پاکستانتازہ ترینکالم

اور ’’امید‘‘ بھر آئی

کالم : اسد مرزا

پاکستان تحریک انصاف اورحکمران جماعت مسلم لیگ نون میں مذاکرات کے دور چل رہے ہیں، لیکن چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ’’اُن‘‘ سے ملاقات ہو ہی گئی ہے، جن سے ملاقات کا مطالبہ پی ٹی آئی کی ’’اندر‘‘ اور ’’باہر‘‘ قیادت دونوں ہی کررہے تھے، اِس ملاقات نے حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور اہم عہدوں پر براجمان سرکاری افسران کیلئے بلاشبہ تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے رہنما جس ’’طاقت ورشخصیت ‘‘ سے ملے ہیں، نہ ہی ملتے تو حکومت کی سیاسی و انتظامی کیلئے بہتر تھا اگر یہ ملاقات اوراِس کے نتائج مثبت برآمد ہوئے تو پھر کوئی بڑا استعفیٰ آسکتا ہے، یہ استعفیٰ کس کا ہوگا یقیناً اِس کا اعلان جلد ہوجائے گا۔ سیاست میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے، کل کے دشمن آج دوست بن سکتے ہیں، جیسا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تو، پی ٹی آئی کی ’’اُن‘‘ سے ملاقات کیونکر نہیں ہوسکتی، جن سے ملاقات اورمذاکرات وہ چاہتے تھے۔ویسے بھی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف پارٹی کی سیاست کو بچانے کیلئے اقتدار لینےکے حق میں نہیں تھے، اِن کے قریبی ساتھیوں کی بھی یہی رائے تھی لیکن بالآخر وہی کچھ کرنا پڑا، جو کرنے کیلئے انہیں کہا گیا تھا۔
ممتاز مفتی لبرل اور مذہب سے بیگانے دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ان کی کتاب’’لبیک‘‘ میں ممتاز مفتی لکھتے ہیں کہ ’’مکہ شریف میں اللہ اور عبد ہوتے ہیں۔ مدینہ شریف میں رسول ﷺ اور امتی ہوتے ہیں۔وہاں بزرگ نہیں جاتے کیا؟ جاتے ہیں، تو پھر؟ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سب کوجوتوں کے ساتھ ساتھ مرتبے اوربزرگی کے عمامے بھی اتار دینے پڑتے ہیں، اورکوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ واپسی پر اس کا عمامہ اسے مل بھی جائےگا، پھر تو مرتبے والے بزرگ فکر مند رہتے ہوں گے، مگر عام بندے مزے میں ہوں گے کیونکہ انہیں عمامہ کی فکر نہیں ہوگی۔ بہرکیف پنجاب پولیس کے دو اعلیٰ افسر جو اہم سیٹوں پر تھے، عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس گئے ، ان کی واپسی سے قبل ہی انہیں تبدیل کردیاگیا، اگرچہ ممتاز مفتی نے اِن کے بارے میں نہیں لکھا تھا، تاہم تبادلے کو محض اتفاق قرار دیاجاسکتا ہے۔ سابق سی ٹی او لاہور اور’’اپنا پیارا ایپلی کیشن کے روح رواں، پنجاب پولیس کے ’’چاند‘‘ کیپٹن (ر) مستنصر فیروز کے بعد اب ڈی پی او جہلم ناصر محمود جب سی ٹی او تعینات تھے، تو انہیں بھی عمرہ کی سعادت کے دوران تبدیل کر دیا گیا۔ دیکھاجائے تو یہ انتظامی معاملہ ہے، لیکن اِس کو جتنے رنگ دینا چاہیں دیئے جاسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ نے جہلم کی عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے جو طریقہ متعارف کرایا وہ بلاشبہ منفرد تھا، ورنہ سفارش کے ذریعے معاملات گول ہوجاتے ہیں لیکن ناصر محمود باجوہ نے حاضر دماغی کے ساتھ نہ صرف جہلم ،جو اہم اور حساس علاقہ قرار دیا جاتا ہے، میں امن و امان قائم رکھا بلکہ پولیس کو ڈسپلن فورس کے طور پر لیکر چلے۔جہلم کے علاقے سوہاوہ میں حساس ادارے کے اہلکار کی بیٹی کا اغوا ہوا تو تفتیشی سب انسپکٹر نے اپنے مخبر سے ملکر مدعی مقدمہ سے مختلف اوقات میں 6 لاکھ روپے رشوت لی، مدعی مقدمہ نازوں سے پالی بیٹی کی بازیابی کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار تھا، لیکن تفتیشی افسر اس کے جذبات سے کھیل رہا تھا، کبھی ریڈ، ضمانت کینسل کرانے اور کبھی جج کے نام پر مدعی سے مالی فائدہ اٹھا رہا تھا، سب انسپکٹر خالد محمود جس کا بعد میں جلالپور تبادلہ کردیاگیا، مدعی نے ڈی پی او جہلم کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا، جس پر ناصر محمود باجوہ نے ڈی ایس پی سوہاوہ کو معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی ۔ جس نے فریقین یعنی مدعی مقدمہ اور رشوت لینے والے سب انسپکٹر تفتیشی و ٹائوٹ میں تصفیہ کروا دیا تب سابق ڈی پی او نے حکمت عملی کے تحت فریقین کو بلا کر تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ مدعی کی 6 لاکھ کی رقم واپس کرو اور مخبر کے خلاف مقدمہ بھی درج کرو، تب تفتیشی نے اپنی نوکری بچانے کیلئے تمام رقم مدعی کو واپس کر دی، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی کیونکہ اگر ڈی پی او کی جانب سے محبت بھرے طریقے سے رقم کی واپسی کا نہ کہا جاتا تو سب انسپکٹر نے رشوت لینے کا اعتراف بھی نہیں کرنا تھا، اس لئے سب انسپکٹر خالد محمود کو رشوت کی لی رقم واپس کرنے کے بعد چارٹ شیٹ کر کے انکوائری کے بعد ملازمت سے برخاست کر دیا گیا، اسی طرح ایک اور باریک واردات میں ملوث عارضی ایس ایچ او دینہ سب انسپکٹر عثمان، تفتیشی اور دو اہلکاروں کو ایک مقدمہ کے ملزم سے 5 لاکھ 75 ہزار رشوت اور جامعہ تلاشی کے دوران ہونیوالی برآمدگی نہایت دھیمے لہجے میں درخواست دہندہ کو رقم واپس کرنے کا وقت دیا اور پھر رقم واپس ہونے پر تمام ذمہ داروں کو معطل کلوز لائن کر دیا، لہٰذا ایسے واقعات کے بعد پولیس کسی شہری سے رشوت لینے سے پہلے سو بار سوچتی تھی اسی وجہ سے جہلم کی عوام سابق ڈی پی او سے خوش جبکہ ماتحت افسران و ملازمین نالاں تھے۔
اگرچہ ڈی پی او جہلم ناصر محمودباجوہ کا تبادلہ ہونے پر ماتحت افسران و ملازمین خوب بغلیں بجائیں گے لیکن ان کی خوشی تادیر اِس لئے نہیں ہوئی کیونکہ نئے ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو بھی سخت گیر پولیس افسر ہیں انکا عوام اور ماتحتوں کے ساتھ رویہ بہت اچھا ہے لیکن نااہل، رشوت خور اور جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کا ہنر وہ بخوبی جانتے ہیں بلکہ ایسے ’’مریضوں‘‘ کے وہ ماہر ’’ڈاکٹر‘‘ ہیں۔ نئے ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے بطور ڈی پی او قصور پوسٹنگ کے دوران نہ صرف وہاں کے بڑے پریشر گروپوں کو سیدھا کر دیا، بلکہ ’’طرم خان‘‘ کہلوانے والوں کو بھی وہ اپنی سخت پالیسیوں سے گھٹنوں کے بل لے آئے، یہی سب کچھ انہوں نے ماتحت افسران و ملازمین کے ساتھ بھی کیا، لہٰذا سیاسی دبائو کے باوجود وہ اپنے کام کے پورے نکلے اسی لئے قصور کے امن پسند شریف شہری انہیں یاد کرتے ہیں جبکہ پریشر گروپ اور ٹنڈے منڈے بدمعاش اب بھی انہیں یاد کرکے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے ’’پاکستان کی آخری امید‘‘گلوکار جواد احمد کی بیوی کے پارلر پر چھاپہ مارکر بجلی چوری پکڑ لیا ہے، رپورٹ کے مطابق ’’آخری امید‘‘ نے لیسکو کی ٹیم پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ میٹر لیکر فرار ہوگیا۔ بہرحال دیکھیں کب ’’آخری امید بر آتی ہے‘‘
فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کےتھانہ صدر کی حوالات میں دیرینہ دشمنی پر تین سگے بھائیوں کے قتل اوران کے کزن کے شدید زخمی ہونے کے معاملہ پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ہائی پروفائل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے، جس میں ڈی آئی جی انٹیلی جنس سپیشل برانچ فیصل علی راجا بطور انکوائری کمیٹی کے سربراہ، اے آئی جی آپریشنز پنجاب زاہد نواز مروت اور اے آئی جی کمپلینٹس احسان اللہ چوہان انکوائری کمیٹی کے رکن کے طورپر شامل کئے گئے ہیں۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ اس انکوائری کمیٹی کے ٹی او آرز اور نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا گیا مگر اس کمیٹی کے ممبران نے الگ الگ انکوائری رپورٹ پیش کردی ہے، اس ہائی پروفائل انکوائری کمیٹی کا نوٹیفکیشن کیوں نہیں جاری کیا گیا ؟اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں لیکن آر پی او فیصل آباد ڈاکٹر راجہ عابد نے واقعہ کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے غفلت کے مرتکب ماتحت افسران کے خلاف سخت کارروائی کر کے انہیں عہدے سے ہٹا دیاتھا اور اب پولیس کے ایک اعلیٰ افسر اور ماتحتوں کے تبادلے کا امکان ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک سیاسی شخصیات اِس معاملے پر مصالحت کے لئے کوشش کررہی تھی لیکن بات نہ بن سکی۔ اس بارے تفصیلات آئندہ کالم میں ضرور پڑھیے گا۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button