
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا سے خوشیوں نے اپنا راستہ بدل لیا ہو۔ صبح اخبار کھولیں تو حادثات، شام کو ٹیلی ویژن دیکھیں تو جنگیں، موبائل اٹھائیں تو مایوسی کی خبریں۔ ایسا لگنے لگتا ہے کہ شاید روشنی نے اندھیروں سے ہار مان لی ہے، شاید اب اچھا وقت کبھی نہیں آئے گا۔۔۔۔
مگر ذرا ٹھہریے۔۔۔۔
اگر واقعی امید مر چکی ہوتی تو ہر صبح سورج کیوں نکلتا۔۔۔؟ ہر خزاں کے بعد بہار کیوں آتی۔۔۔؟ بارش کے بعد خشک زمین سبزہ کیوں اُگاتی۔۔۔؟ اور وہ انسان، جو سینکڑوں ناکامیوں کے باوجود اگلے دن پھر اپنے خوابوں کی طرف قدم بڑھاتا ہے، آخر اسے آگے بڑھنے کی طاقت کہاں سے ملتی ہے۔۔۔؟حقیقت یہ ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، امید انسان کے دل کا وہ چراغ ہے جو مکمل اندھیروں میں بھی بجھنے سے انکار کر دیتا ہے، یہی چراغ انسان کو گرتے ہوئے سنبھالتا ہے، روتے ہوئے مسکرانا سکھاتا ہے اور شکست کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔۔۔ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ دنیا صرف برائیوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن شاید ہم نے اچھائیوں کو دیکھنا کم کر دیا ہے۔
آج بھی کوئی بیٹا اپنے بوڑھے والدین کے قدم دباتا ہے، کوئی استاد خاموشی سے اپنے شاگرد کا مستقبل سنوارتا ہے، کوئی مزدور دیانت داری سے رزق کماتا ہے، کوئی نوجوان کسی اجنبی کی مدد کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ امید ابھی زندہ ہے۔۔۔
پھر ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔۔۔
وہ کسان جو خشک زمین میں بیج بوتا ہے، کیا اس کے پاس اس بات کی کوئی ضمانت ہوتی ہے کہ فصل ضرور اگے گی۔۔۔؟ نہیں۔ مگر وہ بیج ضرور بوتا ہے، کیونکہ اسے امید ہوتی ہے۔۔۔وہ طالب علم جو راتوں کو جاگ کر کتابیں پڑھتا ہے، کیا اسے پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی اس کے قدم چومے گی۔۔۔؟ ہرگز نہیں، مگر وہ محنت کرتا ہے، کیونکہ اسے امید ہوتی ہے۔۔۔وہ ماں جو اپنے بچے کو اچھے اخلاق سکھاتی ہے، وہ باپ جو اپنی خواہشات قربان کرکے اولاد کا مستقبل بناتا ہے، وہ مریض جو دوا کی پہلی خوراک لیتا ہے، وہ مسافر جو طویل سفر پر روانہ ہوتا ہے، ان سب کے قدموں کو اگر کوئی طاقت آگے بڑھاتی ہے تو وہ صرف امید ہے۔۔۔
زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مایوسی کو کبھی پسند نہیں فرمایا۔ قرآنِ کریم میں بار بار بندوں کو اپنی رحمت سے ناامید نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس لیے کہ جس دل میں امید باقی رہتی ہے، وہاں ہمت بھی زندہ رہتی ہے، دعا بھی زندہ رہتی ہے، کوشش بھی زندہ رہتی ہے اور منزل تک پہنچنے کا سفر بھی جاری رہتا ہے۔ہوسکتا ہے، آج آپ کے حالات آپ کے خلاف ہوں، دروازے بند دکھائی دے رہے ہوں، راستے دھندلا گئے ہوں، خواب ٹوٹتے محسوس ہو رہے ہوں۔
مگر یاد رکھیے، تاریخ گواہ ہے کہ سب سے روشن صبحیں اکثر سب سے تاریک راتوں کے بعد طلوع ہوئی ہیں۔ زندگی نے ہمیشہ اُن لوگوں کو حیران کیا ہے جنہوں نے آخری لمحے تک امید کا دامن نہیں چھوڑا۔۔۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے۔۔۔۔
امید کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر معجزوں کا انتظار کرنا نہیں ہوتا۔ امید کا مطلب ہے کہ اندھیرا ہو تو بھی چراغ جلایا جائے، راستہ نہ دکھائی دے تو بھی قدم اٹھایا جائے۔۔۔ اور بار بار ناکامی ملے تو بھی دل میں یہ یقین باقی رہے کہ شاید اگلی کوشش میری تقدیر بدل دے۔۔۔دنیا کی ہر بڑی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی ایسے انسان کی کہانی چھپی ہے جسے لوگوں نے کہا تھا، ’’ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘۔۔۔مگر اس نے دوسروں کی آواز سے زیادہ اپنے یقین کی آواز سنی۔
اگر وہ بھی مایوس ہو جاتا تو شاید آج اس کا نام بھی دنیا نہ جانتی۔۔۔ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بے شمار لمحے آتے ہیں جب لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔،کاروبار رک جاتا ہے، ملازمت چھوٹ جاتی ہے، اپنے بدل جاتے ہیں، خواب بکھر جاتے ہیں، مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔،جو رات ہمیشہ نہیں رہتی، وہ مشکل بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔۔۔اس لیے اگر آج آپ کے ہاتھ خالی ہیں تو انہیں دعا کے لیے اٹھا لیجیے۔ اگر راستہ بند ہے تو نئی راہوں کی تلاش شروع کر دیجیے۔
اگر ایک دروازہ بند ہوا ہے تو اس بات پر یقین رکھیے کہ ربِ کریم کے خزانے میں ایسے دروازے بھی ہیں جن کا ہمیں ابھی اندازہ تک نہیں۔شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان اس وقت تک نہیں ہارتا جب تک وہ اپنے دل میں امید کی آخری شمع بجھنے نہیں دیتا۔۔۔ اور جس دل میں امید کا چراغ روشن ہو، وہاں سے نئی شروعات جنم لیتی ہیں، نئے خواب پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔اور ناممکن بھی آہستہ آہستہ ممکن بنتا چلا جاتا ہے۔۔۔شاید زندگی کا سب سے بڑا امتحان یہی نہیں کہ ہم کتنی بار گرے، بلکہ یہ ہے کہ ہر بار گرنے کے بعد ہمارے دل میں امید باقی رہی یا نہیں۔۔۔مایوسی انسان کے قدم روک دیتی ہے، جبکہ امید ٹوٹے ہوئے انسان کو بھی دوبارہ سفر پر روانہ کر دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر نئی صبح، ہر کھلتا ہوا پھول، ہر مسکراتا ہوا بچہ اور ہر قبول ہونے والی دعا ہمیں خاموشی سے یہی پیغام دیتی ہے کہ اللہ نے ابھی اپنے دروازے بند نہیں کیے۔۔۔اگر آج حالات آپ کے حق میں نہیں ہیں تو یہ ضروری نہیں کہ کل بھی ایسے ہی ہوں۔ اگر آج آنکھوں میں نمی ہے تو ممکن ہے کل انہی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہوں۔ اگر آج راستہ نظر نہیں آ رہا تو کیا معلوم اگلے ہی موڑ پر منزل آپ کی منتظر ہو۔اس لیے خواب دیکھنا مت چھوڑیے، دعا مانگنا مت چھوڑیے، محنت کرنا مت چھوڑیے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔
امید کا دامن کبھی مت چھوڑیے،کیونکہ جس دن انسان امید چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنی قسمت بدلنے کی آخری کوشش بھی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔ اور یاد رکھیے۔۔۔!! جس دل میں اللہ پر یقین زندہ ہو، وہاں امید کبھی نہیں مرتی۔۔۔ اس لیے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔۔۔امید ابھی زندہ ہے۔



