کیا ایک اور پاک بھارت جنگ پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہے اس کے امکانات ہیں کہ نہیں اس سوال کا جواب ہنوز جواب طلب ہے پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلگام واقعہ کے بعد جو چار روزہ جھڑپیں ہوئیں تھیں اس پر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ ہماری بقا کا ضامن ہے دریائے چناب کے پانی پر ہمارا حق ہے بھارت پہلے ہمارے حصے کا پانی روکتا نہیں تھا بھارتی چناب سے پانی پاکستانی چناب میں داخل ہو جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہو رہا بھارت نے اپنے زیر انتظام چناب میں بڑے شگاف ڈال کر سرنگیں بنا لی ہیں جہاں سے چناب کا پانی دریائے بیاس میں جا رہا ہے۔

ہمارے زیر انتظام چناب میں پانی نہیں آرہا جو بہت تشوناک بات ہے یہ پانی ہماری بقا اور زندگی کی علامت ہے اگر یہ سلسلہ چلتا رہا توحالات بہت خراب ہو سکتے ہیں پاکستانی افسرشاہی حکمران اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں ابھی تک کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی صرف عسکری سطح پر کہا گیا ہے اگر بھارت باز نہ آیا توہم بھرپورجواب دیں گے۔

اس سلسلے میں سفارتی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے پاکستان کو چین اور امریکہ کے ساتھ مل کر سفارتی محاذ گرم کرنا ہو گا چین پاکستان اور بھارت کا مشترکہ ہمسایہ ہے اور امریکہ سپر پاور ہے ۔
ایک خط بھی منظر عام پر آیا ہےجو سو کے قریب اہم پاک بھارت شہریوں نے مودی اور شہباز شریف کو لکھا ہے ،چناب اور بیاس کے پانی کے بحران کا حل اگر چند ہفتوں میں نہ نکلا تو ستمبر تک حالات بہت خوفناک ہو سکتے ہیں ہم ایک امکانی جنگ کی طرف بڑھ سکتے ہیں
ایسے میں امریکہ چین کا کردار بہت اہم ہے وہ جنوبی ایشیا کے پونے دو ارب لوگوں کو جنگ سے بچانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں
حرف آخر اس بدنصیب جنوبی ایشیا کے عوام جو پہلے ہی غربت اور بھوک کے ہاتھوں مر رہے ہیں اب ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
ادھر کولمبو میں پاک بھارٹ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا ایک دور ہوا ہے یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی لگ بھگ آٹھ سال بعد شروع ہوئی ہے ۔



