سکون کے متلاشی نوجوان، سرحدوں کے محافظ اور عالمی امن کا بیانیہ
عاصم رضا خیالوی

پنجاب کی گرمی اپنے عروج پر تھی۔ سورج کی تپش دیواروں کو دہکا رہی تھی اور ہوا میں ایسی حبس تھی کہ ہر شخص شہر سے چند دن کی دوری چاہتا تھا۔ ایک کمرے میں پانچ دوست جمع تھے۔ میز پر چائے کے کپ، نقشے اور سیاحتی منصوبے بکھرے ہوئے تھے اور گفتگو کا محور ناران، سوات یا کشمیر کا سفر تھا۔ ان کے چہروں پر چمک اور دلوں میں چند دن سکون سے گزارنے کی خواہش تھی، مگر میں خاموشی سے ان کی یہ خوشگوار باتیں سن رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل پر پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تازہ کشیدگی کی خبر نمودار ہوئی۔ یہ خبر صرف ایک سرحدی تنازع نہیں تھی بلکہ اس کے تانے بانے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے، باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور دہشت گردی کے ایک وسیع جال سے جڑے ہوئے تھے۔
میں نے سوچا کہ اس کمرے کی پرسکون فضا اور سرحد کے اُس پار جاری آگ اور بارود کی دنیا میں کتنا بڑا تضاد ہے۔ میں نے ان نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کے اس سکون کی حفاظت کون کر رہا ہے؟ یہ سوال سن کر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ حالیہ دنوں میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کے دفتر پر جو حملہ ہوا اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک ہوئے، یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے اندرونی امن کو مسلسل نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی تھی، اور گرفتاریوں کے بعد سامنے آنے والے اعترافی بیانات نے یہ واضح کر دیا کہ ان دہشت گردوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کا مرکز افغانستان کی سرزمین رہی ہے۔
جماعت الاحرار کے اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے جس کا ذکر احسان اللہ احسان کے حالیہ بیانات میں بھی ملتا ہے۔ احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب مولوی فضل اللہ نے تحریکِ طالبان پاکستان کی قیادت سنبھالی تو تنظیم کے اندر شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں جماعت الاحرار وجود میں آئی۔ اس گروہ کا بنیادی مقصد پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کو مزید تقویت دینا تھا اور اس کی قیادت نے اپنی توجہ مہمند ایجنسی اور ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی۔ ان کے گروہ میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب سے لوگ شامل ہوئے اور آج یہی تنظیم پاکستان میں بڑے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے 28 جون کی شب افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں 25 شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ باجوڑ میں ایک اہم زمینی کارروائی کے دوران کمانڈر خان فروش عرف زبل جیسے خطرناک کردار کو بھی انجام تک پہنچایا گیا۔
یہ صورتحال پاکستان کے اس کردار پر بھی سوال اٹھاتی ہے جو وہ عالمی امن کے لیے ادا کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی ہیں۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں، عسکری اداروں اور سیاسی قیادت نے دن رات کوششوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ دراصل پوری دنیا کے امن کو بچانے کی ایک کوشش تھی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا استحکام پوری دنیا کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان نے کروڑوں انسانوں کو جنگ کے دہانے سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن افسوس کہ دنیا اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہے۔
آج دنیا کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایک طرف پاکستان جیسا ملک ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود امن کا داعی ہے اور جس کی سیاسی قیادت تحمل مزاجی کے ساتھ مذاکرات کا نعرہ لگاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک ہیں جو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل "دہشت گردی” کا راگ الاپتے ہیں۔ یہ ممالک کس طرح دوسروں کے گھروں میں مداخلت کرتے ہیں اور پھر بیانات کے ذریعے الٹا انہی پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر دیتے ہیں، یہ عالمی سیاست کا ایک تلخ باب ہے۔ پاکستان کا عسکری ادارہ اور پالیسی ساز یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہم "وار پروموٹر” نہیں بلکہ "پیس پروموٹر” ہیں، اور ہماری امن کی خواہش ہماری کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی برتری کا ثبوت ہے۔
میں نے دوبارہ ان نوجوانوں کی طرف دیکھا جو اب بھی اپنے سفر کے لیے پُرجوش تھے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ جائیں، پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا میں سانس لیں اور زندگی کے حسین لمحوں سے لطف اندوز ہوں، کیونکہ ایک محفوظ معاشرے کی معراج یہی ہے کہ اس کے نوجوان خواب دیکھ سکیں۔
لیکن میں یہ بھی چاہتا تھا کہ جب وہ کسی بلند چوٹی پر کھڑے ہوں تو اُن محافظوں کو ضرور یاد رکھیں جو سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں، تاکہ ملک کے دوسرے کونے میں زندگی کا پہیہ رواں رہے۔ امن محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مسلسل قربانی کا نام ہے، اور ایک قوم اسی وقت اپنے خواب پورے کر سکتی ہے جب اس کے محافظ خاموشی سے سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوں اور اس کی قیادت عالمی امن کے لیے دانشمندانہ کردار ادا کر رہی ہو۔



