پرنٹ میڈیا کی وفات کا نوحہ
بازغہ چشتی

میری رائے سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں، مگر ایک بات بالکل واضح ہے کہ چینلز کی بھرمار نے پرنٹ میڈیا کا قتل کردیا۔ کیا ہی خوبصورت دور تھا جب صبح سویرے گلی میں ہاکر کی آواز سنائی دیتی تھی۔ کاغذ کی سوندھی خوشبو، ناشتے کی میز پر اخبارات کا ڈھیر، امروز، نوائے وقت، مشرق، مساوات، ندائے ملت اور نہ جانے کتنے ایسے اخبارات جو ہاتھوں ہاتھ بک جاتے تھے۔ لوگ صرف خبریں نہیں پڑھتے تھے بلکہ مطالعہ ان کی عادت ہوا کرتا تھا۔

بچوں کے ہفت روزہ رسالے تعلیم و تربیت، بچوں کا باغ، جاسوسی ناول، خواتین ڈائجسٹ، حور اخبار، خواتین کے رسائل، یہ سب گھروں کی رونق ہوتے تھے۔ اخبارات کے اندر بھی خواتین اور بچوں کے لیے الگ صفحات موجود ہوتے جہاں دلچسپی کا مواد شائع کیا جاتا۔ یہ وہ وقت تھا جب کم پڑھے لکھے لوگ بھی پڑھنے کے شوقین ہوتے تھے۔ ریڈیو اور پی ٹی وی پر مخصوص وقت میں خبریں نشر ہوتیں اور لوگ انہی اوقات کے منتظر رہتے۔ شاید یہی محدودیت انسان کے ذہنی توازن کو قائم رکھتی تھی۔

رویوں میں تلخی تب بھی تھی مگر وقتی ہوا کرتی تھی۔ ہر طرف ایک عجیب سا سکون تھا۔ پیسہ کم ہونے کے باوجود لوگ زندگی سے مطمئن رہتے تھے۔ اموات تب بھی ہوتی تھیں مگر سالوں میں کبھی کبھار کسی افسوسناک واقعے کی خبر سننے کو ملتی۔ بزرگ تھکے ہوئے ضرور ہوتے مگر کٹے پھٹے اور ٹوٹے ہوئے نہیں لگتے تھے۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں امید ہوتی اور گھریلو عورتیں کم سہولیات کے باوجود مطمئن دکھائی دیتیں۔

پھر ایک ایسا دور آیا جس نے پرنٹ میڈیا کو مزید خوبصورت بنادیا۔ رنگین صفحات، سنڈے میگزین اور سینٹر پیج کو لوگوں نے بے حد سراہا۔ اخبارات پہلے سے زیادہ دلکش ہوگئے۔ قارئین کی دلچسپی بڑھی اور لوگ شوق سے سنڈے ایڈیشن کا انتظار کرتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ اس تبدیلی نے لوگوں کی ترجیحات بھی بدل دیں۔ اصل چیز پڑھنے کے بجائے توجہ چمک دمک کی طرف زیادہ ہونے لگی۔

پی ٹی وی پر نشر ہونے والے خوبصورت اور سادہ کہانیوں پر مشتمل ڈرامے، کرن کہانی، انکل عرفی، ایک محبت سو افسانے، وارث، ان سب کی مقبولیت پر جیسے چھرا پھر گیا۔ مارکیٹوں میں ساڑھیاں، بندیاں اور نئی نئی فیشن کی چیزیں آنے لگیں۔ عورتوں کے گلے میں منگل سوتر کے ڈیزائن کے لاکٹ دکھائی دینے لگے۔ معاشرے میں نقل بڑھتی گئی اور اپنی پہچان دھندلی پڑتی گئی۔

پہلے خبریں رات نو بجے پی ٹی وی کے خبرنامے میں آتی تھیں اور گھر کے چھوٹے بڑے سب شوق سے سنتے تھے۔ یوں پورا گھر ملکی صورتحال سے واقف رہتا تھا۔ اب خبر ہر لمحہ موجود ہے مگر سچ کہیں کھو گیا ہے۔ جو خبر پہلے اگلی صبح اخبار میں ملتی تھی اب وہ چند سیکنڈ میں موبائل اسکرین پر آجاتی ہے۔ رفتار نے خبر کی گہرائی چھین لی۔ نئی نسل کی بڑی تعداد اب خبر پڑھنے کے بجائے ویڈیوز دیکھنا پسند کرتی ہے۔ مطالعہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے۔

ایک وقت تھا جب دفاتر، دکانوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور چوکوں میں لوگ اخبار پڑھتے دکھائی دیتے تھے۔ اب شاید ہی کہیں ایسا منظر نظر آئے۔ اندازہ یہی ہے کہ آج بہت کم لوگ باقاعدگی سے اخبار خریدتے یا مکمل پڑھتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب نے لوگوں کی توجہ کو اس طرح تقسیم کردیا ہے کہ انسان کے پاس سوچنے اور ٹھہرنے کا وقت ہی نہیں بچا۔
پھر الیکٹرانک میڈیا آیا اور آہستہ آہستہ سارا سکون نگل گیا۔ بچے عمر سے پہلے بڑے ہوگئے اور بوڑھے جوانی کے خواب دیکھنے لگے۔ پھر چینلز آگئے اور ہر طرف شور ہی شور پھیل گیا۔ ڈش اینٹینا، کیبل، غیر ملکی ڈرامے اور سازشوں سے بھرے قصے گھروں میں داخل ہوگئے۔

صحافی کی بات کریں تو اس دور کا صحافی واقعی پڑھے لکھے انسان جیسا لگتا تھا۔ کھدر کا کرتا پائجامہ یا سادہ پینٹ شرٹ، چہرے پر سنجیدگی اور لہجے میں ٹھہراؤ ہوتا تھا۔ نہ تھری پیس سوٹ، نہ ٹائی، نہ جیل لگا ہئیر اسٹائل۔ سادگی ہی اس کی پہچان تھی۔ شہرت تب بھی تھی مگر صحافی کے قلم کی تھی، اس کی شکل، آواز یا چرب زبانی کی نہیں۔ اس دور کے صحافی سلیبرٹی نہیں ہوتے تھے بلکہ عام لوگوں میں رہنے والے عام سے سادہ اور سچے لوگ تھے۔
پھر یوٹیوب آیا اور ہر شخص صحافی اور اینکر پرسن بن گیا۔ خبر ایک ذمہ داری کے بجائے کاروبار بن گئی۔ لوگوں کی زندگی کا سکون چھن گیا۔ ہر شخص جلدی میں ہے، ہر شخص بول رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ پیسہ کمانے کی دوڑ میں نہ جانے کتنے لوگ حالات کے نیچے کچلے گئے۔ انسان کی توجہ بکھر گئی اور ذہنی سکون ایک خواب بنتا چلا گیا۔
یہ بات نہیں کہ تبدیلی کیوں آئی یا ترقی کیوں ہوئی۔ زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے یہ سب شاید ضروری تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ چینلز کی اتنی بھرمار کیوں ہوئی؟ ہر طرف ایسا لگتا ہے جیسے چیونٹیوں کے ڈھیر پھیل گئے ہوں۔ شور، سنسنی، چیخیں، الزام، نفرت اور خوف۔ اگر ترقی ہونی تھی تو سکون چھین کر کیوں ہوئی؟ اگر میڈیا کو آگے بڑھنا تھا تو پرنٹ میڈیا کو مار کر کیوں بڑھا؟
آج اخبارات بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پرنٹ میڈیا سے وابستہ کتنے ہی لوگ عمر سے پہلے مرگئے۔ کسی نے ان کی خاموش موت کا نوحہ نہیں لکھا۔ اشتہارات جو کبھی اخبارات کی سب سے بڑی طاقت تھے اب سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر منتقل ہوچکے ہیں۔ بہت سے اخبارات مالی بحران کا شکار ہوکر بند ہوگئے۔ کتنے ہی صحافی اور ورکر بےروزگار ہوگئے مگر کسی نے اس نقصان کو سنجیدگی سے محسوس نہیں کیا۔
اگر چینلز کی جگہ مزید اخبارات نکلتے، لوگ پڑھنے کی عادت برقرار رکھتے، تو شاید معاشرہ آج بھی کچھ متوازن ہوتا۔ لوگ سمارٹ ٹی وی اور لیپ ٹاپ خریدنے کی فکر میں نہ پڑتے بلکہ کتاب اور اخبار خریدنے کو اہم سمجھتے۔ مسئلہ صرف اخبار کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ مطالعے کی عادت ختم ہونے کا بھی ہے۔ جب معاشرہ پڑھنا چھوڑ دیتا ہے تو شور بڑھ جاتا ہے اور سوچ کم ہوجاتی ہے۔
پرنٹ میڈیا کی وفات کو کتنے برس ہوگئے، یہ گننے کا سوچ کر بھی دل دکھتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے ترقی تو کرلی، مگر سکون کھودیا۔



