پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاسائنس و ٹیکنالوجیعلاقائی خبریںکاروبار

مریم نواز کا ادائیگیاں ڈیجیٹل،ہرہفتے ٹیکس وصولی رپورٹ پیش،شادی ہال،فوڈچینزپر کیمرے لگانے کاحکم

پنجاب پولیو فری مستقبل کےقریب پہنچ چکا، ہر بچے سے مجھے پیار،ہر معذوری سے بچانا میری اولین ترین ترجیح ہے: خصوصی اجلاس سے خطاب

لاہور:(سلمان حسین)پنجاب میں میرج ہالز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑے فوڈ چین کی مانیٹرنگ کیلئے کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوڈ چین،میرج ہالز، فارم ہاؤسز میں ہر ٹرانزیکشن کا اندراج ہوگا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب ریونیو سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس میں اہم فیصلے اور تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں جعلی رسیدیں دینے اور سیل چھپانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بڑے ریسٹورنٹس میں کیش وصولی کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم انسٹال کرنے پر غورکیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اگر دنیا کیش سے ڈیجیٹل پر جا سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ ٹیکس چوری پر نو ٹالرنس،کیمرے کی آنکھ بھی دیکھے گی اور ڈیجیٹل سسٹم بھی پکڑے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ کی ہر ہفتے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کیلئے 528ارب50کروڑ روپے کا ریونیو ہدف مقررکیا گیا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کیش اکانومی سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کا حکم دیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب ریونیو کلیکشن میں 38 فیصد اضافہ،وصولی 250 سے 346 ارب تک پہنچ گئی۔ پی آر اے کا دائرہ کار 10 سے بڑھا کر 26 اضلاع تک وسیع کر دیا گیا۔ پی آر اے میں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ،ٹیکس پیئر آڈٹ اور لیگل ونگ کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پی آر اے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اورشاباش بھی دی۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پی آر اے میں انفورسمنٹ اور ہیومن ریسورس میں اضافے اور جدیدٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام میں ٹیکس ادائیگی کا شعور و آگاہی بڑھانے کیلئے پی آر اے کے میڈیا ونگ کو مزید موثر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پی آر اے جہاں کارروائی کرے،جامع انداز میں کارروائی کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کو پولیو وائرس سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی پنجاب کے 19 اضلاع سے لیے گئے31 نمونے پولیو وائرس سے پاک ہونے کی تصدیق کو سراہا گیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لاہور، ملتان، فیصل آباد، اٹک، بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، گوجرانوالہ، گجرات اور جھنگ کے پولیو وائرس کے نمونے منفی آئے ہیں۔ پولیو وائرس کے منفی نمونوں میں خانیوال، میانوالی، اوکاڑہ، راجن پور، راولپنڈی، رحیم یار خان، ساہیوال، سرگودھا اور سیالکوٹ سرفہرست ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے محکمہ صحت، عالمی پارٹنرز اور پولیو خاتمے کی پوری ٹیم کو خصوصی شاباش دی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ،تاریخ میں پہلی مرتبہ 19اضلاع سے حاصل کردہ پولیو ماحولیاتی سیمپلز منفی آئے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ہائی رسک اضلاع سے بھی پولیو ماحولیاتی سیمپل منفی آئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور عالمی پارٹنرز کے تعاون کو بھی سراہتے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر یونین کونسل میں موجود پولیو ورکرز،والنٹیرز، سپروائزرز اور مانیٹرز اس کامیابی کے حقیقی ہیرو ہیں۔ پنجاب پولیو فری مستقبل کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکا ہے۔پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی کا ثبوت ہے۔

ہائی رسک سپاٹس میں پولیو کا خاتمہ مضبوط سیاسی عزم اور فول پروف مانیٹرنگ کی بڑی مثال ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ پولیو وائرس ہائی رسک یونین کونسلز، موبائل اور تارکین وطن آبادیوں تک رسائی کو یقینی بنایا۔پنجاب کے ہر بچے سے مجھے پیارہے،ہر قسم کی معذوری سے بچانا میری اولین ترین ترجیح ہے۔

منفی سیمپلز بڑی کامیابی سہی، لیکن مکمل خاتمے تک غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔جب تک آخری بچے کو تحفظ نہیں مل جاتا، پولیو کے خلاف ہماری جنگ مسلسل جاری رہے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام پولیو کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت کا نہیں، ہر گھر، ہر کمیونٹی اور ہر محلے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیو ٹیموں سے تعاون کریں،دروازہ بند نہ کریں، یہ ٹیمیں آپ کے بچوں کے تحفظ کیلئے آتی ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ والدین بچوں کو پولیو سے بچانے کے قطرے ضرور پلائیں،یہ آپکے بچے کی زندگی بھر کی صحت کی ضمانت ہے۔ پنجاب کو پولیو فری بنانا مشترکہ مشن ہے، علما، کمیونٹی رہنماؤں اور عوام کے تعاون کے بغیر یہ مشن پورا نہیں ہو سکتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button