اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر کو قرضے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، برآمدات، آئی ٹی، ہاؤسنگ اور قابل تجدید توانائی سمیت اہم شعبوں کے لیے مالی سہولیات میں نمایاں اضافہ کریں تاکہ ملکی معیشت، برآمدات اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر اعلیٰ سطح کا اجلاس
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایکسیس ٹو فائنانس پلان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، متعلقہ اداروں اور مختلف بینکوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے حکومتی منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت معاشی استحکام کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مالیاتی نظام کو مزید مؤثر اور جامع بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد کاروباری افراد، کسانوں، برآمد کنندگان اور نوجوان سرمایہ کاروں کے لیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ایس ایم ای، زراعت اور آئی ٹی شعبہ حکومتی ترجیح
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی سیکٹر کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مربوط گورننس سسٹم قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ اس نظام کے سربراہ جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
آئندہ دو برس کے اہم اہداف
بریفنگ کے مطابق حکومت نے آئندہ دو برسوں کے لیے درج ذیل اہداف مقرر کیے ہیں:
- نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنا۔
- قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانا۔
- ایس ایم ای سیکٹر کے لیے بینکوں کی قرضہ فراہمی میں نمایاں اضافہ کرنا۔
- کاروباری سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار میں تیزی لانا۔
وزیراعظم کی واضح ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی ترقی کے بغیر پائیدار اقتصادی استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام بینک ترجیحی شعبوں، خصوصاً ایس ایم ای سیکٹر، کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں تاکہ کاروبار کو فروغ ملے، برآمدات بڑھیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کا ماہانہ جائزہ وہ خود لیں گے۔
گلگت بلتستان کی ترقی بھی اولین ترجیح
بعد ازاں وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین سے ملاقات میں کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چار دانش اسکول تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ سال ان میں تدریس کا آغاز ہوگا، جبکہ 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے کردار کو مزید مؤثر بنانے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار ربیکا گرینسپن سے ملاقات میں کہا کہ عالمی امن، سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور پر مؤثر عملدرآمد ہی عالمی امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے، جبکہ ربیکا گرینسپن نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔



