اسلام آباد (ویب ڈیسک): وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں اپڈیٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
این ای سی اجلاس کے بعد مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق اور مالی معاملات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ قبائلی اضلاع کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں ضروری تبدیلیوں اور اپڈیٹ پر بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امید ہے تمام صوبے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی منظوری دیں گے۔ تاہم اگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تو سمری وزیراعظم کے ذریعے ایوانِ صدر بھجوائی جا سکتی ہے تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے آئی پی (Annual Investment Program) اور اے ڈی پی (Annual Development Program) میں صوبے کے حصے کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اجلاس میں گندم کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ پاسکو سے متعلق معاہدے اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ گندم کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر مزمل اسلم نے کہا کہ قومی سطح پر مجوزہ بجٹ اور سرکاری اخراجات میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ صوبوں کے مالی حصوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا کے حصے میں کوئی نمایاں کٹوتی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات اور ورکنگ ریلیشن شپ کو الگ رکھا جا رہا ہے اور حکومت تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ای سی میں فیصلے کثرتِ رائے سے ہوتے ہیں جبکہ این ایف سی اجلاس میں اتفاقِ رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مزمل اسلم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر مؤثر نمائندگی جاری رکھے گی۔



