بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحتعلاقائی خبریںکالم

محکمہ صحت بدعنوانی کا گڑھ،ہسپتال،ادویات،سہولیات سے محروم،حکام کی خاموشی کب ٹوٹے گی؟

فیصل خان درانی

صحت کا شعبہ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے محکمہ صحت پنجاب شدید بدانتظامی، کرپشن اور بیوروکریسی کی نااہلی کا شکار ہے۔ یہی وہ محکمہ ہے جس پر عوام اپنی زندگی، علاج اور امیدوں کا بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں محکمہ صحت میں بدعنوانی، اقربہ پروری اور دھونس دھاندلی اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ یہ ادارہ عوامی خدمت کے بجائے مخصوص مفادات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔

 

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کرپٹ افسران اس محکمے کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہے ہوں میرٹ کی جگہ سفارش نے لے لی ہے، ایماندار افسران دیوار سے لگا دیے گئے ہیں جبکہ من پسند افراد کو اہم عہدوں پر نوازا جا رہا ہے۔ تقرریوں سے لے کر تبادلوں تک، ہر معاملہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، مشینری کی خرابی اور عملے کی غیر حاضری معمول بنتی جا رہی ہے، مگر ذمہ داران بدستور طاقت کے ایوانوں میں محفوظ بیٹھے ہیں۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اعلیٰ حکام کی پراسرار خاموشی نے عوامی شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر سب کچھ شفاف ہے تو پھر شکایات کا نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا؟ اگر محکمہ درست سمت میں چل رہا ہے تو عوامی مسائل روز بروز سنگین کیوں ہو رہے ہیں؟ یہ سوالات آج ہر شہری کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں حتی کہ محکمہ صحت میں کرپشن کی گونج مختلف آڈٹ اعتراضات اور تحقیقات کے ذریعے بھی سامنے آئی ہیں، جن میں جعلی بھرتیاں، ڈیلی ویجرز کی بھرمار , غیر قانونی ادائیگیاں، اور خریداری میں بے ضابطگیاں شامل ہیں۔
حتی کہ کئی افسران کو ان کے اپنے عہدوں کے علاوہ کئی کئی اہم ترین عہدوں پر تعینات کر دیا اور ان کی تعیناتی سے محکمے صحت بربادی کہ دہانے پر پہنچ کے دہانے پر پہنچ گیا ۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جعلی بھرتیوں کے ذریعے تقریباً 3 کروڑ روپے کی خرد برد سامنے آئی، جس میں “گھوسٹ ملازمین” تنخواہیں لیتے رہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ 2024-25 میں پنجاب حکومت کے مختلف محکموں میں 1 ٹریلین روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں ہیلتھ سیکٹر بھی شامل ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 161.85 ملین روپے کی مبینہ خرد برد، جعلی ریکارڈ، اور شیل کمپنیوں کے ذریعے خریداری کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صحت کے محکمے میں ادویات کی خریداری اور جرمانوں کی عدم وصولی سمیت کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں پر کارروائی کی ہدایات دیں۔ بدقسمتی سے محکمہ صحت میں بعض عناصر نے اختیار کو خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ دھونس دھاندلی کے ذریعے ماتحت عملے کو دبایا جاتا ہے جبکہ حق بات کرنے والوں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً ادارے کا ماحول خوف، بے یقینی اور ناانصافی کی تصویر بن چکا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر محکمہ صحت میں جاری بے ضابطگیوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کروائے، کرپشن میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ جب صحت جیسے حساس شعبے میں بدعنوانی جڑ پکڑ لے تو اس کا نقصان صرف ادارے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم اس کی قیمت چکاتی ہے۔

محکمہ صحت میں کرپشن کا ناسور اس قدر پھیل چکا ہے کہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات تک میسر نہیں رہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت، مشینری کی خرابی، ڈاکٹروں اور عملے کی کمی، جبکہ فنڈز کی بے ضابطگیاں معمول بن چکی ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض بیوروکریٹس اور بااثر عناصر قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں، جس کے باعث غریب عوام علاج جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں، ادویات کی خریداری، بھرتیوں اور ٹرانسفر پوسٹنگ میں مبینہ کرپشن نے محکمہ صحت کی کارکردگی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

لہٰذا وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو اپنی تمام تر توجہ ذاتی طور پر اس اہم ترین محکمہ صحت پر دینی ہوگی جہاں شیشے میں اتارنے کے ماہر سامری جادوگروں نے محکمہ کو ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے اور اپنے چند ٹاؤٹوں کے ذریعے محکمے میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مریم نواز صاحبہ کو محکمہ صحت میں تعینات کیے جانے والے ان ڈیلی ویجر ملازمین پر بھی توجہ دینی ہوگی جنہیں اقربہ پروری کے ذریعے نہ صرف نوازا جا رہا ہے بلکہ سرکاری وسائل پر بھی مکمل طور پر قابض کر دیا گیا ہے۔

میں اپنے اگلے کالم میں پنجاب بھر میں جعلی پیرامیڈیکل اور نرسنگ کالجز کی تفصیلات بھی فراہم کروں گا جن کو محکمے میں کام کرنے والے چند اعلی افسران نے کمائی کا اڈا بنا رکھا ہے ۔خاص طور پر جنوبی پنجاب میں بنائے جانے والے8 سے دس ایسے کالجز ہیں جن کو سرکاری افسران نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تشکیل دیا اور اب کروڑوں روپے ملک سے باہر ہنڈی کے ذریعے بھجوا چکے ہیں۔

میں یہ بھی بتاؤں گا کہ محکمہ صحت کے وہ کون سے افسران ہیں جنہوں نے اپنی اولادوں کو بیرون ملک بھیج کے ماہانہ اپنی تنخواہ سے تین گنا زائد رقم بھجوا رہے ہیں ۔ میری اپنے اس کالم کے ذریعے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے مودبانہ گزارش ہے کہ
محکمہ صحت میں ہونے والی اقربا پروری میں ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اسپتالوں میں ادویات، طبی سہولیات اور عملے کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے۔ محکمہ صحت کو بیوروکریٹک مداخلت سے پاک کیا جائے کیونکہ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ دیمک پورے نظام کو کھوکھلا کر دے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button