہوسکتا ہے، ایران مان لے تو معاملہ ختم ورنہ شدید بمباری کرینگے: ٹرمپ، امریکہ دھمکیاں دینا بند کرے:تہران،مذاکرات اسلام آباد یا جنیوا میں متوقع:امریکی میڈیا

واشنگٹن: (ویب ڈیسک ) امریکہ اور ایران خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پراجیکٹ فریڈم کو مختصر مدت کیلئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پی بی ایس سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہے، ایران سے معاہدہ آئندہ ہفتے چین کے دورے سے قبل ہوسکتا ہے۔

صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران کی مدد کا معاملہ نہیں اٹھاؤں گا، ہمارے پاس دوبارہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کا بہت اچھا موقع ہے، ایران کے افزودہ یورینیم کی امریکہ منتقلی شاید معاہدے کا حصہ نہیں ،سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بات چیت کے لیے بھیجنے کا امکان نہیں ،ایران کے ساتھ شاید آخری ملاقات میں کسی جگہ دستخط ہوں گے، ایران معاہدے کو مان لے تو معاملہ ختم نہ مانیں تو بمباری کریں گے،ایران کی جانب سے افزودگی کو3.67 تک محدود کرنا معاہدہ کا حصہ نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاایران مذاکرات اور ڈیل کرنا چاہتا ہے، دیکھیں گے ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا نہیں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایرانی بحریہ کے جہاز سمندر برد کر دیے،ناقابل یقین حد تک اچھا کام کر رہے ہیں، 2سال قبل امریکہ کچھ نہیں تھا، اب مضبوط ترین ملک ہے، ہمارے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے، وینزویلا میں کام ایک روز میں ختم کر لیا تھا،خلائی تحقیق میں روس اور چین سے آگے ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم کو مختصر مدت کیلئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف مہم میں حاصل ہونے والی غیر معمولی عسکری کامیابی اور ایران کےنمائندوں کے ساتھ حتمی معاہدے کی جانب پیشرفت کے پیش نظر ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا باہمی اتفاق سے یہ طے پایا ہے کہ اگرچہ ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی، تاہم پراجیکٹ فریڈم یعنی آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا، اس وقفے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیےجا سکتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پرایک اور بیان میں کہا کہ اگر ایران طے شدہ شرائط مان لیتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائےہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ اگر ایران اس معاہدے کو تسلیم کر لیتا ہے جس پر اتفاق ہو چکا ہے اور یہ بہت بڑا ’اگر‘ ہوگا، تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائے گا اور انتہائی مؤثر ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے، بشمول ایران، کھول دی جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو بمباری دوبارہ شروع ہو گی اور بدقسمتی سے اس کی شدت اور سطح پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ امریکی حکام اوروائٹ ہائوس کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سےاب تک کبھی نہیں رہے تھے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے سکتے ہیں، جس میں فوری نوعیت کے اقدامات اور اعتماد سازی کے نکات شامل ہوں گے۔مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کے تحت ایران جوہری افزودگی پر عارضی پابندی قبول کرے گا جبکہ امریکہ اقتصادی پابندیاں ختم کرنےاور ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوگا۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پابندیاں بھی مرحلہ وارختم کی جائیں گی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد 30 دن کی مدت میں ایک تفصیلی اور حتمی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظارہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدرٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ایگزیوس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں درج ذیل نکات موجود ہیں جن میں کہاگیاکہ ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔

اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہازرانی پر پابندیاں اور امریکہ کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ایٹمی پروگرام پر پابندی کے حوالے سے کہاگیاکہ ایران 12 سے 15 سال تک یورینیم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہاہے جبکہ امریکہ 20 سال کا مطالبہ کر رہاہے۔خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک تجویز کےمطابق یہ مواد امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صورتحال کو ’انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی‘ قرار دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے سفارتی حل کی امید ظاہر کی لیکن ساتھ ہی ایرانی قیادت کے بعض حصوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے اعتماد کی فضا ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیونے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکاہے تاہم ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے ۔ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یکطرفہ مطالبات قبول نہیں کرے گا ،ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور اسلامی جمہوریہ کو کوئی بھی خوفزدہ نہیں کر سکتا۔

اپنے بیانات اورسوشل میڈیا پیغامات میں ایرانی صدر نے کہا مسلمان صرف اﷲ کے سامنے جھکتے ہیں اور کسی بھی طاقت کے دباؤ کو قبول نہیں کرتے، انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ ایران کو فوجی حملوں کی دھمکیاں دینا بند کریں۔ان کا کہناتھا موجودہ عالمی نظام میں ناانصافی، قانون کی خلاف ورزی اور ظلم بڑھ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاست کو صرف طاقت تک محدود کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ایران خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو اخلاقی اصولوں پر قائم ہے اور عالمی سطح پر انصاف اور استحکام کا حامی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکہ کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ایران ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو اپنے خیالات سے آگاہ کرے گا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکہ دھمکیاں بند کرے تو آبنائے ہرمز سے محفوظ راہداری ممکن ہوگی، نئے طریقہ کار کے ساتھ آبنائے ہرمز کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔پاسداران انقلاب نے ایرانی ضوابط کا احترام کرنے پر بحری جہازوں کے کپتانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی میڈیا کی خبر کو امریکی خواہشات کی فہرست کہہ دیا۔تہران سے جاری بیان میں ابراہیم رضائی نے کہا کہ امریکی نیوز ویب سائٹ کی خبر حقیقت سے زیادہ امریکی خواہشات کی فہرست ہے۔انہوں نے کہا امریکیوں کو اس جنگ میں کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکی ہار رہے ہیں، وہ براہ راست مذاکرات میں کچھ حاصل نہیں کر سکے۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کا مقصد ایران کے اتحاد کو توڑنا ہے تاکہ ہمیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔ایرانی قوم کے نام پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن اپنے نئے منصوبے میں بحری ناکہ بندی کے ذریعے اقتصادی دباو اور میڈیا پروپیگنڈے کی کوشش کر رہا۔

انہوں نے کہا اس کا مقصد ایران میں اتحاد کو توڑنا ہے تاکہ ہمیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے، فوجی حملے کے امکان کو خصوصا دہشتگرد حملوں کے امکان کو کم نہیں سمجھتے۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ یہ دشمن کی اس حکمت عملی کا وہ حصہ ہے، جو معاشرے سے متعلق ہے، اس کا مقصد ایران کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔انہوں نے کہا ماہرین تسلیم کرتےہیں کہ کتنے ہی معاشی دبائو کا سامنا ہو، ایرانی اپنی آزادی، وقار، ایمان اور عقائد کی خاطرمشکلات برداشت کرتے ہیں۔ باقر قالیباف نے کہا ایرانیوں نے ادراک کر لیا ہے کہ انہیں تاریخ کے اس حساس دور میں اس دشمن کے خلاف ڈٹ جانا ہوگا، ایک ایسا دشمن جو اپنی خام خیالی میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ ایرانی تہذیب کو تباہ کر سکتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ ناجائز ہے۔چینی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکہ کےساتھ ایک شفاف اور جامع معاہدہ چاہتا ہے۔انہوں نے کہا چین ایران کا قریبی دوست ہے اور موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نےسعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔دونوں رہنمائوں نے مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی میں کمی، سفارتکاری اور علاقائی تعاون جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں جدہ میں سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں علاقائی صورتِحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران سعودی کابینہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اورتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کےمطابق اجلاس میں کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، مسئلے کا ایسا سیاسی حل تلاش کیا جائے جو خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام سے بچا سکے، یہ صورتحال خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔سعودی میڈیا کے مطابق اجلاس میں تنازع کے حل میں مدد کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور سیاسی حل اور مزید کشیدگی اور عدم استحکام سے بچنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔سعودی میڈیا نے کہا کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمد و رفت یقینی بنانے پر بھی زور دیاگیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button