
ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ کرنل راجیش پوار کے ہوشربا پوڈ کاسٹ انٹرویو نے عالمی منظرنامے پر ایک ایسا بم پھوڑا ہے، جس کے لرزہ خیز اعترافات نے دنیا کے سامنے اس ہولناک اور بھیانک سچائی کو پوری طرح ننگا کر دیا ہے جسے پاکستان ہمیشہ سے ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے پکارتا رہا ہے۔ یہ چونکا دینے والا بیان کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کی سرسری گفتگو یا کوئی خام خیالی نہیں بلکہ دشمن کے کیمپ سے آنے والی وہ ناقابلِ تردید گواہی ہے جس نے پاکستان کو نشانہ بنانے والی بدنامِ زمانہ، مکار اور انتہائی خطرناک تکون کے مکروہ چہرے سے شرافت کا جھوٹا نقاب نوچ پھینکا ہے۔ یہ اعترافِ جرم اس سازشی گٹھ جوڑ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے، اس کی معیشت کو مفلوج کرنے اور اس کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے لیے بنے اس ناپاک گٹھ جوڑ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وطنِ عزیز کے خلاف سازشیں کسی ایک سرحد یا ایک مخصوص خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ، انتہائی منظم اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے چلنے والا بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جس کا واحد اور حتمی مقصد امتِ مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت کوغیر مستحکم کرنا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو مٹانے، اس کے ٹکڑے کرنے اور اس کے وجود کو مٹانے کا خواب دیکھنے والے خود تاریخ کے تاریک ملبے میں دفن ہو گئے اور یہ مملکتِ خداداد ان شا اللہ دشمنوں کی تمام تر ریشہ دوانیوں، سازشوں اور مکارانہ چالوں کے باوجود ہمیشہ قائم، دائم اور سربلند رہے گی۔
اس مکروہ گٹھ جوڑ کی بدصورتی، سفاکیت اور عیاری کی گہرائی دیکھیے کہ ایک طرف افغانستان کی سرزمین ہے، جہاں فتنہ خوارج یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان یعنی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے اسلام کے باغیوں ، انسانیت کے قاتلوں، معصوم شہریوں کے گلے کاٹنے والے درندوں اور سفاک دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ، محفوظ ترین پناہ گاہیں، تربیتی مراکز اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ افغانستان کا موجودہ رویہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور پڑوس کے مسلمہ حقوق کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اپنے ہی کلمہ گو مسلم بھائیوں کی پیٹھ میں زہر آلود چھرا گھونپنے کے مترادف ہے، جہاں کابل کے بعض عناصر کی ناک کے نیچے سے یہ دہشت گرد پاکستان کی سلامتی، مساجد،سکولوں، بازاروں اور سیکورٹی فورسز پر بزدلانہ وار کرنے کے لیے پوری آزادی کے ساتھ آپریٹ ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کا وہ مکار، فاشسٹ اور متعصب چہرہ ہے جو اپنی داخلی ناکامیوں، شدید غربت، مودی سرکار کے فاشزم اور گرتی ہوئی عالمی ساکھ سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ان خونی بھیڑیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ہندوستانی کرنل راجیش پون نے خود مانا کہ ان دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیار، وائرلیس کمیونیکیشن کے آلات اور بے تحاشا فنڈنگ ہندوستان فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پاکستان میں بے گناہوں کا خون بہا سکیں جبکہ اس پورے گھناؤنے اور ابلیسی کھیل کو دنیا کی خطرناک ترین انٹیلی جنس اور تباہ کن جاسوسی ٹیکنالوجی مکار و سفاک اسرائیل فراہم کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں مستقل انتشار پھیلانا ہے۔یہ وہی اسرائیل ہے جو غزہ اور لبنان میں معصوم فلسطینیوں اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے جو انسانیت کا قاتل ہے اور مسلم دشمنی میں اندھا ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی پاکستان سے دیرینہ تکلیف، بغض اور حسد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، وہ پاکستان کی غیرت، اس کے ناقابلِ تسخیر اور مضبوط ترین ایٹمی اثاثوں، اس کے شاہین میزائلوں اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ اس کے فولادی، سٹریٹجک اور تاریخی دفاعی معاہدوں سے شدید ترین خوفزدہ ہے۔
پاکستان نے آج تک اپنے اصولی، نظریاتی اور ایمانی موقف پر قائم رہتے ہوئے اس غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور یہی غیرتِ ایمانی اور اسلامی حمیت تل ابیب کے صیہونی حکمرانوں کے سینوں میں ہر وقت خنجر کی طرح چبھتی رہتی ہے۔ اس سارے شیطانی کھیل میں اسرائیل کا مفاد سب سے اوپر ہے، جو مسلم امہ کے اس سب سے بڑے دفاعی قلعے کو اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد فاشسٹ بھارت کا مفاد ہے جو اکھنڈ بھارت کا دیوانہ خواب دیکھتے ہوئے خطے میں اپنی یکطرفہ چودھراہٹ قائم کرنے کے نشے میں دھت ہے اور آخر میں افغانستان کے کچھ عاقبت نااندیش اورکرایے کے ٹٹو ہیں جو چند ٹکڑوں، غیر ملکی ڈالروں اور عارضی مفادات کے بدلے اپنی پاکیزہ زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دے کر تاریخ کی بدترین غلطی کر رہے ہیںمگر یہ بین الاقوامی سازشی عناصر، ان کے مغربی اور صیہونی سرپرست اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے یہ کرایے کے قاتل، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گرد شاید یہ بھول چکے ہیں کہ وہ کس غیور، نڈر اور شہادت کا جذبہ رکھنے والی زندہ قوم اور پاک فوج سے ٹکرا رہے ہیں۔ پاکستان کوئی تر نوالہ یا کمزور دیوار نہیں جسے یہ تگڑا گٹھ جوڑ اپنی مکارانہ چالوں سے آسانی سے گرا سکے، یہ وہ مقدس دھرتی ہے جس کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے اس کے جری جوانوں، سرفروش غازیوں اور غیور عوام نے اپنے معصوم بچوں اور جوان بیٹوں کے خون کے چراغ جلائے ہیں۔ فتنہ خوارج کے آلہ کار ہوں یا بلوچستان کے امن و استحکام کو غارت کرنے والے را اور موساد کے تنخواہ دار ایجنٹ، ان سب کا انجام صرف اور صرف ذلت، ابدی رسوائی اور عبرت ناک موت ہے۔
جب تک اس پاک مٹی کے پاس لا الہ الا اللہ کا مضبوط ترین نظریہ، ایمان کی لازوال دولت، اتحاد و یگانگت اور افواجِ پاکستان جیسی دنیا کی سب سے بہترین، پیشہ ور، جنگ آزمودہ اور جاں نثار فورس موجود ہے، دشمن کی ہر جدید ترین اسرائیلی ٹیکنالوجی، ہندوستانی سرمایہ اور کابل کی محفوظ پناہ گاہیں خاک میں ملا دی جائیں گی۔ کرنل راجیش پون کا یہ اعترافِ حقیقت ہمارے عزم، ہمارے غصے اور ہماری غیرت کو مزید جلا بخشتا ہے کہ ہم نے اپنی صفوں میں چھپے اور سرحد پار بیٹھے اندرونی و بیرونی دشمنوں کے اس پورے نیٹ ورک کو نیست و نابود کرنا ہے اور پاکستان کے خلاف بننے والا یہ ناپاک صیہونی و ہندوستانی محور خود اپنے ہی بچھائے ہوئے بارود کے جال میں پھنس کر راکھ ہو جائے گا جبکہ پاکستان دشمنوں کے سینوں پر سانپ بن کر لوٹتا رہے گا اور دنیا کے نقشے پر ہمیشہ پوری آب و تاب، شان و شوکت اور ایٹمی طاقت کے غرور کے ساتھ چمکتا رہے گا۔



