
”اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ تاریخ کا وہ اٹل اصول ہے جس نے ہر دور میں استبدادی قوتوں کے غرور کو خاک میں ملایا ہے۔ آج کی دنیا میں ایرانی قوم کی استقامت اسی کربلائی فلسفے کی عملی تفسیر ہے، جہاں تعداد اور اسلحہ نہیں، بلکہ عزم اور توکل فیصلے کرتا ہے۔
تہران میں منعقدہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات محض ایک جنازہ نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ایک ایسا مرکز بن کر ابھری ہیں جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ تہران میں جاری یہ تقریبات، جن میں کروڑوں افراد کی شرکت متوقع ہے، ایران کی ریاستی طاقت اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ ان رسومات کے دوران موسیقی کا استعمال اور خاص طور پر وفود کی آمد کے وقت منتخب کردہ قرآنی آیات سوشل میڈیا پر ایک طویل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ناقدین اور تجزیہ کاروں کے مابین اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا ان آیات کا انتخاب مخصوص وفود کے لیے ایک سیاسی اشارہ تھا یا محض اتفاق، تاہم یہ منظر نامہ ایران کی سفارت کاری کے ایک نئے اور گہرے رخ کو ظاہر کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کلپس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر وفد کی آمد پر پڑھی جانے والی آیات میں ایک گہرا ربط دکھائی دیتا ہے۔ سعودی وفد کے وقت ’اللہ کی راہ میں لڑنے اور کامیابی‘ کی آیت، قطری وفد کے لیے ’سیدھی راہ‘، ترک وفد کے لیے ’جہاد کی فضیلت‘، حماس کے لیے ’عہد پورا کرنے والوں‘ کا تذکرہ، اور لبنانی حزب اللہ کے لیے ’خدا کی جماعت کے غلبے‘ کی آیت کا انتخاب، مبصرین کے نزدیک محض تلاوت نہیں بلکہ ایک علامتی سفارت کاری ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس کی کوئی وضاحت نہیں ملی، لیکن ان تفصیلات کا تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران ان تقریبات کے ذریعے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی اتحاد کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تقریب میں دنیا بھر کے 70 ممالک کی قیادت اور عسکری وفود کی موجودگی نے عالمی سیاست کے تمام حساب کتاب بدل دیے ہیں۔ یہ 70 ممالک کا ایران میں جمع ہونا، ان طاقتور قوتوں کے لیے ایک دو ٹوک پیغام ہے کہ دنیا اب یکطرفہ خوف کے سائے میں نہیں چلے گی۔ جس ’رجیم چینج‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے معصوم انسانی جانوں کا خون بہایا گیا، آج وہی دنیا ان کے جنازے میں شریک ہو کر ان کی بے گناہی اور ان کے نظریے کی حقانیت کا پرچم اٹھائے کھڑی ہے۔ یہ منظر ان طاقتور قوتوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے جو یہ سمجھتی تھیں کہ دھونس اور دباؤ سے دنیا کو اپنی مرضی کے تابع کیا جا سکتا ہے۔
سپریم لیڈر کی زندگی کا محور قوم کی وہ تربیت تھی جس نے انہیں سکھایا کہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرنا۔ ان کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کے رفقاء کار کا ان کے راستے پر کاربند رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی قوم کا عزم کسی ایک شخصیت کا مرہونِ منت نہیں۔ یہ تربیت ہی وہ اصل سرمایہ ہے جس نے ایران کو عالمی پابندیوں اور جنگی حالات میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا۔ آج جب دنیا کی بڑی طاقتیں مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو رہی ہیں، تو یہ اسی تربیت اور توکل کی جیت ہے۔
کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے وہ پیغام جو سکھاتا ہے کہ حق کی راہ آسان نہیں، مگر ثابت قدمی ہی فاتح بناتی ہے۔ یہ رسومات ثابت کر رہی ہیں کہ ظالم کی عارضی طاقت مذاکرات کی میز پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے، جبکہ حق کا نظریہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ چاہے دنیا ان رسومات کو محض سفارتی پروٹوکول سمجھے یا سیاسی پیغام، یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران اپنی قومی شناخت اور نظریاتی وقار کے ساتھ ایک نئی حقیقت بن کر ابھر رہا ہے۔



