بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبصحتکالم

مریضوں کی دھڑکن شیخ زید ہسپتال لاہور

فیصل درانی

 

کسی بھی قومی ادارے کی اصل طاقت اس کی عمارتوں، مشینری یا بجٹ میں نہیں بلکہ اس قیادت میں پوشیدہ ہوتی ہے جو بحران کو موقع اور چیلنج کو کامیابی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔دنیا کے کسی بھی شعبے کی کامیابی میں ایک لیڈر کا بہت اہم کردار ہوتا ہے کوئی انسان لیڈر ہو کر بھی اگر مطلوبہ قابلیتوں سے محروم ہو تو پھر وہ اپنی ٹیم شعبے اور ادارے کو کامیاب نہیں کر سکتا اور بہت جلد ناکامی سے دوچار ہوتا ہے ۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ لیڈر اور مینیجر ایک جیسی صلاحیتوں والے لوگ ہوتے ہیں ایسا نہیں ہوتا مینیجر کا کام لوگوں سے کام لینا ہوتا ہے یہ ضروری نہیں کہ ایک اچھا منتظم ایک اچھا رہنما بھی ہو ایک بہترین لیڈر وہ ہے جس کے پاس ہر مسئلے کا حل اگرچہ نہ بھی ہو لیکن وہ اپ کی خوشی غمی میں اپ کے ساتھ ہوتا ہے اپ کے مسائل میں اپ کو حوصلہ دیتا ہے وہ اپنی ٹیم کے ہر چھوٹے بڑے فرد کا احساس کرتا ہے اور یہ احساس ہر انسان تک پہنچ جاتا ہے کہ ان کا لیڈر ان سے محبت کرتا ہے۔

حقیقی لیڈر کی قابلیت اور معیار پر سو فیصد پورا اترنے والی ایک با ہمت پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ ہیں جنہوں نے اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت، غیر معمولی محنت اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے طبی شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کر رکھا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ اس وقت شیخ زید ہسپتال لاہور کی چیئرمین اور شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ڈین کے عہدے پر تعینات ہیں۔

بطور چیئرمین شیخ زید ہسپتال لاہور انہوں نے ادارے کی ترقی، مریضوں کی بہتر نگہداشت اور طبی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے قابلِ قدر کاوشیں انجام دی ہیں۔ ان کی قائدانہ صلاحیت، خلوصِ نیت اور مسلسل جدوجہد نہ صرف ادارے بلکہ پورے طبی شعبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کی خدمات اور کامیابیاں نوجوان ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ علم، قابلیت، محنت اور خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ ہیں۔ ان کی انتھک کاوشوں، بہترین قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت نے شیخ زید ہسپتال کو ترقی کی نئی منازل سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کی خدمات قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہیں۔ یکم دسمبر 2025 کو جب پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ نے شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور کی چیئرپرسن اور ڈین کا منصب سنبھالا تو انہیں ایک ایسے ادارے کی ذمہ داری ملی جو اپنی عظمت اور خدمات کے باوجود مالی، انتظامی اور تدریسی مسائل سے دوچار تھا۔

شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے اہم ترین وفاقی طبی، تحقیقی اور تربیتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ادارے کو درپیش مالی ذمہ داریوں، ایکریڈیٹیشن کے مسائل، سروس ڈیلیوری میں رکاوٹوں اور انتظامی چیلنجز کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی۔ تاہم چند ہی ماہ میں ادارے میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ مؤثر قیادت، واضح وژن اور عملی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ 1997 میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہوئیں۔ وہ 26 سال سے زائد تدریسی، تحقیقی اور طبی تجربے کی حامل ہیں جبکہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اعلیٰ انتظامی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ وہ نہ صرف شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں اعلی انتظامی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں بلکہ شیخ خلیفہ بن زید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی بھی نگرانی کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ان کی علمی خدمات کا اعتراف اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی میں مسلسل چار برس (2022 تا 2025) انہیں دنیا کے بہترین دو فیصد سائنسدانوں میں شامل کیا گیا۔ وہ فیمر فیلو بھی ہیں اور 2023 کے عالمی فیمر پروگرام میں منتخب ہونے والی واحد پاکستانی تھیں۔ شیخ زید ہسپتال میں ادارے کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مالی بے ترتیبی تھا۔ منصب سنبھالتے ہی ڈاکٹر عائشہ نے مالی شفافیت اور احتساب کے لیے اقدامات شروع کیے اور چند ہی دنوں میں 103 ملین روپے سے زائد کی واجب الادا مالی ذمہ داریاں ادا کی گئیں۔اخراجات کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا، غیر ضروری اخراجات کم کیے گئے اور ماہانہ بچت کو یقینی بنایا گیا۔ یہ اقدامات محض مالی استحکام تک محدود نہیں رہے بلکہ اس سے بچنے والے وسائل کو مریضوں کی سہولت، طبی خدمات اور تعلیمی سرگرمیوں پر خرچ کرنے کا راستہ ہموار ہوا۔

ڈاکٹر عائشہ کی سربراہی میں ہونے والی نمایاں کامیابیوں میں گردے اور جگر کی پیوندکاری کی خدمات کی بحالی شامل ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے منظوری کے بعد دسمبر 2025 میں گردے کی پیوندکاری کا پروگرام دوبارہ فعال کیا گیا۔ اسی طرح جگر کی پیوندکاری کی خدمات، جو لائسنسنگ مسائل کی وجہ سے معطل تھیں، دوبارہ شروع ہو چکی ہیں اور مریضوں کا علاج جاری ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف ادارے بلکہ ملک بھر کے اُن مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو مہنگے نجی مراکز تک رسائی نہیں رکھتے۔

پاکستان بیت المال کے تعاون سے کوکلیئر امپلانٹ پروگرام کی توسیع بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ نئی آڈیالوجی اور پیڈیاٹرک اسپیچ تھراپی یونٹس کے قیام کے بعد 46 کامیاب کوکلیئر امپلانٹ سرجریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن کی مالیت تقریباً 99 ملین روپے بنتی ہے۔ان سرجریوں نے درجنوں بچوں کو سماعت کی نعمت واپس دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو کسی بھی طبی خدمت سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی مثال ہے۔ صحت کے کسی بھی ادارے کی کامیابی کا انحصار صرف علاج پر نہیں بلکہ معیار اور مریضوں کے اعتماد پر بھی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ کی قیادت میں "سیف شیخ زید”، بائیومیٹرک حاضری اور "کلین اینڈ گرین شیخ زید” جیسی مہمات نے ادارے میں نظم و ضبط، صفائی اور تحفظ کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مریضوں اور عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ کا یہ یقین ہے کہ ادارے عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت نرسنگ، پیرامیڈیکل، انتظامی اور سکیورٹی عملے کے لیے تربیتی اور حوصلہ افزائی کے پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اخلاقیات، دیانت داری اور مریض دوست رویوں پر زور دیا گیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی ادارے کی حقیقی تبدیلی چند مہینوں میں مکمل نہیں ہوتی، لیکن اس کے آثار ضرور نمایاں ہو جاتے ہیں۔ شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں حالیہ اصلاحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ واضح وژن، شفافیت، احتساب اور خدمت کے جذبے کے ساتھ قومی اداروں کو دوبارہ فعال اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ کی قیادت میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ نہ صرف اپنے انتظامی اور مالی ڈھانچے کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کے میدان میں بھی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو بلاشبہ یہ ادارہ مستقبل میں پاکستان کے صحت عامہ کے نظام میں مزید مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ یہاں یہ بات کرنا بھی اشد ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کو اس بہترین اور مثالی ادارے کو کامیابیوں کے ریکارڈ بنانے کے لیے بیرونی سیاسی اور بیوروکریٹک دباؤ سے نجات دلانا ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button