عبدالحمید کا بجٹ اور دو قومی سے دو سیاسی نظریوں تک کا سفر

عبدالحمید غریب پیدا نہیں ہوا تھا۔ اسے ورثے میں ایک وسیع گھر، عزت اور ایک ایسا ماحول ملا تھا جس میں زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی کبھی کمی محسوس نہیں ہوئی، مگر اسے وہ ہنر نہیں سکھایا گیا جس سے وسائل کو بڑھایا جاتا ہے۔ وہ زندگی بھر اثاثے گروی رکھ کر چند دنوں کی آسائش خریدتا رہا اور اپنے اہل خانہ کو یہی جھوٹا دلاسہ دیتا رہا کہ بس تھوڑا انتظار کرو، اچھا وقت آنے والا ہے۔ یہ عبدالحمید کی ذاتی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کا المیہ ہے جو آج پاکستان کے معاشی منظرنامے میں خود کو دیکھ رہی ہے۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر جس ریاست کا خواب دیکھا گیا تھا، وہاں اب دو سیاسی نظریوں کا راج ہےایک حکومت میں ہوتا ہے اور دوسرا اپوزیشن میں، مگر دونوں کے درمیان ہونے والی لڑائی دراصل اقتدار کی منتقلی کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں عوام محض تماشائی ہیں۔
جون 2026 میں پیش ہونے والے وفاقی بجٹ کو دیکھا جائے تو اعداد و شمار کا فریب کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ مالی سال کے کل بجٹ کا ایک بڑا حصہ، تقریباً چودہ ہزار ارب روپے سے زائد، صرف قرضوں کے سود اور ادائیگیوں کی نذر ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس عام آدمی کی معاشی حالت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 41,700 روپے کی کم از کم ماہانہ تنخواہ اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں ایک مذاق معلوم ہوتی ہے۔
بجلی کے بلوں، پیٹرولیم لیوی اور اشیائے خوردونوش پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ براہِ راست اس غریب پر ہے جس کے پاس نہ تو کوئی مستقل روزگار ہے اور نہ ہی کاروبار کرنے کے لیے سازگار ماحول۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کی دوبارہ تعمیر جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ وہ سڑکیں پہلے ہی ٹھیک ہوتی ہیں، مگر محض کمیشن اور کک بیکس حاصل کرنے کے لیے انہیں دوبارہ اکھاڑا جاتا ہے، جو کہ ایک طرح کا "سیاسی کاروباری ماڈل” بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب سڑکوں پر نکلنے والی عوامی آوازیں حکمرانوں کو فیصلوں پر نظر ثانی پر مجبور کر دیتی تھیں، لیکن آج احتجاج بھی سیاسی جماعتوں کی جاگیر بن چکا ہے۔ ایوانوں میں ہونے والی ڈیل کے تحت احتجاج کی کال دی جاتی ہے، عوام سڑکوں پر ذلیل ہوتے ہیں اور پھر وہی بجٹ منظور کر لیا جاتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ احتجاج اب عوام کا حق نہیں بلکہ سیاست دانوں کا سیاسی حربہ ہے۔ عبدالحمید کی سب سے بڑی غلطی غربت نہیں تھی، بلکہ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز اور محض تقریروں کے سہارے گھر چلانے کی ضد تھی۔
یہی حال ہماری ریاست کا ہے جو ہر سال بجٹ پیش کر کے یہ باور کراتی ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور سائنسی تحقیق کو ہمیشہ پس پشت رکھا جاتا ہے کیونکہ حکمران جانتے ہیں کہ ایک جاہل اور بیمار قوم کو کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی غربت نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جس نے قوم کو عبدالحمید کی طرح قرضوں اور وعدوں کا عادی بنا دیا ہے۔ جب تک بجٹ کا محور عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا نہیں بلکہ اشرافیہ کے اخراجات اور قرضوں کی اقساط پورا کرنا رہے گا، تب تک عبدالحمید کے گھر کے کنستر خالی ہی رہیں گے۔ تاریخ ان قوموں کو یاد نہیں رکھتی جو قرضوں کے سہارے زندہ رہتی ہیں، بلکہ انہیں یاد رکھتی ہے جو اپنی خودداری کو اقتدار کے ایوانوں میں گروی رکھ کر نظام بدلنے کے دعوے تو کرتی ہیں مگر نتائج وہی پرانے رہتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اس تماشے کو سمجھیں، کیونکہ عبدالحمید کی طرح انتظار کرنے سے کنستر نہیں بھریں گے، بلکہ یہ انتظار صرف نسلوں کو مزید بے بسی اور غربت کی دلدل میں دھکیلتا رہے گا۔
تاریخ ان قوموں کو یاد نہیں رکھتی جو قرضوں کے سہارے زندہ رہتی ہیں، بلکہ انہیں یاد رکھتی ہے جو اپنی خودداری کو اقتدار کے ایوانوں میں گروی رکھ کر نظام بدلنے کے دعوے تو کرتی ہیں مگر نتائج وہی پرانے رہتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اس تماشے کو سمجھیں، کیونکہ عبدالحمید کی طرح انتظار کرنے سے کنستر نہیں بھریں گے، بلکہ یہ انتظار صرف نسلوں کو مزید بے بسی اور غربت کی دلدل میں دھکیلتا رہے گا۔



