انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکالم

خوابوں کا مقدمہ

بے لگام / ستارچوہدری

ذرا تصور کیجیے کہ ایک صبح دنیا کی تمام عدالتوں میں ایک عجیب ہلچل مچ جائے۔ جج صاحبان اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوں، وکلا فائلیں سنبھال رہے ہوں، عدالت کے باہر لوگوں کا ہجوم ہو، مگر آج کے مقدمات زمینوں، جائیدادوں، قتل و غارت یا سیاست کے نہیں۔ آج عدالت میں ’’ خواب ‘‘ مدعی بن کرمقدمہ دائرکرنے آگئے ہوں۔۔۔۔جی ہاں، وہی خواب جو کبھی کسی بچے کی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کی صورت چمکے تھے، جو کسی نوجوان کے دل میں ایک بہتر دنیا بسانے کی خواہش بن کر اترے تھے، جو کسی ماں نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے دیکھے تھے، اورجو کسی بوڑھے شخص نے زندگی کے آخری کنارے پر بیٹھ کر سکون کی امید میں سجائے تھے۔۔۔عدالت میں خواب کھڑے ہوں اورانسانوں کے خلاف دعویٰ دائرکردیں، ان کا الزام یہ ہو۔۔۔۔
جناب والا !! ان لوگوں نے ہمیں بڑی محبت سے پیدا کیا، ہمیں اپنی آنکھوں میں جگہ دی، ہمیں اپنی باتوں میں سجایا، دوسروں کو ہمارے قصے سنائے، مگرپھرہمیں تنہا چھوڑ دیا،نہ ہمارے لیے جدوجہد کی، نہ قربانی دی، نہ راستے کی رکاوٹوں سے لڑے،ہم برسوں ان کے دلوں میں زندہ رہے، مگریہ ہمیں حقیقت کا لباس پہنانے کی زحمت تک نہ کرسکے۔۔۔۔اورشاید پہلی بارانسان کٹہرے میں کھڑا ہو اوراس کے مقابل وہ خواب ہوں جنہیں اس نے خود جنم دیا تھا۔۔۔


عدالت کی کارروائی شروع ہوتی ہے، کمرۂ عدالت میں ایک عجیب خاموشی طاری ہے، جج صاحب کے سامنے فائلوں کا انبار نہیں بلکہ خوابوں کے مقدمات کی موٹی جلدیں رکھی ہیں، ہرفائل پرایک نام لکھا ہے۔۔ بچپن کا خواب، جوانی کی آرزو، ادھوری خواہش ،دفن شدہ مقصد۔۔۔۔ سب سے پہلے ایک کمزورسا خواب گواہی کے لیے بلایا جاتا ہے، وہ لرزتی ہوئی آوازمیں کہتا ہے۔۔۔ !! میں ایک غریب بچے کی آنکھوں میں پیدا ہوا تھا، وہ ڈاکٹربننا چاہتا تھا، جب وہ سکول جاتا تھا تو مجھے سینے سے لگا کرلے جاتا تھا، میں ہررات اس کے ساتھ جاگتا، ہرامتحان میں اس کے ساتھ بیٹھتا،مگرپھرایک دن حالات مشکل ہوئے، لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، چند ناکامیاں ملیں، اوراس نے مجھے خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا۔۔۔۔ عدالت میں خاموشی مزید گہری ہو جاتی ہے۔۔۔۔ پھرایک اورخواب گواہی دیتا ہے، میں ایک نوجوان کے دل میں ایک کتاب لکھنے کی خواہش تھا،اس کے پاس خیالات بھی تھے، قلم بھی تھا، وقت بھی تھا۔ مگروہ ہرروزکہتا رہا،کل لکھوں گا، اگلے مہینے لکھوں گا، فرصت ملے گی تو لکھوں گا، سال گزرتے گئے، میں اس کی ڈائری کے خالی صفحات میں قید رہا، اورآخرکار بڑھاپے کی دھول میں گم ہو گیا۔۔۔۔ خواب بولتے جاتے ہیں اور انسانوں کے سرجھکتے جاتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ خوابوں کی شکایت ناکامی سے نہیں، وہ یہ نہیں کہتے کہ انسان ہرخواب پورا کر لیتا، ان کا مقدمہ کچھ اورہے۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں، ہمیں اس بات کا دکھ نہیں کہ تم ہارگئے،ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ تم نے لڑنے کی کوشش ہی نہیں کی، تم نے منزل نہ ملنے سے پہلے ہی سفرچھوڑ دیا، تم نے شکست آنے سے پہلے ہتھیارڈال دیے۔۔۔۔ اورشاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب عدالت میں بیٹھے ہوئے بیشتر لوگ خود کو مجرم محسوس کرنے لگتے ہیں، کیونکہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ قبرستان زمین کے نیچے نہیں، بلکہ اس کے دل کے اندر ہوتے ہیں، جہاں بے شمار خواب دفن پڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔
اب انسان کی باری آتی ہے۔۔۔۔ کٹہرے میں کھڑا انسان کچھ دیرخاموش رہتا ہے،اس کے چہرے پر شرمندگی بھی ہے اور تھکن بھی،وہ خوابوں کی طرف دیکھتا ہے اورپھر جج صاحب سے مخاطب ہوتا ہے۔۔۔۔ جناب والا۔۔۔ !! خواب جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ مکمل جھوٹ نہیں، ہم نے واقعی بہت سے خواب ادھورے چھوڑ دیے،مگرکیا عدالت صرف ہماری کہانی سنے گی۔۔۔؟ کیا خوابوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے ہمارے حالات دیکھے بھی تھے یا نہیں۔۔۔۔؟ عدالت میں ایک سرگوشی سی پھیل جاتی ہے، انسان اپنی بات جاری رکھتا ہے۔۔۔۔ کچھ خواب ایسے تھے جو بھوک سے ناواقف تھے، وہ ایک ایسے شخص کے دل میں پیدا ہوئے جسے شام کی روٹی کا یقین نہیں تھا، کچھ خواب ایسے تھے جو قرض کی قسطوں، بیمارماں کی دوائیوں اور بچوں کی فیسوں سے بے خبر تھے، وہ صرف آسمان دکھاتے رہے مگرزمین کی دھول نہ دیکھ سکے۔۔۔۔ یہ سن کرچند خواب بے چین ہو جاتے ہیں، انسان ایک پرانی ڈائری عدالت میں پیش کرتا ہے،اس کے زرد صفحات پر سینکڑوں منصوبے، خواہشیں اورارادے لکھے ہیں، وہ کہتا ہے،دیکھیے جناب۔۔۔!! ہم نے کوشش کی تھی، شاید اتنی نہیں جتنی کرنی چاہیے تھی، مگرہرادھورا خواب سستی کی وجہ سے نہیں مرتا،کچھ خواب حالات کے ہاتھوں زخمی ہوتے ہیں، کچھ وقت کی تلوارسے کٹ جاتے ہیں، اورکچھ ایسے لوگوں کے درمیان دم توڑدیتے ہیں جو ہرامید کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔۔۔ خوابوں کے وکیل فوراً اعتراض کرتے ہیں۔۔۔۔ جناب ۔۔۔!! اگرحالات ہی سب کچھ طے کرتے ہیں تو پھردنیا کے وہ لوگ کون ہیں جنہوں نے اندھیروں سے نکل کر روشنی پیدا کی۔۔۔۔؟ اگرمشکلات عذرہیں توکامیاب لوگوں کی تاریخ کس چیز کا ثبوت ہے۔۔۔۔؟ یہ سوال سنتے ہی عدالت دوبارہ خاموش ہو جاتی ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرف سچ موجود ہے۔۔۔۔ کمرہ عدالت میں پہلی باریہ احساس جنم لیتا ہے کہ یہ مقدمہ اتنا سادہ نہیں جتنا ابتدا میں لگتا تھا، یہاں مدعی بھی زخمی ہے اورملزم بھی۔۔۔۔خوابوں کے پاس ادھورے پن کا درد ہے، جبکہ انسان کے پاس حالات، خوف، ذمہ داریوں اورناکامیوں کی طویل داستان۔۔۔۔ اورشاید یہی وہ لمحہ ہے جب جج صاحب اپنی کرسی پرذرا آگے جھکتے ہیں، کیونکہ اب فیصلہ صرف قانون کا نہیں، زندگی کا ہونا ہے۔۔۔۔
جج صاحب ہتھوڑا بجاتے ہیں اورکہتے ہیں ،عدالت ایک ایسے گواہ کو طلب کرتی ہے جس نے خوابوں کو جنم لیتے بھی دیکھا ہے اور مرتے ہوئے بھی،کمرہ عدالت کے دروازے کھلتے ہیں اور ایک نحیف سا بوڑھا اندر داخل ہوتا ہے، اس کا نام ہے۔۔۔’’ وقت ‘‘۔۔۔۔۔جج صاحب پوچھتے ہیں، اے وقت۔۔۔۔!! تم نے کیا دیکھا۔۔۔؟ وقت مسکراتا ہے، ایک گہری سانس لیتا ہے اور کہتا ہے، میں نے خوابوں کو آنکھوں میں اترتے دیکھا ہے،میں نے بچوں کو آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے نوجوانوں کو دنیا بدلنے کے دعوے کرتے دیکھا ہے،لیکن میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اکثر انسان خوابوں سے نہیں ہارتے، وہ انتظار سے ہارجاتے ہیں۔۔۔ عدالت خاموش ہو جاتی ہے، وقت اپنی گواہی جاری رکھتا ہے، اکثرلوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت وقت ہے،وہ کہتے ہیں، کل سے شروع کریں گے، اگلے سال کوشش کریں گے، حالات بہترہوں گے تو قدم اٹھائیں گے،پھر میں خاموشی سے گزرتا رہتا ہوں، ایک دن ان کے بال سفید ہوجاتے ہیں، اوروہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں، اتنی جلدی سب کچھ کیسے گزرگیا۔۔۔۔؟ یہ الفاظ سن کر خوابوں کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، انسان بھی نظریں جھکا لیتا ہے۔۔۔۔ وقت ایک لمحے کے لیے رکتا ہے، پھراپنی انگلی عدالت میں موجود لوگوں کی طرف اٹھا کر کہتا ہے، خوابوں کے سب سے بڑے قاتل غربت، ناکامی یا حالات نہیں،ان کے سب سے بڑے قاتل وہ جملے ہیں جو انسان خود اپنے آپ سے بولتا ہے،’’ ابھی بہت وقت ہے ‘‘۔۔۔۔وقت اپنی گواہی ختم کرتے ہوئے کہتا ہے، میں نہ خوابوں کا دوست ہوں، نہ انسانوں کا دشمن، میں تو صرف گزرتا ہوں،مگرمیں نے اپنی طویل عمرمیں ایک بات سیکھی ہے، خواب مرنے سے پہلے اکثرانسان ہمت ہارتا ہے، یہ کہہ کروقت خاموش ہوجاتا ہے۔۔۔۔
بالآخروہ دن آ پہنچتا ہے جس کا سب کو انتظارتھا۔۔۔عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی ہے،خواب اپنی نشستوں پرموجود ہیں،انسان کٹہرے میں کھڑا ہے،وقت خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھا ہے،جج صاحب اپنے سامنے رکھی ہوئی فائل بند کرتے ہیں اورفیصلہ سنانے لگتے ہیں۔۔۔۔ کمرہ عدالت میں ایسی خاموشی ہے کہ شاید کسی دل کی دھڑکن بھی سنائی دے سکتی ہے، جج صاحب بولتے ہیں، عدالت نے خوابوں کے دلائل بھی سنے، انسان کی صفائیاں بھی، اور وقت کی گواہی بھی۔۔۔۔ یہ ثابت ہوا کہ انسان نے بے شمار خواب پیدا کیے، ان سے محبت کی، ان کا ذکر کیا، مگران میں سے بہت سوں کو حقیقت بنانے کے لیے مطلوبہ جدوجہد نہ کی، خوابوں کے چہروں پرامید کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔۔۔۔ جج صاحب اپنی بات جاری رکھتے ہیں،یہ بھی ثابت ہوا کہ ہرادھورا خواب بزدلی کا نتیجہ نہیں ہوتا،بعض خواب غربت کے ملبے تلے دب جاتے ہیں، بعض بیماریوں کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، اور بعض ذمہ داریوں کے بوجھ تلے سانس نہیں لے پاتے، اب انسان کے چہرے پر بھی کچھ سکون آ جاتا ہے۔۔۔ جج صاحب چند لمحے رکتے ہیں، پھر اپنی عینک اتار کر میزپررکھ دیتے ہیں۔۔۔۔ لہٰذا عدالت اس نتیجے پرپہنچی ہے کہ نہ خواب مکمل طورپرمظلوم ہیں اورنہ انسان مکمل طورپرمجرم، اصل قصورواروہ خوف ہے جو قدم روک دیتا ہے، وہ مایوسی ہے جو راستہ بدل دیتی ہے، اور وہ کل ہے جو کبھی آتا نہیں۔۔۔۔ عدالت میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے، پھرجج صاحب فیصلہ پڑھتے ہیں۔۔۔۔ عدالت حکم دیتی ہے کہ آج کے بعد ہرانسان اپنے دل میں موجود کم ازکم ایک خواب کو دوبارہ زندہ کرے۔ اسے الماریوں، ڈائریوں اوربہانوں کی قید سے آزاد کرے، کیونکہ خواب پورا ہونا ضروری نہیں، مگر اس کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے، یہ سنتے ہی خوابوں کی قطار میں ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے، کئی خواب مسکرا دیتے ہیں، شاید انہیں انسان کی کامیابی نہیں چاہیے تھی، صرف یہ یقین چاہیے تھا کہ ان کا مالک ابھی ہارا نہیں۔۔۔عدالت برخاست ہوجاتی ہے۔۔۔ حقیقت یہ ہے۔۔۔۔ خواب کبھی عدالتوں میں مقدمے دائر نہیں کرتے، لیکن ایک دن وہ خاموشی سے ہماری عمر کے آخری صفحے پرکھڑے ہو کرضرورپوچھتے ہیں، ہمیں پورا نہ سہی، کیا تم نے ہمارے لیے پوری کوشش بھی کی تھی۔۔۔۔؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button