خون کا عطیہ: ہنری ڈونانٹ کے خواب سے تھیلیسیمیا کے بچوں تک
عقیل انجم اعوان

دنیا کی تاریخ میں کچھ ادارے ایسے ہوتے ہیں جو صرف تنظیمیں نہیں ہوتے بلکہ انسانیت کی علامت بن جاتے ہیں۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ بھی ایسی ہی ایک عالمی تحریک ہے جس کا مقصد رنگ، نسل، مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانوں کی جان بچانا ہے۔ آج جب بھی دنیا کے کسی کونے میں جنگ، زلزلہ، سیلاب یا انسانی بحران جنم لیتا ہے تو ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے رضاکار متاثرین کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس عظیم تحریک کا آغاز ایک خوفناک جنگی منظر سے ہوا تھا۔
سن 1859 میں اٹلی کے مقام سولفرینو میں ایک خونریز جنگ لڑی گئی۔ ہزاروں فوجی مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد میدان زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔ لوگ پانی کے لیے تڑپ رہے تھے، طبی امداد نہ ہونے کے برابر تھی اور زخمی سپاہی آہستہ آہستہ موت کے منہ میں جا رہے تھے۔ اسی دوران ایک سوئس تاجر ہنری ڈونانٹ وہاں پہنچا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے انسانی المیہ دیکھا اور فیصلہ کیا کہ دنیا کو ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو جنگ اور آفات کے دوران انسانوں کی جان بچانے کے لیے غیر جانبدارانہ خدمات انجام دے۔
ہنری ڈونانٹ نے بعد ازاں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے تجویز پیش کی کہ ہر ملک میں رضاکار امدادی تنظیمیں قائم کی جائیں اور جنگ کے دوران زخمیوں اور طبی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کی اس سوچ نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی اور 1863 میں ریڈ کراس کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد ازاں جنیوا معاہدوں نے اس تحریک کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دی اور یوں انسانیت کی خدمت کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
ریڈ کراس کا نشان سرخ صلیب تھا جو دراصل سوئٹزرلینڈ کے قومی پرچم کا الٹ عکس تھا۔ اگرچہ اس کا مقصد کسی مذہب کی نمائندگی کرنا نہیں تھا، لیکن مسلم دنیا میں صلیب کو عیسائیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے 1877 میں سلطنت عثمانیہ نے سرخ صلیب کی جگہ سرخ ہلال استعمال کرنا شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نشان کو عالمی سطح پر قبولیت ملی اور بعد میں ریڈ کریسنٹ یعنی سرخ ہلال کو ریڈ کراس کے مساوی حیثیت حاصل ہو گئی۔ آج دنیا کے درجنوں مسلم ممالک ریڈ کریسنٹ کے نام سے انسانی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مقصد وہی ہے جو ہنری ڈونانٹ نے ڈیڑھ صدی قبل سوچا تھا، یعنی انسانیت کی خدمت۔
پاکستان میں بھی پاکستان ریڈ کریسنٹ ایک اہم فلاحی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلوں اور دیگر ہنگامی حالات میں یہ ادارہ متاثرین کی امداد کرتا ہے۔ اس کے رضاکار ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں، امدادی سامان تقسیم کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خدمات پہنچاتے ہیں۔ ملک بھر میں اس کے مختلف مراکز موجود ہیں جہاں عوامی فلاح کے متعدد منصوبے جاری ہیں۔
لاہور میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کی سرگرمیاں خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ یہاں صحت، انسانی بہبود اور خون کے عطیات سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے بچوں کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو تھیلیسیمیا جیسے مرض کا شکار ہیں۔ یہ بچے عام بچوں کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، کھیلنا چاہتے ہیں اور مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، لیکن ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ خون کی مستقل ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔
تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جس میں جسم مطلوبہ مقدار میں صحت مند خون پیدا نہیں کر پاتا۔ اس بیماری کے شکار بچوں کو ہر چند ہفتوں بعد خون لگوانا پڑتا ہے۔ ان کے لیے خون کوئی عارضی ضرورت نہیں بلکہ زندگی کا مستقل سہارا ہے۔ اگر وقت پر خون نہ ملے تو ان کی صحت تیزی سے خراب ہو سکتی ہے اور ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں خون کے عطیات کا نظام ابھی بھی مطلوبہ سطح تک منظم نہیں ہو سکا۔ اکثر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے والدین کو خون کے عطیہ دہندگان کی تلاش میں سوشل میڈیا پر اپیلیں کرنا پڑتی ہیں۔ کبھی دوستوں سے رابطہ کیا جاتا ہے، کبھی رشتہ داروں سے مدد مانگی جاتی ہے اور کبھی اجنبی لوگوں سے امید وابستہ کی جاتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں نوجوان موجود ہوں، یہ صورتحال یقیناً سوالیہ نشان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں خون کی کمی نہیں بلکہ خون عطیہ کرنے کی منظم ثقافت کی کمی ہے۔ اگر ہر صحت مند نوجوان سال میں صرف دو یا تین مرتبہ خون عطیہ کرے تو ہزاروں مریضوں کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ خون عطیہ کرنا نہ صرف ایک محفوظ عمل ہے بلکہ یہ انسانی جان بچانے کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ، تعلیمی ادارے، نجی کمپنیاں، سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جس میں رضاکار خون عطیہ دہندگان کا مستقل ریکارڈ موجود ہو۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بلڈ ڈونر کلب قائم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو آگاہی دی جائے کہ ان کا ایک عطیہ کسی بچے کی زندگی بچا سکتا ہے۔ جدید ڈیجیٹل نظام اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے خون عطیہ کرنے والوں کو مریضوں اور فلاحی اداروں سے منسلک کیا جائے۔
اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کسی تھیلیسیمیا کے بچے کے والدین کو خون کے لیے فریاد نہ کرنا پڑے۔ جب ہسپتالوں اور فلاحی اداروں کے پاس خون عطیہ کرنے والوں کا ایک منظم نیٹ ورک موجود ہو۔ جب معاشرے میں خون عطیہ کرنا اتنا ہی معمول بن جائے جتنا کسی ضرورت مند کی مالی مدد کرنا۔
ہنری ڈونانٹ نے سولفرینو کے میدان میں زخمی انسانوں کو دیکھ کر انسانیت کی خدمت کا جو چراغ روشن کیا تھا، وہ آج بھی دنیا بھر میں روشن ہے۔ پاکستان میں ریڈ کریسنٹ اسی مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔ تاہم اس مشن کی کامیابی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
شاید لاہور کے کسی مرکز میں اس وقت کوئی تھیلیسیمیا کا بچہ اپنے اگلے خون کے عطیے کا منتظر ہو۔ شاید کسی ماں کی آنکھوں میں امید کی ایک کرن ابھی باقی ہو۔ شاید کسی باپ کی دعائیں کسی نامعلوم عطیہ دہندہ کے لیے بلند ہو رہی ہوں۔
ایسے میں اگر ہم آگے بڑھ کر خون عطیہ کرتے ہیں تو ہم صرف ایک طبی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ انسانیت کے اس عظیم سفر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں جو ڈیڑھ سو سال قبل ایک سوئس تاجر کے دل میں جنم لینے والے احساس سے شروع ہوا تھا۔
خون کا عطیہ چند منٹ لیتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں کسی بچے کو مہینوں کی زندگی مل سکتی ہے۔ اور بعض اوقات یہی چند منٹ کسی خاندان کی پوری دنیا بچا لیتے ہیں۔



