بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

بلوچستان میں نئے اضلاع اور ڈویژن انتظامی ضرورت یا سیاسی حکمت عملی؟

تحریر محمد شاہ دوتانی(کوئٹہ)

بلوچستان حکومت نے صوبے میں مزید تین نئے اضلاع اور ایک نئے ڈویژن کے قیام کی منظوری دے کر انتظامی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی کر دی ہے۔ ان فیصلوں کے بعد صوبے میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 42 جبکہ ڈویژنز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا، تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ اس اہم پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت کے مطابق نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کا مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا، دور دراز علاقوں کو سہولیات کی فراہمی آسان بنانا اور سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ لیکن دوسری جانب ناقدین ان فیصلوں کو سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی حلقہ بندیوں اور طاقت کے توازن کی نئی ترتیب قرار دے رہے ہیں۔

کابینہ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو دو اضلاع، “کوئٹہ ایسٹ” اور “کوئٹہ ویسٹ” میں تقسیم کرنے کی منظوری دی ہے۔ ریلوے لائن کو دونوں اضلاع کے درمیان حد بندی تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو انتظامی لحاظ سے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ کوئٹہ کی آبادی اور شہری پھیلاؤ میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ بروری کے نام سے نئی سب ڈویژن بھی قائم کی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے سیاسی لحاظ سے حساس علاقے وڈھ کو خضدار سے الگ کر کے نیا ضلع بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ وڈھ نہ صرف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا آبائی علاقہ ہے بلکہ ان کے سیاسی مخالف میر شفیق الرحمان مینگل کا بھی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح چاغی کو تقسیم کر کے “تفتان” کے نام سے نیا ضلع قائم کیا جا رہا ہے، جس میں نوکنڈی اور ماشکیل جیسے علاقے شامل ہوں گے۔ یہ فیصلہ سرحدی علاقوں میں انتظامی نگرانی بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کابینہ نے قلات ڈویژن کو تقسیم کرتے ہوئے “لسبیلہ ڈویژن” کے قیام کی منظوری دی ہے، جس میں لسبیلہ، حب اور آواران شامل ہوں گے۔ سابق قلات ڈویژن اب “خضدار ڈویژن” کہلائے گا۔ یہ تبدیلی صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اثرات بھی رکھتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں مختلف قبائلی اور سیاسی قوتوں کا اثر و رسوخ موجود ہے۔

بلوچستان حکومت نے “شہید سکندر آباد” کا نام دوبارہ “سوراب” رکھنے کی منظوری بھی دی ہے، جبکہ زہری کو خضدار سے الگ کر کے سوراب میں شامل کیا گیا ہے۔ زہری سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کا آبائی علاقہ ہے، اس لیے یہ تبدیلی بھی سیاسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اگرچہ حکومت ان فیصلوں کو عوامی سہولت اور بہتر انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، لیکن کابینہ اجلاس کے دوران ہی اختلافات سامنے آ گئے۔ صوبائی وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو نے مشاورت نہ ہونے پر احتجاج کیا۔ اپوزیشن جماعتیں بھی پہلے ہی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں اس موضوع پر واک آؤٹ بھی ہو چکا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے حساس اور قبائلی نظام رکھنے والے صوبے میں نئے اضلاع اور ڈویژنز کا قیام محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ اس کے دور رس سیاسی، سماجی اور قبائلی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وسیع مشاورت کے بغیر فیصلے کیے گئے تو یہ مستقبل میں تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران اضلاع کی تعداد 36 سے بڑھ کر 42 اور ڈویژنز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 11 ہو چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو ضلعی ہیڈکوارٹرز تک رسائی میں مشکلات پیش آتی تھیں، اس لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر تھے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلے واقعی عوامی سہولت کے لیے کیے جا رہے ہیں یا ان کے پیچھے سیاسی مصلحتیں بھی کارفرما ہیں؟ بلوچستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں انتظامی تبدیلیاں اکثر سیاسی طاقت کے توازن کو متاثر کرتی رہی ہیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان فیصلوں پر تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے تاکہ انتظامی اصلاحات مستقبل کے تنازعات کے بجائے صوبے کے استحکام کا ذریعہ بن سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button