
ایرانی تہذیب کی تاریخ ڈھائی ہزار برس سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے، جو اسے دنیا کی قدیم ترین اور پائیدار ترین اقوام میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ اس تہذیب نے 550 قبل مسیح میں اس وقت اپنی عظمت کی بنیاد رکھی جب سائرس اعظم نے ہخامنشی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اس کی وسیع سلطنت وادیٔ سندھ سے لے کر بحیرۂ روم اور بلقان تک پھیلی ہوئی تھی۔ سائرس اپنی روشن خیال حکمرانی، عدل و انصاف اور محکوم اقوام کے رسم و رواج کے احترام کے باعث تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ سلنڈرِ سائرس آج بھی انسانی وقار، انصاف اور مذہبی رواداری کے اولین تاریخی منشوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سائرس کے جانشین دارا اوّل اور خشایار شاہ اوّل نے ایران کی عظمت کو مزید جِلا بخشی۔ انہوں نے پرسپولس جیسے شاندار دارالحکومت تعمیر کیے، سلطنت کو دانشمندانہ صوبائی نظم و نسق کے ذریعے مستحکم کیا، شاہی شاہراہقائم کی، زرتشتی مذہب کی سرپرستی کی اور ساتھ ہی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی آزادی اور احترام عطا کیا۔ مگر فارسی اقتدار کا یہ زرّیں عہد 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فتوحات کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس کے بعد ہیلینسٹک دور آیا، لیکن ایرانی قوم کی روح کبھی مغلوب نہ ہوئی۔ اشکانی اور بالخصوص ساسانی سلطنتوں نے ایران کی کھوئی ہوئی شان دوبارہ حاصل کی اور روم و بازنطینی سلطنتوں کے ہم پلہ طاقت کے طور پر ابھریں۔ شاپور اور خسرو جیسے فرمانرواؤں کے دور میں فنونِ لطیفہ، سائنس، تعمیرات اور نظمِ حکومت نے غیرمعمولی ترقی کی، جبکہ قدیم زرتشتی تہذیب کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی تہذیبی روایات کو بھی اپنے اندر جذب کیا گیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد نے ایران کی تاریخ میں ایک عظیم روحانی اور تہذیبی انقلاب برپا کیا۔ فارسی تہذیب نے اسلام کو قبول کر کے نہ صرف اپنی شناخت برقرار رکھی بلکہ خلافتِ عباسیہ اور اسلامی سنہری دور کی علمی و فکری عظمت میں بے مثال کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ترکوں، منگولوں اور تیموریوں کے یکے بعد دیگرے حملے ہوئے، لیکن ایرانی قومی تشخص ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔ 1501ء میں صفوی سلطنت کے قیام نے اثناعشری شیعہ اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا، اور یہی فیصلہ ایران کی قومی شناخت کا ایک مستقل اور نمایاں وصف بن گیا۔ اس کے بعد افشاریہ، زندیہ اور قاجاریہ ادوار میں ایران نے داخلی مشکلات اور یورپی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان اپنی بقا کی جدوجہد جاری رکھی۔
1925ء میں رضا شاہ پہلوی نے جدید ایران کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے بعد ان کے فرزند محمد رضا شاہ پہلوی نے 1941ء سے 1979ء تک حکومت کی۔ اس دور میں صنعتی ترقی، سماجی اصلاحات اور وائٹ ریولوشن جیسے منصوبوں نے ایران کو جدید بنانے کی کوشش کی، لیکن انہی اصلاحات نے عوامی بے چینی کو بھی جنم دیا، جو بالآخر 1979ء کے اسلامی انقلاب پر منتج ہوئی۔ یوں دو ہزار برس سے زائد عرصے پر محیط شاہی نظام ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گیا۔
اس انقلابی تحریک کے مرکز میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی شخصیت تھی۔ شاہ کی آمریت، بیرونی مداخلت اور ساٹھ کی دہائی کی سماجی تبدیلیوں پر بے باک تنقید کے باعث انہیں قید و بند، جلاوطنی اور مسلسل آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ترکی اور پھر عراق کے شہر نجف میں قیام کے بعد وہ 1978ء کے اواخر میں پیرس کے نواح میں مقیم ہوئے، جہاں اظہارِ رائے کی آزادی نے ان کی آواز کو پوری دنیا تک پہنچا دیا۔ ان کے خطابات، انٹرویوز اور ریکارڈ شدہ پیغامات ایران کے عوام کے لیے امید کی کرن بن گئے۔ یکم فروری 1979ء کو ان کی وطن واپسی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی۔ ان کی قیادت میں عوامی ریفرنڈم اور نئے آئین کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران وجود میں آئی، جس میں اعلیٰ ترین مذہبی قیادت کو ریاستی نظام کا محور قرار دیا گیا۔ بعد کے برسوں میں امریکی سفارت خانے کا بحران، ایران عراق جنگ اور مذہبی قیادت کے اقتدار کا استحکام اسی انقلاب کی داستان کا حصہ بنے۔
1989ء میں امام خمینی کے انتقال کے بعد، اُس وقت کے صدر آیت اللہ علی خامنہ ای کو رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ چھتیس برس سے زائد عرصے تک انہوں نے ایران کی قیادت ایسے دور میں کی جب ملک اصلاح پسند تحریکوں، معاشی پابندیوں، جوہری مذاکرات اور خطے کی مسلسل کشیدگی سے دوچار رہا۔ انہوں نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیا اور مشرقِ وسطیٰ میں مزاحمتی اتحاد کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھی۔
ان کی طویل قیادت کا اختتام 28 فروری 2026ء کو ایک المناک سانحے پر ہوا۔ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران تہران پر ہونے والے ایک مشترکہ امریکی۔اسرائیلی فضائی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے اہلِ خانہ اور قریبی رفقاء سمیت شہید ہو گئے۔ ایران بھر میں اس سانحے کو شہادتِ عظمیٰ کے طور پر یاد کیا گیا اور لاکھوں آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
واشنگٹن میں یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ ایرانی عوام سخت مذہبی طرزِ حکمرانی سے بیزار ہو چکے ہیں۔ یہی تصور کرتے ہوئے مرحوم شاہ کے فرزند کی واپسی کے منصوبے بنائے گئے اور امید کی گئی کہ ایرانی شہر استقبال کرنے والے ہجوم سے بھر جائیں گے۔ لیکن تاریخ نے ایک بار پھر اپنی الگ راہ اختیار کی۔ مذہبی قیادت، عسکری اور سیاسی شخصیات کی شہادتوں نے عوام میں خوشی نہیں بلکہ شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ بیرونی قوتوں کے سہارے بادشاہت کی بحالی کے بجائے ایرانی عوام اپنے شہداء کے جنازوں میں امنڈ آئے، آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اپنی قومی خودمختاری کے حق میں ایک ناقابلِ فراموش عہد کا اظہار کیا۔ یورپ کے کئی اتحادیوں نے بھی امریکی حکمتِ عملی کی تائید سے گریز کیا، جبکہ ایران نے ایسے عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا جس کی بہت سے مغربی تجزیہ نگاروں نے توقع نہیں کی تھی۔ رہبرِ اعلیٰ کے تاریخی جنازے میں ایرانی قوم متحد، پُرعزم اور بے خوف دکھائی دی۔
اگرچہ بعد ازاں پاکستان کی معاونت سے ہونے والی سفارتی کوششوں نے فریقین کو مذاکرات کی میز تک پہنچا دیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب ابھی حقیقت سے بہت دور ہے۔ بے شمار رکاوٹیں آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ ایرانی قیادت نے ہر آزمائش میں اپنی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں کی یہ عظیم شہادتیں اس قومی بیداری کی تکمیل ہیں جس کی بنیاد امام خمینی نے رکھی تھی۔ ایرانی عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ان کی وابستگی کسی فرد یا حکومت سے بڑھ کر اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار سے ہے—وہ آزادی جو صدیوں کی عظمت، یلغاروں، احیائے نو اور انقلابات کی بھٹی میں تپ کر کندن بنی ہے۔ مستقبل کس سمت جائے گا، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، مگر یہ حقیقت ہمیشہ زندہ رہے گی کہ ایمان، تاریخ اور قربانی سے سرشار یہ قدیم تہذیب آج بھی ایک باوقار اور سربلند قوم کی ناقابلِ تسخیر روح کی علامت ہے۔



