
آدم خوروں کی اس عالمی بزم میں انسانیت کا نوحہ لکھا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف آبنائے ہرمز کے پانیوں میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں تو دوسری طرف دنیا کے طاقتور ترین ایوانوں میں ان ’’آدم خوروں‘‘ کی میٹنگز کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ وہی مخلوق ہے جن کا ذکر ہمارے بزرگوں نے داستانوں میں کیا تھا، جو شکل و صورت میں تو انسان ہیں مگر فطرت سے درندے، اور آج یہ ویرانوں سے نکل کر دنیا کی حکمران نشستوں پر براجمان ہیں۔
17 جون کو جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تو دنیا کو لگا کہ امن کا سورج طلوع ہو رہا ہے، لیکن یہ امن معاہدہ ان آدم خوروں کے لیے محض ایک وقفہ تھا تاکہ وہ اپنی سرمایہ کاری کا اگلا داؤ لگا سکیں۔ معاہدے کی شق نمبر پانچ کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ جلد ہی ان کی اپنی ضد اور طاقت کے نشے میں تحلیل ہو گیا۔
مختلف عالمی خبر رساں ذرائع کے مطابق، یہ بات واضح ہے کہ کس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس لگانے کا اعلان کیا اور پھر محض ایک ہی دن میں اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ کر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا ڈول ڈالا۔ یہ سیاسی قلابازیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں فیصلے قومی مفادات نہیں بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس گواہ ہیں کہ کس طرح امریکی سینٹکام نے ایران کے اہم ساحلی اور بحری مراکز، بشمول بوشہر، چابہار اور بندر عباس، کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب ایران نے جوابی دھمکیاں دیتے ہوئے باب المندب کو بھی بند کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں کہ جب جنگ کا ماحول بنتا ہے تو عالمی سرمائے کا رخ بدل جاتا ہے، اور یہ طاقتور طبقہ انسانی خون کے بہنے پر اپنی دولت میں اضافے کا جشن مناتا ہے۔
جب ہم اسٹیفن فائلز جیسے ہولناک اسکینڈلز کی کڑیاں ان طاقتور شخصیات کے کردار سے ملاتے ہیں تو یہ حقیقت مزید آشکار ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ یہ انسانیت کے گوشت اور خون کے بھی پیاسے ہیں۔ شام اور فلسطین کے معصوم بچوں کے قتلِ عام سے لے کر ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے تک، ہر جگہ وہی مکروہ چہرے نظر آتے ہیں جو امن کے نام پر معاہدے تو کرتے ہیں مگر ان کا دل جنگ کی آگ میں ہی دھڑکتا ہے۔
میناب کے اسکول میں معصوم بچوں اور اساتذہ کی ہلاکت نے ایک بار پھر دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان آدم خوروں کی بھوک صرف زمین، وسائل یا اقتدار تک محدود نہیں رہی، بلکہ معصوم بچوں کا خون بھی ان کی جنگی سیاست کی نذر ہو رہا ہے۔ جب اسکول، کتابیں اور ننھے بچے بھی جنگ کی آگ میں جھونک دیے جائیں تو یہ صرف ایک حملہ نہیں رہتا بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ایسا زخم بن جاتا ہے جو نسلوں تک نہیں بھرتا۔ متعدد بین الاقوامی اداروں نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
آج ایران اور امریکہ کی کشمکش صرف دو ممالک کی لڑائی نہیں رہی بلکہ یہ ان آدم خوروں کا ایک ایسا کاروباری ماڈل ہے جس میں انسانی زندگیوں کا سودا کیا جا رہا ہے۔ یہ ضدی حکمران، جو ایک منٹ میں امن کا اعلان کرتے ہیں اور دوسرے منٹ میں جنگ چھیڑ دیتے ہیں، دراصل اسی قدیم درندگی کا جدید روپ ہیں جو تھری پیس سوٹ پہن کر مہذب دنیا کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے، اور یہی وہ شہ رگ ہے جسے یہ درندے جب چاہیں دبا دیتے ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک میں ایندھن کا بحران ہو یا یورپ میں توانائی کی قلت، ان آدم خوروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد پوری دنیا کے سرمائے کو اپنی مٹھی میں رکھنا ہے۔ یہ پوری دنیا اب ایک ایسے تھیٹر میں بدل چکی ہے جہاں تماشائی تو ہم جیسے عام انسان ہیں، مگر اس تماشے کے خالق وہی ہیں جو انسانی دکھوں کو اپنی تجارت اور خون کو اپنا مشروب سمجھتے ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک نہیں تھمے گا جب تک ہم ان ماسک پوش درندوں کو پہچان نہیں لیتے، کیونکہ ان کی میٹنگز کبھی ختم نہیں ہوتیں، بس ان کا ایجنڈا بدلتا رہتا ہے، اور اس ایجنڈے کا واحد ایندھن صرف اور صرف انسانیت کا خون ہے۔



