پاکستانتازہ ترین

ریاست سوتیلی ماں بن گئی، ایک جماعت کی پٹائی ہو رہی ہے: اعتزاز احسن

لاہور (بیورو چیف) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور وسیع تر تحریک کی ضرورت ہے، ہم فرقوں اور ذاتوں میں بٹے رہے تو ملک میں کوئی پیداوار نہیں ہوگی، جبکہ پاکستان کا پوٹینشل ضائع ہوا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیپلز انفارمیشن بیورو اور بھٹو شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیفما آڈیٹوریم میں ’’مزید صوبے یا بااختیار ضلعی حکومتیں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کا کھا رہے ہیں۔ انگریز کے نظام میں 14 اگست سے آج تک جھنڈا تبدیل ہونے کے سوا کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لوکل باڈی کسی کا متبادل نہیں، بلدیاتی انتخابات ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل انتہائی گھمبیر ہیں اور بدقسمتی سے ملک پر 150 ارب ڈالر کا قرضہ ہے، جبکہ 12 ارب ڈالر کا جہاز بھی آنا ہوتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی بھی شاہ خرچیاں کرتی ہے، ہمیں اپنے پیٹ پر بندھی بیلٹ مزید کس کر باندھنا ہوگی۔ ملک کے حالات ایسے ہیں کہ ہم نے اپنے ہمسایوں کو دشمن بنا رکھا ہے، ہمیں بین الاقوامی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ آج ریاست سوتیلی ماں بن گئی ہے اور ایک جماعت کی پٹائی ہو رہی ہے۔

’’مسئلہ اختیار نہیں، اختیارات کی تقسیم ہے‘‘

پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ 1973ء کا متفقہ آئین پاکستان کا سوشل کنٹریکٹ ہے۔ 18ویں ترمیم کے علاوہ ہر قانون سازی کے محرکات پر سوالیہ نشان ہیں اور رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ کس کا انگوٹھا پارلیمنٹ کی گردن پر ہے، جبکہ فرد اور کتاب کی پسند میں بہت فرق ہے۔ ہمارا مسئلہ اختیار نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم ہے۔

’’88ء سے جھرلو جھرلو لگے ہوئے ہیں‘‘

بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ ہم 1988ء سے جھرلو جھرلو لگے ہوئے ہیں، ہمیں فارم 47 کے بارے میں نہ بتایا جائے، ابھی آپ طفل مکتب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو بننا ناممکن جبکہ آصف زرداری بننا مشکل ہے۔ صدر زرداری نے اختیارات پارلیمنٹ کو دیے اور پارلیمنٹ نے صوبوں کو، اب صوبوں کو چاہیے کہ اختیارات ضلعی حکومتوں کو منتقل کریں۔

بیرسٹر عامر حسن کا کہنا تھا کہ گالی دینے سے کام نہیں چلے گا، ہم نے جانیں دے کر یہ سیکھا ہے۔ ہم دعوت دیتے ہیں کہ سیاست کریں، ورنہ عوام سیاست، ایوانوں اور ان لوگوں سے عاجز ہیں جن کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا۔

’’نئے صوبوں کا معاملہ کالا باغ ڈیم نہ بن جائے‘‘

ڈاکٹر امین نے کہا کہ فوج سیاسی جماعتوں کی سپورٹ کے بغیر نہیں آتی، ہم سب پاکستانی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہو کہ نئے صوبوں کا مسئلہ کالا باغ ڈیم بن جائے۔

پی ٹی آئی رہنما احمد اویس نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کے بغیر نظام چل رہا ہے۔ یہاں اظہار خیال نہیں کیا جاسکتا، بولنے اور سننے پر پابندی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button