پاکستانتازہ ترینصحتعلاقائی خبریںکاروبار

ایک اور 10 سی سی کی روایتی سرنج پر پابندی،کب سے اطلاق ؟

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)ایڈز اور دیگر موذی امراض کے پھیلائو کے بعد وفاقی حکومت نے روایتی سرنجوں پر پابندی لگا دی ۔اطلاق یکم جنوری2027سے ہوگا۔ ملک میں ایڈز سمیت موذی امراض کے پھیلائوکے بعد وفاقی حکومت نے روایتی سرنجوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

روایتی غیر انسولین ڈسپوزیبل سرنجز کی تیاری، درآمد و سیل پر پابندی ہوگی ۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے روایتی سرنجز پر پابندی کی ہدایات جاری کر دیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ)نے سرنج ساز کمپنیز، امپورٹرز کو مراسلہ بھجوا دیا ہے۔ڈریپ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر روایتی سرنجز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور 31 دسمبر کے بعد روایتی سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت غیر قانونی ہوگی۔

اس فیصلے کے تحت یکم جنوری 2027 سے ایک اور 10 سی سی کی روایتی سرنج پر پابندی ہوگی اور یکم جنوری سے مارکیٹ میں سیفٹی انجینئرڈ سرنجز فروخت ہو سکیں گی۔مراسلے کے مطابق ایڈز سمیت موذی امراض پھیلائو کے پیش نظر روایتی سرنج پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق ڈریپ میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے روایتی سرنجز پر پابندی کی منظوری دی اور روایتی ڈسپوزیبل سرنجز کی جگہ یکم جنوری سے آٹو لاک سرنجز استعمال کی جائیں گی تاہم روایتی 10 سی سی سرنجز صرف بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کیلئے مشروط دستیاب ہونگی۔

روایتی 10 سی سی سرنجز بڑے ہسپتالوں کو مخصوص طریقہ علاج کیلئے فراہم ہوں گی جب کہ روایتی سرنج ساز کمپنیاں، امپورٹرز پیکنگ پر خریدار کا نام لکھنے کے پابند ہونگے۔ڈریپ روایتی سرنجز کے محدود استعمال کا ریکارڈ رکھنے کیلئے ڈیجیٹل پورٹل قائم کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button