بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

ترنم سے منتہا تک

بازغہ چشتی

چند روز پہلے میرے ہاتھ میرے والد، بابا پرویز چشتی کے شعری مجموعے "صلیبِ سخن” کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک نظم پر نظر ٹھہر گئی۔ عنوان تھا "ترنم میری بیٹی” اور تاریخ درج تھی 14 فروری 1978ء۔ یہ نظم پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے نصف صدی گزرنے کے باوجود ہمارے معاشرے کے زخم ابھی تک نہیں بھرے۔ وقت بدل گیا، حکومتیں بدل گئیں، قانون بدلے، شہر بدل گئے، مگر معصوم بچیوں کے نصیب نہ بدل سکے۔

ترنم صرف ایک بچی کا نام نہیں تھی، وہ اس معاشرے کے زخمی ضمیر کی علامت تھی۔ ایک ننھی کلی جو اپنے گھر سے نکلی، مگر واپس نہ لوٹ سکی۔ انسان کے روپ میں چھپے درندوں نے اس کی معصومیت کو روند ڈالا۔ اس سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اخبارات کے صفحات سیاہ سرخیوں سے بھر گئے، قلمکاروں نے اپنے قلم ماتم کے لیے اٹھا لیے، اور میرے والد نے "ترنم میری بیٹی” لکھ کر ہر اس باپ کے دل کی آواز کو لفظ عطا کیے جس کی بیٹی اس معاشرے میں سانس لے رہی تھی۔

ترنم کا سانحہ جنرل ضیاء الحق کے ابتدائی دور میں پیش آیا، جب ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور بعض سنگین مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے تھے۔ ترنم کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی گئی تاکہ معاشرے میں یہ پیغام جائے کہ معصوم بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ اس وقت لوگوں نے سمجھا کہ شاید اب ایسے جرائم کا راستہ رک جائے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ آج حالات مختلف ہیں۔ کبھی کسی ملزم کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کی خبر آتی ہے، کبھی برسوں مقدمات عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں، کبھی ثبوت کمزور پڑ جاتے ہیں اور کبھی متاثرہ خاندان انصاف کے طویل انتظار میں تھک جاتا ہے۔ قانون پر عوام کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہر ایسے مقدمے میں شفاف، تیز رفتار اور یقینی انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

وقت نے آگے بڑھنا نہیں چھوڑا، مگر ظلم نے بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ ترنم کے بعد زینب، فرشتہ، مروہ، نور فاطمہ، دعا، اسمہ، منتہا اور نہ جانے کتنی ننھی کلیاں اس بے رحم معاشرے کی نذر ہو گئیں۔ ہر چند ماہ بعد ایک نئی تصویر، ایک نیا جنازہ، ایک نئی ماں کی سسکی اور ایک نئے باپ کی خاموشی ہمارے ضمیر پر دستک دیتی ہے، مگر کچھ دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ صرف والدین کی زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔

منتہا بھی تو گھر سے صرف نوڈلز لینے نکلی تھی۔ کس ماں نے سوچا ہوگا کہ چند منٹ بعد اس کی بیٹی لاپتہ ہو جائے گی۔ شاید اس نے جاتے ہوئے صرف اتنا کہا ہوگا، "جلدی واپس آنا بیٹا۔” مگر وہ واپس نہ آئی۔ اسے بھی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، تشدد کیا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ایک ننھی جان، جس کے خواب ابھی آنکھوں ہی میں تھے، بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئی۔

اس واقعے کے بعد مشتعل لوگوں نے دکان کو نقصان پہنچایا، سامان توڑ دیا، مگر جذبات کی اس شدت میں وہ شواہد بھی متاثر ہوئے جن کی مدد سے تفتیش مزید مضبوط ہو سکتی تھی۔ غصہ فطری تھا، مگر انصاف صرف جذبات سے نہیں، مضبوط تحقیقات سے ملتا ہے۔

آج پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا والد یا والدہ ہو جو اپنی بیٹی کو سکول، کالج، بازار یا محلے کی دکان تک بھیجتے ہوئے دل ہی دل میں دعائیں نہ کرتے ہوں۔ بیٹی چند منٹ دیر سے گھر پہنچے تو دل میں وسوسے جنم لینے لگتے ہیں۔ فون کی گھنٹی بجے تو سانس رک جاتی ہے۔ یہ خوف کسی ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کا خوف بن چکا ہے۔

چند ماہ پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پنجاب پہلے سے زیادہ محفوظ ہو چکا ہے، مگر ایسے واقعات عوام کے احساسِ تحفظ پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ عوام کے لیے اصل پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں ہوتے، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی محفوظ ہے یا نہیں۔ اگر ایک ماں ہر روز اپنی بیٹی کی واپسی تک بے چینی سے دروازے کی طرف دیکھتی رہے تو سرکاری دعوے اس کے خوف کو کم نہیں کر سکتے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر ایسے سانحے کے بعد ہمارا معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک طبقہ کسی نہ کسی طرح متاثرہ بچی یا اس کے والدین ہی کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتا ہے۔ کبھی لباس پر بحث ہوتی ہے، کبھی وقت پر، کبھی تربیت پر۔ حالانکہ تین سال کی بچی، دس سال کی بچی یا ساٹھ سالہ خاتون کے ساتھ ہونے والے ظلم کو کسی لباس یا کسی عذر سے جوڑا ہی نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ہر قسم کی حدود اور نگرانی کو غیر ضروری سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہائیں کبھی معاشرے کو محفوظ نہیں بناتیں۔ بچوں کی پرورش محبت، اعتماد، نگرانی اور اخلاقی تربیت کے توازن سے ہوتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم بیٹیوں کی تربیت پر تو بہت زور دیتے ہیں، مگر بیٹوں کی تربیت پر کم بات کرتے ہیں۔ بیٹی کو سکھایا جاتا ہے کہ نظریں جھکا کر چلو، جلدی گھر واپس آؤ، احتیاط کرو۔ لیکن بیٹے کو کتنی بار یہ سکھایا جاتا ہے کہ راستے میں چلتی ہوئی ہر عورت کسی کی بیٹی، بہن یا ماں ہے اور اس کا احترام کرنا تمہارا فرض ہے؟ اگر گھروں میں بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا سکھایا جائے تو شاید عدالتوں پر اتنا بوجھ نہ پڑے۔

سوشل میڈیا بھی اس معاشرتی بحران کا ایک پہلو بن چکا ہے۔ مصنوعی حسن، فلٹر لگی تصویریں اور لمحاتی شہرت نے نوجوان ذہنوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جرائم کا جواز تلاش کیا جائے۔ جرم کی ذمہ داری ہمیشہ مجرم پر ہوتی ہے، نہ کہ متاثرہ فرد پر۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے کمزور افراد کو تحفظ دے، نہ کہ ان سے ان کے تحفظ کی ذمہ داری بھی خود اٹھانے کا مطالبہ کرے۔

سوشل میڈیا چند دن تک کسی معصوم بچی کی تصویر سے بھرا رہتا ہے۔ ہیش ٹیگ بنتے ہیں، بیانات آتے ہیں، ریلیاں نکلتی ہیں، پھر ایک نیا سانحہ پچھلے سانحے کو دھندلا دیتا ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں، خبریں پرانی ہو جاتی ہیں، مگر ایک ماں کبھی نہیں بھولتی کہ اس کی بیٹی کس وقت گھر سے نکلی تھی۔ ایک باپ کبھی نہیں بھولتا کہ اس نے آخری بار کس آواز میں اپنی بیٹی کو پکارا تھا۔ ان کے لیے وقت وہیں رک جاتا ہے۔

میرے والد کی نظم "ترنم میری بیٹی” آج بھی پڑھنے والے کے دل کو اسی طرح زخمی کرتی ہے جیسے 1978ء میں کرتی ہوگی۔ اس نظم کے الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود ہمارے معاشرے نے اس درد سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم نے ترنم کو بھی کھو دیا، زینب کو بھی، اور آج منتہا کو بھی، مگر شاید ہم اب تک اپنی اجتماعی بے حسی سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔

کسی قوم کی ترقی کا معیار صرف بلند عمارتیں، موٹرویز یا معاشی اعداد و شمار نہیں ہوتے۔ اصل ترقی اس دن ہوگی جب ایک ماں اپنی ننھی بیٹی کو نوڈلز لینے، سکول جانے یا بازار بھیجتے ہوئے خوف کے بجائے اطمینان محسوس کرے۔ جس دن پاکستان کی ہر بچی بلا خوف و خطر اپنے گھر سے نکل کر صحیح سلامت واپس آ سکے گی، اسی دن ہم کہہ سکیں گے کہ ترنم سے منتہا تک بہنے والے آنسو رائیگاں نہیں گئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button