انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبفن اور فنکارکالم

ادیبوں کی کہکشاں میں غلام حسین ساجدکے نام ایک شام

شہزاد فراموش

جہاں حروف مہکتے ہیں، وہاں یادوں کے دیپ جلتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک شام ایسے سخنور کے نام سجی جس کی چھاؤں میں ادب کا احترام پلتا ہے۔لفظوں کا سفر تھا جو ”موسم“ سے بڑھ کر ”حافظے“کی وسعتوں میں اُتر گیا۔اس کی موجودگی ہی لفظوں کے دیے روشن کر گئی۔ اُسے ادبی دنیا میں غلام حسین ساجد کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ شام سوئی ناردرن گیس کلچرل سوسائٹی لاہور کے زیرِ اہتمام انہی نامور شاعر، ممتاز ادیب اور نقاد کے نام سجی تھی۔

یہ تقریب تخلیق، جمالیات اور خلوص کا بہتا ہوا دریا تھی جس کی صدارت ستارہِ امتیاز حاصل کرنے والی ادیبہ سلمیٰ اعوان نے کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز سید عرفان علی کی آواز سے سجی حمدِ باری تعالیٰ سے ہوا۔ سوسائٹی کے چیئرمین فرخ مجید، سیکرٹری مدثر بشیراور ارکان لیاقت علی ناہرا، راحیل فاروق،خالد محمود، امجد ممتاز، یاسر عزیز، میاں قیصر یعقوب اورسفیرِ لاہور رضوان نصیر نے مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ سٹیج پر صدرِ محفل سلمیٰ اعوان، صاحبِ شام غلام حسین ساجد، نوید صادق، صائمہ آفتاب اور فرخ مجید جلوہ افروز تھے۔

صدرِ محفل سلمیٰ اعوان نے اپنے صدارتی خطبے میں غلام حسین ساجد کو ادب کی ہشت پہلو شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ادب کی تمام اصناف میں بے پناہ محنت سے کام کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں ایسی ادبی محافل کے انعقاد کو نہایت خوش آئند قرار دیااور انتظامیہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔صاحبِ شام غلام حسین ساجد نے جب مائیک سنبھالا تو محفل میں ایک شگفتگی اور سحر گھل گیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے بے ساختہ انداز میں کہاکہ ”میں اپنے قبیلے میں پڑھنے والا پہلا شخص اور پہلا شاعر ہوں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میرے گھر میں میری بیوی سمیت کسی نے بھی میری شاعری نہیں پڑھی۔“انہوں نے ماضی کے اوراق الٹتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں گھر میں سودا سلف کے ساتھ آنے والے پرانے اخبارات اور سکول کے صندوق سے نکلوا کر پڑھی جانے والی کہانیوں نے اُن کی ذہن سازی کی۔

کتابوں اور ادب میں گم رہنے نے بظاہر انہیں تنہا کیا، لیکن ان کی تنہائی دس ہزار سے زائد کتابوں سے سجی لائبریری کی مرہونِ منت رہی، جس سے دُگنی کتابیں وہ پڑھ چکے ہیں۔احمد ندیم قاسمی کے تاریخی ادبی مجلے فنون میں ضلع ملتان سے شائع ہونے والے پہلے شخص ہونے کا اعزاز رکھنے والے غلام حسین ساجد کا ذکر کرتے ہوئے شمس الرحمان فاروقی نے کہا تھا کہ ”برصغیر پاک و ہند میں ایسا کوئی ادبی پرچہ نہیں جس میں غلام حسین ساجد شائع نہ ہوا ہو۔“نوید صادق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے لطیف انداز میں کہا کہ ”غالب کو تو ڈیڑھ صدی بعد نقاد ملا، مگر مجھے میری زندگی میں ہی مل گیا ہے“۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ نقاد نہیں بلکہ ایک قاری ہیں اور اپنی پہلی کتاب کے موضوعاتی تنوع سے لے کر الگ شناخت کی تلاش کا سفر انہوں نے صلہ و ستائش کے بغیر جاری رکھا۔ انہوں نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تجویز دی کہ سوسائٹی کو ہر سال ادب کی مختلف اصناف پر ایوارڈز کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنا کلام بھی سنایا،اس میں سے ایک شعر دیکھئے۔

آگ احساسِ تحفظ بھی دیا کرتی ہے
گھر کے چولہے سے جو اٹھتا ہے دھواں اچھا ہے

فرخ مجید نے کہا کہ صاحبِ شام کے ادبی اور فکری قد کا اندازہ تو ہمیں انٹرنیٹ کے توسط سے بھی ہوا، جہاں ان کے بے شمار نقوش ثبت ہیں۔ آپ ایک شاندار ماہرِ تعلیم، درجنوں کتابوں کے مصنف اور جدید نظم و غزل کے منفرد و معتبر شاعر ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کی سرپرستی میں ہماری تنظیم مزید پروان چڑھے گی اور نئے افق دریافت کرے گی۔ غلام حسین ساجد کی ادبی قامت پر بات کرتے ہوئے نوید صادق نے کہا کہ ”ستر کی دہائی کے نوجوان کی کتاب”موسم“ سے لے کر”حافظہ“ تک کی شاعری نئے امکانات کی جستجو ہے۔ یہ ایک عمر کی گواہی ہے جو انسانی پرتوں کو کھولتی ہے۔ وہ شاعری کا کلاسیکی آہنگ مجروح نہیں ہونے دیتے، ان کی پنجابی شاعری ان کے ذوق کی اور اردو شاعری جمالیات کی تسکین کرتی ہے۔“ واضح رہے کہ غلام حسین ساجد کے اردو کے 17، پنجابی کے 8، متعدد نثری مجموعے اور یاداشتوں پر مبنی کتاب ”مہاندرے“ بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔

فیصل آباد سے آئے مہمان ارشد عزیز نے اپنے مزاحیہ مضمون سے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا، جبکہ امجد ممتاز نے ایسا نثر پارہ پیش کیا جس میں صاحب ِشام کی کتابوں کے نام اس خوبصورتی سے پروئے گئے تھے کہ اس پر شاعری کا گماں ہوتا تھا۔ امجد ممتاز نے نقاد کی تعریف کو شگفتہ رنگ میں کہا کہ ”بیوی، باس اور نقاد کو کسی صورت بھی مطمئن نہیں کیا جا سکتا!“۔محفل کا رنگ اس وقت مزید نکھر گیا جب بارش کا موسم دیکھ کر سیکرٹری مدثر بشیر نے صاحب ِ شام کا یہ خوبصورت ٹپہ سنایا۔

بوہے، بوہے، بوہے
ساون چڑھ آیا، ہوئے رنگ زویں دے سُوہے

انہوں نے لیاقت علی ناہراکو دعوت دی، جنہوں نے باپ اور بیٹی کے مکالمے پر مبنی اپنی نظم ”میں مرجانی“ پڑھتے ہوئے سماء باندھ دیا،نظم کا آغاز یوں ہوا۔

”بابل جی، میری بات سنو۔۔۔۔ میرے کول بہوو، گل بات کرو“

مدثر بشیر نے آفتاب جاوید کو بلانے سے قبل صاحبِ شام کی بولیاں سنا ئیں، جن میں ایک یہ تھی۔

اگ نچدی پھِرے وچ بیلے
تے لوکی اوہنوں ہیر آکھدے

آفتاب جاوید نے ”غلام حسین ساجد کا گیان“ پڑھنے سے قبل کہا کہ ”غلام حسین ساجد کی جیب میں جو سکے ہیں وہ ہر عہد میں چلیں گے۔“انکے گیان کا آغاز اِن سحر انگیز سطور سے ہوا۔

”یہ بادشاہِ سخن غلام حسین ساجد کا دربار ہے، یہاں لفظ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں“

نمازکے وقفے کے دوران شرکائے مجلس کو باہمی ملاقاتوں اور کتابوں کے تبادلے کا موقع ملا، صاحبِ شام نے اپنی کتاب انتظامیہ کے ارکان راحیل فاروق اور خالد محمود کو پیش کیں۔ بعدازاں سید علی عرفان نے میوزیشنز کے سنگ شو کمار بٹالوی کا کلام ”مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ“ گایا تو شرکاء جھوم اُٹھے۔ نامور شاعرہ صائمہ آفتاب نے صاحبِ شام کی پذیرائی کے بعد اپنا کلام سنایا اور خراج سمیٹا۔ ان کا یہ شعر دِلوں میں اُتر گیا۔

یہ بات آئی سمجھ اس کے پہلے وار کے ساتھ
کہ گفتگو نہیں کرتا کوئی شکار کے ساتھ

تقریب میں ڈاکٹر عباد نبیل شاد، نواز کھرل، ڈاکٹر شاہد اشرف،منظر اعجاز، مرزا عثمان بیگ، فاروق سحر، سینئر صحافی سعید اختر اور صاحبِ شام کی فیملی سمیت اہم شخصیات کی موجودگی محفل کے احترام کو دوچند کر رہی تھی۔ اختتام پر سیکرٹری مدثر بشیر نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور سوسائٹی کے عہدیداروں نے معزز مہمانوں کو شیلڈز اور گلدستے پیش کیے۔ یہ شام بلاشبہ لاہور کی ادبی فضا میں اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button